صوبوں کی ترقیاتی فنڈز کی 40فیصد رقم ادا کر رہی ہے ، احسن اقبال

صوبوں کی ترقیاتی فنڈز کی 40فیصد رقم ادا کر رہی ہے ، احسن اقبال

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات چوہدری احسن اقبال نے کہا ہے کہ صوبوں کو ترقیاتی فنڈز کے سلسلے میں 40 فیصد رقم کی ادائیگی کی جاچکی ہے اور بقایا رقم آئندہ تین ماہ میں ادا کردی جائے گی، اقتصادی راہداری منصوبہ کیلئے سندھ سمیت دیگر صوبوں کی تجاویز چین کی ورکنگ کمیٹی کو بھیج دی ہے،متبادل ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کے حوالے سے وفاقی حکومت کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کو ترجیح دے رہی ہے،پانامہ لیکس کے معاملے پر وزیر اعظم نے کمیشن کا اعلان کردیا ہے اب اس پر بحث ختم ہوجانی چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعہ کے روز سندھ سیکریٹریٹ کے کمیٹی روم میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر ان کے ہمرا ہ سندھ کے وزیر خزانہ سید مراد علی شاہ،خیبر پختونخوا، بلوچستان، اور گلگت بلتستان کے وزراء خزانہ بھی موجود تھے، احسن اقبال نے کہا کہ آج کے وفاق اور صوبائی حکومتوں کے حوالے سے اجلاس میں کروڑوں اور اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر ملکر کام کرنے کے سلسلے میں مختلف تجاویز پرغور کیا گیاہم نے صوبوں سے ان کے وسائل کے مانگی ہیں ،ترقیاتی منصوبوں کے سلسلے میں ملکر ریسرچ کریں گے ، اس کے علاوہ اجلاس میں آئندہ کے مالی سال کے ترقیاتی بجٹ کے حوالے سے بھی بات کی گئی۔18ویں ترمیم کے بعد یہ ضروری بھی ہوگیا ہے وفاقی حکومت اور صوبے ترقیاتی منصوبوں پرملکر کام کریں اور ملک کی ترقی میں صوبوں کا کردار بڑھ گیا ہے ویسے بھی ترقی کے احداف حاصل کرنے کے سلسلے میں ایک بین الاقوامی سطح کے مستحکم ایجنڈے پر دستخط کرچکے ہیں، وفاقی وزیر ترقیات و منصوبہ بندی نے کہا کہ ہم کسی بین القوامی منصوبے کے تحت ترقیاتی منصوبوں کی رفتار بڑھانے کے سلسلے میں کوششیں نہیں کر رہے بلکہ یہ ہمارے ملک کی ترقی و خوشحالی کے لئے ٖضروری ہے اس سے لوگوں کو روزگار کے مواقع حاصل ہوں گے،ہماری حکومت توانائی کے شعبے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے،2018ء تک بجلی کی پیدا وار 10ہزار میگاواٹ شروع ہوجائے گی، اوراس کے دس سال کے بعد بجلی کی پیداوار25ہزار تک پہنچ جائے گی،اس کے علاوہ ڈسٹری بیوشن کے نظام کی بہتری کے لئے بھی تین ہزار ڈالر کی رقم رکھی گئی ہے۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ دسمبر 2015کے ترقیاتی فنڈز کے حوالے سے شیڈول کے مطابق صوبوں کو چالیس فیصد رقم کی ادائیگی کی جاچکی ہے، اور بقایا رقم آئندہ تین ماہ میں جاری کردی جائیگی، وفاقی کی کوشش ہے صوبوں کے ترقیاتی کام تاخیر کا شکار نہ ہوں،اقتصادی راہداری منصوبے کے سلسلے میں تمام وسائل اور اقدامات بروئے کار لائے جائیں گے،پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے لئے سندھ سمیت صوبوں کی تجاویز چین کی ورکنگ کمیٹی کو بھجوادی گئی ہیں۔سی پیک منصوبہ ایک لمبے عرصے کا منصوبہ ہے۔ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ سولر سمیت بجلی حاصل کرنے کے دیگر منصوبوں پر وفاقی حکومت نے پابندی عائد نہیں کی ایسے توانائی کے منصوبوں میں یکسانیت نہیں تھی اس میں دیگر مسائل کا سامنا تھا اس ہی وجہ سے وفاقی حکومت کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کو خصوصی ترجیح دے رہی ہے،سولر دیگر بجلی کے منصوبے ان ممالک میں کامیاب ہیں جہاں پہلے سے بجلی موجود ہے ہمارے ہاں تو بجلی موجود ہیں نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ کے پی ٹی کے معاملات کو سندھ حکومت اور سیکیو رٹی کے ادارے دیکھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کیٹی بندر اور دیگر منصوبوں کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ نے وفاق کو جوسفارشات بھیجی ہیں ان کو اقتصادی راہدری منصوبے میں شامل کرنے کے لیے ورکنگ کمیٹی کو بھیج دیا گیا ہے جو اس کا جائزہ لے کر فیصلہ کرے گی ۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پانامہ لیکس کے معاملے پر تحقیقات کے لیے کمیشن بنادیا گیا ہے اس پر بحث کے بجائے رپورٹ کا انتظار کیا جائے جس کو عدالتی کمیشن بنوانا ہے وہ عدالت سے رجوع کرسکتا ہے ۔اس معاملے پر وزیراعظم آئس لینڈ کے وزیراعظم کا استعفیٰ ان کا ذاتی معاملہ ہے ۔اس کوپاکستان کی سیاست سے نہ جوڑا جائے ۔ان پر پہلے بھی کئی معاملات انگلیاں اٹھائی گئیں ہیں ان کا استعفیٰ دباؤ کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔کوئی پاکستان میں کام کرے یا بیرون وہ اس کا اپنا ذاتی معاملہ ہے ۔انھوں نے کہا کہ ٹیکس محصولات کو بڑھنے کے بعد ترقیاتی فنڈز میں اضافہ کیا جائے گا ۔انھوں نے کہا کہ ہما ری ترجیح احتجاجی سیاست نہیں بلکہ ملکی ترقی ہونا چاہیے۔1999میں جب ہماری حکومت کا خاتمہ کیا گیا تو ملکی ترقی کے اہداف میں کمی آئی اور جب ہم نے دوبارہ حکومت سنبھالی تو معاشی مسائل ورثے میں ملے جن کو بتدریج حل کیا جارہاہے ۔انھوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہدری منصوبہ پاکستان کی معاشی ترقی کی علامت ہے اس کو ہر حال میں مکمل کیاجائے گا ۔اس منصوبے پر تمام صوبائی حکومتوں کوساتھ لے کر چلیں گے ۔اس موقع پر وزیرخزانہ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ سولر اور ونڈ انرجی منصوبوں پر صوبائی حکومت کے تحفظات پر وفاق سے بات چیت ہوئی ہے امید ہے کہ ان کو حل کیا جائے گا ۔