قومی اسمبلی ،پانامہ لیکس کی تحقیقات شریف خاندان سے شروع کی جائے :اپوزیشن

قومی اسمبلی ،پانامہ لیکس کی تحقیقات شریف خاندان سے شروع کی جائے :اپوزیشن

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


اسلام آباد(این این آئی)قومی اسمبلی میں پانامہ پیپرز کے معاملہ پر بحث گزشتہ روز بھی جاری رہی، وزیرمملکت شیخ آفتاب نے وزیراعظم کے خاندان کیخلاف منفی مہم پرافسوس کااظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ اس خاندان کی برصغیر کی تقسیم سے پہلے کاروبار شروع کرنے کی تاریخ موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ مثبت چیز کو تو ڈسکس ہی نہیں کیا جاتا لیکن منفی چیزوں کو بہت اچھالا جاتا ہے یہ خاندان پاور میں آنے کے بعد کوئی انڈسٹریل خاندان نہیں بن گیا بلکہ یہ خاندان 1935 سے انڈسٹریل خاندان ہے ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے آپ کو اندھیروں میں دھکیلنا چاہتے ہیں ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہو گئی ہیں مہنگائی کا طوفان تھم گیا ہے اگر آپ کو قائداعظم کے بعد اگر کوئی لیڈر مل گیا ہے میاں نواز شریف کی شکل میں تو اس کی قدر کریں ۔ سی پیک کو سبوتاژ کرنے کیلئے وزیراعظم پر گھناؤنے الزامات لگائے جا رہے ہیں آج بھی اگر ملک میں ریفرنڈم کرالیا جائے 90 فیصد عوام میاں صاحب کو ووٹ دیں گے یہ کمیشن ضرور بنے گا اور ہم اس کے روبرو پیش ہوں گے ۔ اس حکومت پر کرپشن کا کوئی چارج نہیں ہے اگلی حکومت بھی انشاء اللہ ہماری ہی ہو گی۔ شازیہ مری نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ آج وزیراعظم پر یہ الزام لگ چکا ہے کہ انہوں نے اپنا اور اپنے خاندان کے پیسے کو چھپایا ۔ وہ ہیڈ آف دی سٹیٹ ہیں بحیثیت پاکستانی یہ ہمارے سب کیلئے بہت بڑی بات ہے اس چیز کو ٹیکس چوری یا منی لانڈرنگ جو مرضی کہہ لیں ۔ہمارے وزیراعظم نے عدالت کے حکم پر کرسی تک چھوڑ دی یہ کیا بات ہوئی کہ ہم کمیشن کے سامنے ثبوت لے کر جائیں آپ سے دنیا سوال کر رہی ہے اس کا جواب دیں کونسے اندھیرے آپ نے دور کئے ہیں سندھ اور بلوچستان میں 18-18 گھنٹے لوڈ شیڈنگ آج بھی ہو رہی ہے ۔ آپ کچھ بچوں کو کلیئر کرنے کیلئے سرکاری خزانے سے پریس کانفرنسیں کر رہے ہیں آپ کو تو خود کو احتساب کیلئے پیش کرنا چاہئے تھا 8 ماہ سے ڈاکٹر عاصم گرفتار ہیں آج تک یہ بھی نہیں پتہ چل سکا کہ ان پر الزام کیا ہے کراچی میں ایک سیلون پر نیب کے افسر نے چند ملازمین کے ساتھ حملہ کیا جس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بیوی کا نیکلس وہاں رہ گیا تھا نیب کو ادارے کی حیثیت سے کام کرنا ہو گا نہ کہ کسی کی ڈکٹیشن پر اس کی فرانزک انکوائری کرائی جائے ۔ وزیراعظم خدارا عوام کے پیسے سے پریس کانفرنس کروانا بند کروائیں۔سید آصف حسنین نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 62 اور 63 کہاں چلا گیا ؟ اگر گوشواروں میں آف شورز کمپنیاں شامل نہ ہیں تو پھر یہ کیسے تصور کر لیا جائے کہ وہ ملک کی دولت کا استعمال ایمانداری سے کریں گے ۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ ہم کمیشن بنا دیتے ہیں کمیشن تو ماضی میں بھی بنے آج میں پہلی بار سن رہا ہوں کہ جس پر الزام ہو وہ خود ہی کمیشن بنا رہا ہے اس ایشو پر کمیشن بنانا اور اس میں کن لوگوں کو شامل کرنا ہے اس کا فیصلہ اس ایوان کو کرنا ہو گا ۔ وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا کہ پانامہ لیکس میں مسلم لیگ ن کے وزیراعظم یا ان کے بارے میں کوئی ایسی بات نہیں لکھی کہ جس سے پاکستان کے قانون ، نظام یا جمہوریت پر کوئی ضرب لگی ہو آف شورز کمپنی میں سرمایہ کاری کرنا کوئی بری بات نہیں جن دونوجوانوں کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ وہ ملک میں بزنس نہیں کرتے ان میں سے ایک کو 1999 ء میں جلا وطن کیا اور دوسرے کو پاکستان آنے نہ دیا گیا ۔ نصیر اللہ بابر نے بھی میاں شہباز شریف پر الزام لگایا اور بعد میں انہوں نے معافی مانگی۔ الیکشن کمیشن میں آج بھی عمران خان پر چندے میں خورد برد کا کیس چل رہا ہے عمران خان وہاں کیوں پیش نہیں ہو رہے اور عدالت کے پیچھے کیوں چھپ رہے ہیں ؟ میں شوکت خانم کے چندے کی بات نہیں کرتا کیونکہ شوکت خانم کی بات کی جائے تو پھر کینسر کے مریضوں کو ڈھال بنا لیا جاتا ہے چندے کے پیسے کھا گئے یہ میرے لیڈر کی جرات ہے کہ جو اپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہے۔ شیر اکبر خان نے کہا کہ ملک میں روزانہ 12 ارب کی کرپشن ہو رہی ہے کرپشن کی روک تھام کیلئے اے پی سی بلائی جائے انسانی حقوق کی تنظیمیں کیوں خاموش ہیں ملک آج دیوالیہ ہو چکا ہے کرپشن ختم نہ کرنے والے اداروں کیخلاف بھی کارروائی کی جائے ہمارے حکمران عوام کو مصیبت میں مبتلا کر کے خوش ہوتے ہیں۔سید نوید قمر نے کہا کہ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ پانامہ لیکس ایک سازش ہے اس حکومت کیخلاف جو کہ اپوزیشن یا کسی اور طرف سے ہوئی ہے کاؤنٹر اٹیک کر کے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں ، حکومت یہ سمجھ رہی ہے کہ یہ ایشو ختم ہو جائیگا اور ہم آگے بڑھ جائیں گے یہ ختم ہونے والا معاملہ نہیں یہ کسی وکیل کے دفتر کے کاغذات نہیں ہیں اگلے دنوں میں مزید حقائق سامنے آئیں گے یہ کہہ دینا کہ وزیراعظم نے کمیشن قائم کر دیا ہے اس پر سب متفق ہو جائیں یہ ان کی غلطی ہے بدقستمی سے ہمارے ملک میں اس قسم کے کمیشن ماضی میں بھی بنے لیکن اس کمیشن سے کچھ حاصل نہ ہوا اور نہ ہی کمیشن کے سلسلہ میں کسی کو سزا جزا ہوئی۔ حقیقت سامنے آئی ہے آف شور کمپنی میں وزیراعظم کے خاندان کے نام سامنے آئے ہیں اور انکا پیسہ وہاں پڑا ہے ان پیسوں کو جائز ثابت کرنا بھی وزیراعظم کا کام ہے پہلے بحث کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی اب جب اجازت مل گی ہے تو میڈیا پر اس بحث کو بلیک آؤٹ کر دیا گیا ہے۔ بحث کو چھپانے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا ۔جہانگیر ترین نے کہا کہ اگر ایسا کمیشن بنایا گا جس پر اپوزیشن متفق نہ ہوئی تو اس کا کوئی فائدہ نہ ہو گا ایسا کمیشن ہو جو صرف وزیراعظم اور انکی فیملی پر الزامات کی فوری اور جلد انکوائری کرے باقی 200 لوگوں کی انکوائری الگ کریں چاہے ایف بی آر کے ذریعے ہی ہو جائے اگر پیسہ جائزہ ہے اور جائزطریقے سے باہر گیا ہے تو اچھی بات ہے اس کی انکوائری ہونی چاہئے کہ پیسہ کہاں سے آیا اور کیسے باہر گیا ؟ انکوائری اتفاق فاؤنڈری سے شروع کی جائے ۔ یہ بتایا جائے کہ جب وہ حکومت میں آئے تو اس کی بیلینس شیٹ کیا تھی ؟ شوگر ملز نے کتنا منافع کمایا یہ بھی بتایا جائے ؟ کہا یہ جاتا ہے کہ ان شوگر ملز نے آج تک ایک دھیلا نہیں دیا یہ پیسہ باہر کیسے گیا کسی بینک کے ذریعے بھی گیا ہو گا، کاروبار کا ریکارڈ سامنے لایا جائے اگر ریکارڈ سامنے نہ لایا گیا تو مطلب یہ ہے کہ اثاثے چھپائے گئے اور ٹیکس چوری کی گئی ۔ مہر بخاری نے ٹی وی پر دکھایا ہے کہ چند ہزار ٹیکس ماضی میں دیتے رہے ہیں ۔ ضمنی الیکشن جیتے کی بات کی جا رہی ہے لودھراں میں پوری سرکاری مشینری کے باوجود ان کو 40 ہزار ووٹوں سے شکست ہوئی اور اب وزیرآباد میں16 سو سے بمشکل جیتے اورNA122 میں بھی بہت معمولی مارجن سے جیتے ۔رضا حیات ھراج نے کہا کہ 2002 سے 2007 تک حکومت میں تھا اور وزیر رہا اور اگر میاں صاحب کی کوئی ٹیکس چوری ہوتی تو ہم ان کو کبھی spare نہ کرتے ہر بات پر دھرنا دینے کی دھمکی دی جاتی ہے قومی مسائل پر کیوں دھرنا نہیں دیتے اگر ہماری نیت یہ ہے کہ ایک شریف آدمی کو ٹارکٹ کرنا ہے تو قابل افسوس ہے ۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ کل سے ایوان میں ہونیوالی بحث کو پی ٹی وی پر کوریج نہ دینے کی مذمت کرتا ہوں آف شور کمپنیوں کے بنانے کی وجوہات اور پیپر کہاں سے آیا بتایا جائے ۔ میاں عبد المنان نے کہا کہ ہم نے فیکٹ اینڈ فگر کے بنیاد پر بات کی شریف خاندان کی ملوں کا سالانہ آڈٹ ہوتا ہے عمران خان نے مجھ سے بھی کم ٹیکس دیا ہے گاڑی میں پھرتا ہوں اور وہ پرائیویٹ جیٹ میں پھرتے ہیں ۔مولانا امیر زمان نے کہا کہ وکی لیکس یا پانامہ لیکس ہو ہم ان پر یقین نہیں رکھتے یہ وقت کا ضیاع ہے ایبٹ آباد کمیشن اصغر خان کمیشن کی رپورٹس پر آج تک عمل درآمد نہیں ہوا اور ملوث لوگوں کیخلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔شہر یار آفریدی نے کہا کہ کل عمران خان کی تقریر کے دوران سپیکر صاحب کا رویہ قابل تحسین تھا جس کو میں سراہتا ہوں پڑھے لکھے جوانوں کو جب جابز نہیں ملیں گے تو وہ دہشتگردی کی طرف راغب ہوتے ہیں ۔آرمی ، بیورو کریٹ ایک دوسرے کا دفاع کرتے ہیں لیکن ہم سیاستدان ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے ہیں اور تن قید کرتے ہیں ، ہمارے ادارے سوئے ہیں ، آنیوالا مستقبل پی ایم کی طرف دیکھ رہا ہے۔ ڈاکٹر عباد اللہ نے کہا کہ کے پی کے میں سیاسی نابالغوں کی حکومت ہے جس کی وجہ سے 85 فیصد پی ایس ڈی پی لیپس ہو چکی ہے، ہزاروں لوگ کے پی کے میں حالیہ بارشوں اورسیلاب سے متاثر ہوئے ہیں لیکن صوبائی حکومت نے کوئی اقدامات نہیں کئے، عمران صرف یہ سوچتے ہیں کہ ان کی باری کب آئیگی اور وہ کب وزیراعظم بنیں گے،خدا را کے پی کے کی حالت پر رحم کریں، عمران خان یا پرویز خٹک نے متاثرہ علاقوں کا دورہ تک نہیں کیا، چودھری اشرف نے کہا کہ جہانگیرترین صاحب کے والد ڈی آئی جی کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آیا؟ بتایا جائے کہ میاں صاحب اور ان کے بچوں نے کس قانون کی خلاف ورزی کی ، قانون میں ہے کہ الزام لگانے والے کو الزام ثابت کرنا ہے، پہلے بھی ان کو جوڈیشل کمیشن میں سبکی ہوئی ہے اس کے فیصلے کو بھی یہ نہیں مانتے اور اگر اب بھی ہم جوڈیشل کمیشن بنا دینگے یہ فیصلہ نہیں مانگیں۔نعیمہ کشور نے کہا کہ مالا کنڈ میں جو ٹیکس لگایا گیا اس پر بحث کروائی جائے ، شوکت خانم کے پیسے جو ملک سے باہر گئے ہیں ان کی بھی انکوائری ہونی چاہئے، کچھ لوگ شارٹ کٹ کے چکر میں ہیں، چوہے مار کر کوئی وزیر اعظم نہیں بنتا، انکوائری کمیشن بننے سے پہلے ہی اعتراض کرنا ٹھیک نہیں ہے ۔

مزید :

صفحہ اول -