اوبامہ انتظامیہ نے امریکی فوج کو چین کی مخالفت سے روک دیا

اوبامہ انتظامیہ نے امریکی فوج کو چین کی مخالفت سے روک دیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


واشنگٹن(اظہر زمان،بیوروچیف) بحرالکاہل میں امریکی بحریہ کے ایک چوٹی کے کمانڈر نے چین کی اپنے جنوبی سمندر میں کارروائیوں کے خلاف سخت فوجی ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے لیکن وائٹ ہاؤس نے اسے خاموش رہنے کی تلقین کی ہے اس خطے میں چین کے اقدامات پر ناپسندگی کے باوجود امریکہ تجارت اور ایٹمی ہتھیاروں کے معاملات پر اس کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کررہا ہے مبصرین کے مطابق امریکہ اپنی سٹریٹیجی کے مطابق چین سے بگاڑ پیدا کرنے کے حق میں نہیں ہے اور وائٹ ہاؤس کی طرف سے امریکی کمانڈر کو خاموش رہنے کی تلقین اس بات کا ثبوت ہے۔امریکی بحریہ کے کمانڈر ہیری ہیری نے وائٹ ہاؤس کو پیغام بھیجا تھا کہ فلپائن کے دارالحکومت منیلا سے تقریباً140میل کے فاصلے پر چین اپنے جنوبی سمندر میں جو مصنوعی جزیرے تعمیر کررہا ہے امریکہ کو اسے فوجی طاقت کے ذریعے روکنا چاہئے۔صدر اوبامہ کی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر سوسن رائس نے فوری طور پر اس کی سر زنش کرتے ہوئے جواب دیا ہے کہ وہ اپنے خیالات اپنے پاس ہی رکھے۔’’نیوی ریٹائرڈ‘‘کیپٹن جیری ہنیڈرکس نے کہا ہے کہ اوبامہ انتظامیہ اپنے مدت کے اختتام پر چین سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرنا چاہتی۔ویسے بھی جوہری ہتھیاروں کی سلامتی کے حوالے سے چین امریکہ سے بھرپور تعاون کررہا ہے اور حالیہ سربراہ کانفرنس میں چینی صدر کی شرکت اس امر کا ثبوت ہے۔

مزید :

صفحہ اول -