امریکہ اور بھارت کو خوش کرنے کیلئے جماعتہ الدعوۃ کیخلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے :حافظ سعید

امریکہ اور بھارت کو خوش کرنے کیلئے جماعتہ الدعوۃ کیخلاف پروپیگنڈا کیا جا ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور(وقائع نگار)امیر جماعۃ الدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ سیکولرازم،لبرل ازم اور حقوق نسواں بل کے خلاف تحریک چلانے کی وجہ سے جماعۃ الدعوۃ کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کر کے امریکہ و انڈیا کو خوش کیا جا رہا ہے۔ جماعۃ الدعوۃ نے عدالت نہیں ثالثی نظام بنایا ہے جو قانون و آئین کے عین مطابق ہے۔قر آن و سنت کی روشنی میں علماء کرام فریقین کے فیصلے کرتے ہیں ۔اسلام نے عورت کو وارثت کا حق دیا۔پاکستان کلمہ طیبہ کے نام پر حاصل کیا گیا ملک ہے۔رب سے کیا گیا عہد پورا کریں گے تو ملک امن وامان کا گہوارہ بن جائے گا۔نظریہ پاکستان کے احیاء اور ملک کے بقاء کے لئے بھرپور تحریک چلائیں گے۔پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے والے کبھی کامیاب نہیں ہو ں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکز القادسیہ چوبرجی میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر ہزاروں کی تعداد میں مردو خواتین نے ان کی امامت میں نماز جمعہ ادا کیا۔حافظ محمد سعید نے کہا کہ پاکستان اللہ کی عظیم نعمت ہے۔بیرونی قوتیں یہ چاہتی ہیں کہ پاکستان جس نظریئے پر بنا اس پر قائم نہ رہے اسی لئے وطن عزیز کے خلاف خوفناک سازشیں کی جاتی ہیں۔اگر پاکستان کو سیکولر یا لبرل ہی بنانا تھا تو پھر انڈیا سے علیحدگی کیوں اختیار کی گئی تھی؟انہوں نے کہا کہ حقوق نسواں بل کے نام پر دین اسلام اور پاکستان کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں۔جو لوگ پاکستان میں دین کو برداشت نہیں کرتے وہ چاہتے ہیں کہ ملک سے اسلامیت،معاشرے کا اسلامی رنگ،اسلام کا اعلیٰ ترین خاندانی نظام ختم ہو جائے۔سیاست و معیشت میں سے پہلے ہی اسلام کو نکال دیا گیا ہے۔آئی ایم ایف سے سود پر قرضے لئے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جامع مسجد القادسیہ میں جمعہ پڑھنے والے اس بات کے گواہ ہیں کہ پاکستان کی عزت،عظمت ،وقارکی بات جس قدر ااس منبرسے بیان ہوتی ہے شاید ہی کوئی کرتا ہو۔مرکز القادسیہ میں کوئی عدالت قائم نہیں بلکہ ثالثی ،پنچایتی نظام ہے جو پاکستان کے آئین کے مطابق ہے۔اس نظام میں دونوں فریق آتے ہیں اور علماء کرام فیصلے کرتے ہیں۔قرآن و سنت کی روشنی میں ہونے والے فیصلے لوگ قبول کرتے ہیں۔ثالثی نظام کے فیصلوں سے گھر آباد ہو رہے ہیں۔عورتوں کو وراثت میں انکا حق ملتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلام میں مردوں کے ساتھ عورتوں کو بھی وراثت میں حصہ دیا ہے لیکن انہیں محروم کر دیا جاتا ہے اسی لئے ثالثی نظام میں خواتین زیادہ آتی ہیں اور انکے مسئلے حل ہوتے ہیں۔ ثالثی کے اس نظا م کو ملک بھر میں پھیلانا چاہئے تا کہ لوگوں کے چھوٹے چھوٹے مسئلے حل ہوں۔

مزید :

صفحہ آخر -