کالا باغ ڈیم کی مخالفت۔ ملک دشمنی ؟

کالا باغ ڈیم کی مخالفت۔ ملک دشمنی ؟

اللہ تعالیٰ نے مسلمانان برصغیر کو قائداعظمؒ جیسا دور اندیش لیڈر عطا فرما دیا جنہوں نے اپنی فہم و فراست اور جہد مسلسل سے مسلمانوں کو انگریزوں کی غلامی اور ہندوؤں کے امکانی تسلط سے نجات دلائی ۔ مسلمانان برصغیرنے قائداعظمؒ کی ولولہ انگیز قیادت میں آزاد وطن کے حصول کیلئے بے پناہ قربانیاں دیں۔ مشاہیر تحریک آزادی پاکستان کو اسلامی جمہوری فلاحی ملک بنانا چاہتے تھے۔ 14 اگست 1947ء کو پاکستان معرض وجود میں آیا تو مسلمانوں کو اپنے خواب پورے ہوتے دکھائی دینے لگے۔ پاکستان ترقی کی منازل طے کر رہا تھا لیکن بھارت کو پاکستان کی ترقی ایک آنکھ نہیں بھا رہی تھی ۔ بھارت نے 1947ء میں ہونیوالی تقسیم ہند کو آج تک دل سے تسلیم نہیں کیا اور وہ شروع دن سے ہی قیام پاکستان کا مخالف اور اس کی سلامتی کیخلاف سازشوں میں مصروف رہا ہے۔ انہی سازشوں میں سے ایک سازش تقسیم ہند کے وقت کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کرنا بھی تھا۔ چونکہ بھارت جانتا تھا کہ کشمیر دریاؤں کا منبع ہے اور ہم آنیوالے برسوں میں پاکستان کی طرف بہنے والے دریاؤں کا پانی روک کر اسے بنجر بنا سکتے ہیں ۔ کشمیر کی اسی اہمیت کے پیش نظر قائداعظمؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ یہ شہ رگ بھارت کے قبضہ میں چلی گئی اور بھارت نے رفتہ رفتہ ہمارے دریاؤں کا پانی روکنا شروع کر دیا۔ بھارت کی یہ آبی جارحیت آج تک جاری ہے۔ بھارت ہمارے دریاؤں پر مسلسل ڈیمز تعمیر کر رہا ہے جبکہ ہمارے ہاں منگلا ڈیم اور تربیلا ڈیم کے بعد کوئی بڑا ڈیم نہیں بن سکا ۔ کالاباغ ڈیم بھی سیاست کی نذر ہو رہا ہے۔ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ بھارت کی آبی دہشت گردی اور کالا باڈ یم کی تعمیرنہ ہونے جیسے مسائل پر عرصۂ دراز سے آواز اٹھا رہا ہے ۔ اس سلسلے میں ایوان کارکنان تحریک پاکستان ،لاہور میں متعدد فکری نشستوں کا انعقاد بھی ہو چکا ہے۔ گزشتہ دنوں سپریم کورٹ آف پاکستان میں کالا باغ ڈیم بنانے سے متعلق کیس میں چیف جسٹس نے آبزرویشن دی کہ مستقبل میں پانی کا مسئلہ سنگین نوعیت اختیار کرجائے گا۔ چیف جسٹس نے نوائے وقت کے ایڈیٹر انچیف مجیدنظامی مرحوم کے2008 ء میں لکھے گئے آرٹیکل ’’واٹر بم‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فریقین کی جانب سے اس آرٹیکل کا بھی مطالعہ کیا جائے۔ مجید نظامیؒ نے پانی کی قلت کے حوالے سے موجودہ صورت حال سے متعلق پہلے ہی اشارہ کردیا تھا مگر حکومتوں کی جانب سے اس پر کوئی توجہ نہ دی گئی۔ چیف جسٹس نے نوائے وقت کے ایڈیٹر ان چیف مجید نظامی اور ان کے آرٹیکل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بھی وہ آرٹیکل پڑھا ہے۔

27مئی 2008ء کو ’’دی نیشن‘‘ میں مجید نظامی نے (The Water Bomb) کے نام سے جو آرٹیکل لکھا اس کا مفہوم تھاکہ پاکستان کو شدید خطرات کا سامناہے مگر پانی کا معاملہ دیگر ایشوز کے مقابلے میں انتہائی سنجیدہ ہے ہندو انڈیاکی جانب سے پاکستان کے دریاؤں کا پانی روک کر پاکستان میں پانی کا بحران پیدا کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے تحت ماہرین نے اس اہم مسئلہ پر کانفرنسز کیں، نظر یۂ پاکستان ٹرسٹ نے سب سے پہلے مستقبل کے پانی کی کمی کا اندازہ لگاتے ہوئے میڈیا رپورٹس شائع کیں۔ تاریخ جانتی ہے کہ ریڈ کلف اور ماؤنٹ بیٹن نے 1947ء کو تقسیم پاکستان میں پنجاب کی باؤنڈری لائنز مقرر کرنے میں بددیانتی اور بے ایمانی کا مظاہرہ کیا۔ آرٹیکل میں پاکستان کے ڈیموں، دریاؤں کی تقسیم میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں کا تفصیلی ذکر کیا گیا ہے، آرٹیکل کے تناظر میں کہا گیا ہے کہ ’’واٹر بم ‘‘ پاکستان کی ایک حقیقت ہے جس کا احاطہ بنائے گئے رولز نہیں کرسکتے اور نہ ہی اس حوالے سے ہونے والی نام نہاد کانفرنسز کچھ کرسکتی ہیں۔

بھارت کی آبی جارحیت اور کالاباغ ڈیم کی تعمیر نہایت اہم ایشو ہیں جن کی طرف نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے سابق چیئرمین مجید نظامی مرحوم تسلسل کے ساتھ قوم کو متوجہ کرتے رہے ۔ وہ تو اکثر یہ کہا کرتے تھے کہ مجھے میزائل یا ایٹم بم سے باندھ کر بھارت یا ان ڈیموں کے اوپر پھینک دو بھارت ہمارے پانیوں پر تعمیر کر رہا ہے۔ ان دنوں سپریم کورٹ میں کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق ریفرنڈم کرانے سے متعلق کیس زیر سماعت ہے اور عدالت عظمیٰ نے اس سلسلے میں وفاق کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق ریفرنڈم کے حوالے سے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کی جانب سے موقف اپنایا گیا کہ 2025 میں پانی کی سطح ختم ہوجائیگی اور ابھی سے ہی ملک میں پانی کی قلت پیدا ہورہی ہے۔اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں ڈیمز بننے چاہئیں، کالاباغ ڈیم کے معاملے پر صوبوں میں اتفاق نہیں ہے، مشترکہ مفادات کونسل نے کالا باغ ڈیم سے متعلق عوام کو آگاہی دینے کا فیصلہ دیا لیکن اس پر عمل نہیں ہوا۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ سابق چیئرمین واپڈا نے کالا باغ ڈیم پر آگاہی شروع کی، اس پر چیئرمین واپڈا کو نکال دیا گیا۔دوران سماعت فاضل چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ موجودہ صورتحال میں حکومت نے فیصلہ کرنا ہے اور حکومت نے پانی کی فراہمی کو دیکھنا ہے۔ درخواست گزار بیرسٹر ظفراللہ نے کہا کہ اگر نام کا مسئلہ ہے تو کالا باغ کی جگہ بے نظیر بھٹو ڈیم رکھ لیں لیکن یہ ڈیم پاکستان کا مستقبل ہے۔

کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے سلسلے میں بے بنیاد پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ اس سے صوبہ سندھ اور خیبر پختونخوا متاثر ہوں گے۔

اس ڈیم کے مخالف عناصر ملک دشمن عناصر کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں ۔ کالاباغ ڈیم کی زیادہ مخالفت کے پی کے اور سندھ کے کچھ نام نہاد قوم پرست عناصر کی کی طرف سے کی جاتی ہے۔ بھارت کالاباغ ڈیم کی مخالفت کیلئے سالانہ اربوں روپے کی سرمایہ کاری کرتا ہے۔ خیبر پی کے میں کالاباغ ڈیم کی مخالفت کرنیوالے ڈیم بننے کی صورت میں اسے بم سے اڑانے کی دھمکی دیتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے خیبر پی کے کا شہر نوشہرہ ڈوب جائیگا۔ سابق چیئرمین واپڈا شمس الملک کالاباغ ڈیم کے ہمیشہ حامی رہے ہیں حالانکہ شمس الملک کا اپنا گھر نوشہرہ میں ہے‘ وہ بالاصرار کہتے ہیں کہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے نوشہرہ کے ڈوبنے کا واویلا محض پراپیگنڈا ہے۔ آج تمام محب وطن حلقوں کا یہ موقف ہے کہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر فوری شروع کی جائے۔ اس ڈیم کی تعمیر میں اگر کچھ رکاوٹیں ہیں تو انہیں باہمی مذاکرات سے حل کیا جائے اور صرف قومی مفاد کو مقدم رکھا جائے۔ صوبہ خیبر پختونخوا اس ڈیم کی رائلٹی لے لے جبکہ صوبہ سندھ اس میں سے پانی لیکر اپنی فصلوں کو سیراب کر لیں ، صوبہ پنجاب کو بجلی پیدا کرنے دی جائے۔ کالاباغ ڈیم کی دانستہ یا نادانستہ مخالفت بھارت کے ہاتھ مضبوط کرنے اور اسکے پاکستان کو پانی کے ہتھیار سے تباہ کرنے کے منصوبے کی حمایت کے مترادف ہے اور اس وطن میں رہنے والوں کو ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہئے۔

****

مزید : ایڈیشن 2

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...