عدالتی نظام میں شفافیت اور فعالیت

عدالتی نظام میں شفافیت اور فعالیت
عدالتی نظام میں شفافیت اور فعالیت

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

چشمِ فلک نے عجب نظارہ دیکھا کہ سٹیٹس کو کے مارے ہوئے نظام میں بھی جان پیدا ہو سکتی ہے۔پنجاب کے عدلیہ کے سربراہ انتہائی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل جج ہیں اور ماضی قریب میں بھی لاہور ہائی کورٹ کے سنےئر جج ہونے کی حیثیت سے اُنہوں نے عدالتی نظام کو کمپیوٹرائزڈ کرنے اورلاہور ہائی کورٹ میں سیکورٹی کے انتظا مات کے حوالے سے انتہائی فعال کردار ادا کیا ہے۔جناب منصور شاہ صاحب کی شہرت ایک انتہائی اچھی شخصیت کی ہے۔ اِس وقت جب قوم دہشت گردی معاشی مسائل کا شکار ہے اور عدالتی نظام انتہائی بوسیدہ ہوچکا ہے۔ لوگ عدالتوں میں انصاف کے لیے جانے سے کتراتے ہیں۔ دیوانی مقدمات تیس تیس سال تک چلتے ہیں۔ جرائم کی شرح میں بے انتہاء اضافہ ہونے کی وجہ بھی یہ ہی ہے کہ انصاف کے ایوانوں میں انصاف نہیں ہے۔اچانک سٹیٹس کو میں جو سوراخ جناب جسٹس منصور علی شاہ صاحب نے کردیا ہے۔ اِس سے دیکھائی دیتا ہے کہ کہ یہ کسی دیوانے کی بڑھک نہیں ہے بلکہ یہ انتہائی پسے ہوئے عوام کو انصاف دلانے کی جانب ایک انقلابی قدم ہے۔ماضی قریب میں چھ ماہ کے لیے جناب جسٹس منظور ملک صاحب نے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی ذمہ داریاں انجام دی تھیں۔ اور یقینی طور پر محسوس ہوا تھا کہ اگر کوشش کی جائے تو کچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔ ماتحت عدلیہ میں ٹاوٹوں کی بھرمار، ماتحت عدلیہ کے عملے کی کرپشن پر یقینی طور پر چیف جسٹس صاحب کی نظر ہو گی اور وہ اِس حوالے سے اپنے عزم کا اظہار کر چکے ہیں۔عدلیہ کے ملازمین چپڑاسی سے لے کر ججز تک تمام عملے کی جائیدادوں کا ریکارڈ تیار کیا جائے۔ اور انتہائی پیشہ ورانہ اور ایماندار جوڈیشل افسران پر مشتمل ایک انتیلی جنس ونگ ہونا چاہیے جو خصوصی طور پر ماتحت عدلیہ کے ماتحت عملے کی جانب سائلین کو جو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اُسکا تدارک کرے۔ چیف جسٹس صاحب نے جو لب و لہجہ اختیار کیا ہے وہ ایسے قائد کا ہے جسے حالات کا ادراک ہے۔محترم چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے جب سے اپنا عہدہ سنبھالا ہے اُس وقت سے وہ عدالتی نظام کی بہتری کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ اُن کی جانب سے انتظامی معاملات میں بہتری کے لیے ایسے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں کہ جس سے سائلین اور وکلاء اور ججز تینوں اسٹیک ہولڈرز کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ماتحت عدلیہ کے تمام نظام کو کمپیوٹرائزڈ کرنا اور جعلی سائلین و جعلی وکلاء کی روک تھام کرنا۔ یقینی طور پر ایسے اقدامات ہیں کہ قوم جناب چیف جسٹس کی ممنون ہے۔جناب چیف جسٹس کا یہ کہنا کہ اِس نظام سے بہت سی تکالیف کا ازالہ ہوگا۔ اور عوام کو انصاف کی دستیابی میں تیزی آئی گی۔ سب سے بڑی بات یہ کہ جناب چیف جسٹس کا کہنا کہ اِس عدالتی نظام کے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا بڑے پیمانے پر استعمال عدالتی نظام میں بنیادی خرابیوں کو دور کردے گا ۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ عدلیہ میں انٹرپرائز آئی ٹی سسٹم جسٹس سیکٹرکیلئے گیم چینجر ثابت ہوگا۔ وکلاء اور سائلین کو گھر بیٹھے تمام معلومات میسر ہونگی‘ فرد نہیں ادارے اہم ہوتے ہیں‘ کوئی بھی ادارہ روڈمیپ کے بغیر نہیں چل سکتا جس کے لئے ریسرچ اور ڈویلپمٹ کا شعبہ ناگزیرہے۔ انٹرپرائز آئی ٹی سسٹم ایک موثر اور مربوط نظام ہے جس کا سائلین کو بروقت انصاف کی فراہمی میں بڑا کلیدی کردار ہوگا۔ پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں نئے انٹرپرائز لیول آئی ٹی سسٹم کی لانچنگ کے حوالے سے تقریب سے خطاب میں چیف جسٹس نے کہا کہ کسی بھی قسم کے ریفارمز کی کامیابی کیلئے سارے سٹیک ہولڈر کا ایک پیج پر ہونا بہت ضروری ہے۔ میری خوش قسمتی ہے کہ انٹرپرائز آئی ٹی سسٹم کے معاملے پر تمام سٹیک ہولڈرز میرے ساتھ ہیں۔ 1995ء میں پہلی بار ہائیکورٹ میں کمپیوٹر آیا تو یہ اس وقت کے لحاظ سے ایک انقلابی تبدیلی تھی اور آج ہم پورے عدالتی نظام کو کمپیوٹرائزڈکرنے جا رہے ہیں۔ موجودہ نظام سے بدعنوانی کے امکانات اور یہ بے یقینی ہے کہ مقدمہ لگے گا یا نہیں۔ ریکارڈ بے ہنگم حالت میں پڑا ہے لیکن انٹرپرائز سسٹم کی بدولت پورے ریکارڈ کو ایک نئی شکل دی جا رہی ہے۔ اس سے نہ صرف وکلاء کیلئے آسانی ہو گی بلکہ اس ’’بابے‘‘ کی زندگی بھی بدل جائے گی جو حصول انصاف کی غرض سے عدالتوں کے چکر لگاتا ہے۔ ہمارا موجودہ سافٹ ویئر ہائیکورٹ اور ضلعی عدلیہ کے کیسوں کا ڈیٹا نہیں سنبھال سکتا تھا۔ فائلیں لانے اور لے جانے میں بھی بڑی خرابی ہوتی ہے۔ جو اس سسٹم کے بعد ختم ہو جائیں گی۔ وکلا کی آسانی کے لئے کیسز کی ای فا ئلنگ ممکن ہو سکے گی۔ وکلا کا سی سی نمبر ختم کرکے شناختی کارڈ کا نمبر استعمال ہوگا۔ کوئی وکیل دوسرے وکیل کی جگہ پیش نہیں ہوسکے گا۔ وکیل اور سائل دونوں کو کیس کے سٹیٹس کی اطلاع ایس ایم ایس اور ای میل کے ذریعے موصول ہو جائے گی اور وکلاء اپنے کیسوں کی تعداد گھر بیٹھے دیکھ سکیں گے۔ پولیس نے جتنا کسی ملز م کا ڈیٹا اکٹھا کیا ہے وہ ہمیں مل گیا۔ اب جج کی عدالت میں ایک ملز م کا مکمل ڈیٹا حاصل ہوگا ہے۔ یہ ایک مربوط نظام ہے جس سے سب کو فائدہ ہو گا۔ عدالت عالیہ میں حکم امتناعی اور اراضی کے کیسز کی تعداد کی مکمل دستیابی ہوگی۔وکیل کی سپریم کورٹ مصروفیت کا پتہ چل جائے گا جس سے کیس کو کال کرنے سمیت دیگر قباحتوں سے بچا جاسکے گا۔ عدالتوں کے چکر نہیں کاٹنا پڑیں گے۔ لاہور ہائیکورٹ میں پبلک انفارمیشن افسر نامزد کر دیا ہے۔ ہر معاملے میں شفافیت چاہتے ہیں۔ لیکن اس بات کا خیال رکھیں کہ جج صاحبان کی ذاتی زندگی کے بارے میں کوئی انفارمیشن یاسوال نہیں پوچھا جا سکتا۔ ہمارے پاس کوئی فیڈ بیک رپورٹنگ سسٹم نہیں تھا جس کے لئے روبوٹ کال لانچ کی جا رہی ہے۔ ایم آئی ٹی کا شعبہ مکمل طور پر تبدیل کیا جارہا ہے۔ انسپکشن جج اگر شکایت پر کارروائی نہیں کرتا تو پندرہ دن بعد شکایت چیف جسٹس کے پاس آجائے گی۔ جوڈیشل افسروں پر کام کا بوجھ ہی نہیں ڈالنا بلکہ ان کی فلاح و بہبود بھی مد نظر رکھنا ہے۔ ادارے کی مضبوطی کے لئے احتساب ضروری ہے‘ بغیر شفاف احتساب کے ادارہ اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہو سکتا۔
چیف جسٹس کا خطاب اِس بات کا مظہر ہے کہ وہ اِس نظام میں موجود تمام تر خرابیوں سے آگاہ ہیں اور ہر صورت عدالتی نظام کو فعال بنانا چاہیتے ہیں۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں کرپشن کی انتہا ہوچکی ہے وہاں پر عدالتوں میں لوگ جاتے گھبراتے ہیں کہ انصاف نہیں ملے گا۔ ٹاؤٹ مافیا کا عمل دخل ماتحت عدلیہ کے اہل کاروں کی لوٹ مار کے خاتمے کے لیے سید منصور علی شاہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے اقدامات قابل تحسین ہیں۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -