جوڈیشل کیسز کی سماعت میں کمی ،تاخیر اور زیر التواء رکھنے کی وجوہات سامنے آگئیں

جوڈیشل کیسز کی سماعت میں کمی ،تاخیر اور زیر التواء رکھنے کی وجوہات سامنے ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور( عامر بٹ سے )اضافی ذمہ داریاں،دور دراز اضلاع میں معائنہ ،عملے کی کمی،اور کام میں عدم توجہ،رواں سال کے 4ماہ بعد ہونے والی فل بورڈ ایجنڈامیٹنگ میں جوڈیشل کیسز کی سماعت میں کمی ،تاخیر اور زیر التواء رکھنے کی وجوہات کھل کر سامنے آگئیں ،سابق ایس ایم بی آر اور موجودہ چیف سیکریٹری پنجاب زاہد سعید نے جوڈیشل کیسز کے حوالے سے کارکردگی رپورٹ طلب کر لی،مزید معلوم ہوا ہے کہ دوران سال 2016کے چار ماہ میں سابق سینئر ممبر پنجاب اور موجودہ چیف سیکریٹری کیپٹن (ر)زاہد سعیدکی زیر نگرانی فل بورڈ ایجنڈہ میٹنگ میں جوڈیشل ممبران کی کارکردگی کے جائزہ کے دوران یہ بات معلوم ہوئی کہ اپنی ریٹائرمنٹ کے قریب ممبر کا چارج سنبھالنے والے جوڈیشل ممبرز کے پاس سٹاف کی انتہائی کمی ہے اس حوالے سے تمام ممبران کی جانب سے متعدد مرتبہ سٹاف کی تعیناتی کے لئے تحریری درخواستیں دی گئیں،اس طرح دور دراز اضلاع میں معائنہ اور پنجاب حکومت کی جانب سے ملنے والی اضافی ذمہ داریاں اور پراجیکٹ بھی اس تاخیر کی وجوہات ثابت ہوئے جبکہ رہی سہی کسر ریونیو ریکارڈ اور دفتری انسپکشن نے نکال دی جبکہ دو سے چار ماہ کے دوران جوڈیشلی ممبرز کی ٹرانسفرتبادلے کے سبب کیسز کی سماعت مکمل نہ ہو سکی،جس کے سبب دوسرے اضلاع سے آنے والے سائلین کو لمبی تاریخیں دینے کا سلسلہ جاری ہے، جوڈیشل عدالتوں میں زیر سماعت یکم اپریل تک 2016 کے کیسز کے اعدادو شمار کے مطابق ریونیو کورٹس میں ٹوٹل زیر سماعت کیسز کی تعداد7709 تھی جن میں سے سابق سینئر ممبر بورڈآف کیپٹن ریٹائرڈ زاہد سعید کے پاس زیر سماعت ٹوٹل 385کیسزز کی سماعت رک گئی ہے جس کی وجہ سے سائلین شدید پریشانی اور ذہنی کوفت میں مبتلا ء ہو چکے ہیں اسی طرح ممبر جوڈیشل 1کے پاس زیر سماعت ٹوٹل 1273کیسزز میں سے31کیسزز کی سماعت ہوئی جن میں سے 48کیسزنئے دائر کئے گئے جبکہ 6کیسز کو دوسرے ممبرز کو ٹرانسفر کر دیا گیا اس طرح 1284کیس زیر التواء تھے ،ممبر جوڈیشل 2کے پاس ٹوٹل زیر سماعت کیسزز 569تھی جس میں ماہ اپریل تک کسی بھی کیس کی سماعت نہ کی گئی جبکہ 54نئے کیسز آنے سے ٹوٹل زیر التواء کیسز کی تعداد 623ہے ،اسی طرح ممبر جوڈیشل 3 کے پاس زیر سماعت کیسزز کی تعدا د668تھی جن میں سے 74کیسزز کی سماعت کی گئی جبکہ 88کیسز نئے دائر ہونے کیساتھ زیر التواء کیسزز کی تعداد682تھی ،ممبر جوڈیشل 4 کے پاس ٹوٹل زیر سماعت کیسز422تھے جن میں سے43کیسزز کی سماعت کی گئی 72کیسز نئے دائر ہونے اور 2کیس دوسرے ممبرز کو ٹرانسفر کرنے سے 499 کیس زیر التواء تھے،اسی ممبر جوڈیشل 5 کے پاس ٹوٹل زیر سماعت کیسزز کی تعداد193تھی جن میں سے 10کیسز کی سماعت کی گئی، 19کیسز نئے دائر ہونے سے زیر التواء کیسز کی تعداد 202 تھی ، چیف سیٹلمنٹ کمشنر کے پاس 908کیسز میں سے ماہ اپریل تک صرف 14کیسز کی سماعت ہوئی ،اس طرح 18کیس نئے دائر ہونے سے ٹوٹل زیر التواء کیسز کی تعداد 912، ممبر جوڈیشل کی عدالت میں511 کیسز میں سے 20کیسز کی سماعت ہوئی جس میں سے 29کیسز نئے دائر ہونے سے زیر التواء کیسز کی تعداد 520ہے ممبر جوڈیشل7 کے پاس ٹوٹل زیر سماعت کیسزز کی تعداد545تھی جن میں سے 15کیسز کی سماعت, 13 کیسز کو متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کو بھیجنے کے ساتھ 133 کیس نئے دائر ہونے سے ٹوٹل زیر التواء کیسزکی تعداد 630تھی ، اس طرح ممبر جوڈیشل 8کے پاس زیر سماعت 342کیسز میں سے 7کیسز کی سماعت ہوئی جبکہ 33کیس نئے دائر ہونے اور ایک کیس دوسرے ممبر کو ٹرانسفر کرنے کے بعد ٹوٹل 367کیس زیر التواء تھے ، اسی طرح ممبر کالونیز کے پاس ٹوٹل زیر سماعت کیسز کی تعداد 1275 تھی جن میں سے 65کیسوں کی سماعت میں 62کیسوں کو متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کو ریفر کرنے کے ساتھ زیر التواء کیسز کی تعداد 1381 ہے جبکہ 1151زیر التواء ہیں اسی طرح ممبر کونسلڈیشن کے پاس ٹوٹل زیر سماعت کیسزز کی تعداد 511تھی جن میں سے 4کیسز کو متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کو ریفر کرنے کے ساتھ60 کیس نئے دائر ہونے اور ماہ اپریل تک 18کیسز کی سماعت سے ٹوٹل زیر التواء کیسز کی تعداد 549ہے ،ذرائع میں موجو؂دہ حالات میں سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کا چارج سنبھالنے والے ممبرز کالونی پنجاب جواد رفیق ملک کی عدالت میں سب سے زیادہ کیسز کی تعداد زیر التواء ہے جو کہ ان کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے ،موجودہ حالات میں چیف سیکریٹری پنجاب نے بھی جوڈیشلی کیسز کی پراگرس رپورٹ طلب کر لی ہے اور اس حوالے سے سخت ہدایا ت بھی جاری کی جارہی ہیں ۔

مزید :

صفحہ آخر -