دیر آید درست آید

دیر آید درست آید

آرٹیکل

بزنس ایڈیشن

حامد ولید

5نکاتی ایمنسٹی سکیم

بیرون ملک اثاثے لانے پر 2فیصد،اندرون ملک ظاہر کرنے پر 5فیصدادائیگی لازم

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے پاکستانیوں اور اوورسیز پاکستانیوں کے لئے کالا دھن سفید کرنے کی5نکاتی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کا اعلان کیا ہے ۔ سکیم کے مطابق جن پاکستانیوں کے اثاثے پاکستان سے باہر ہیں وہ 2فیصد جرمانہ ادا کرکے ایمنسٹی سکیم کا فائدہ اٹھاسکیں گے۔ اس کے دو آپشن ہوگے ، ایک یہ کہ پانچ سال کے لئے تین فیصد سالانہ کی شرح پر بانڈز لیں جن کی ادائیگی ششماہی بنیاد پر ہوگی اور ایک سال تک کیش نہیں کرائے جا سکیں گے ۔ دوسرا آپشن یہ ہے کہ موجودہ انٹربینک ڈالر ریٹ پر پاکستانی روپے میں انکیشمنٹ کرالیں۔ غیر ملکی زرمبادلہ رکھنے والے مقامی افراد بھی یہ بانڈ خرید سکتے ہیں۔ جہاں تک اندرون ملک اثاثے ظاہر کرنے کا تعلق ہے تو ان پر 5فیصدا دائیگی کرکے اثاثے وائٹ کرائے جا سکیں گے۔ چھپائی گئی جائیداد کو ظاہر کرنے کے لئے ایک فیصد ٹیکس کی ادائیگی لازمی ہوگی۔ البتہ سیاستدان اس سکیم سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے ہیں۔ یہ سکیم 30جون 2018تک موثر رہے گی اور اس سکیم کو قانونی تحفظ دینے کے صدارتی آرڈیننس کا اجراء کیا جائے گا۔

سکیم کے مطابق 30جون سے پہلے غیر اعلانیہ آمدن سے حاصل کیے گئے تمام مقامی اثاثے بشمول سونا، بانڈز اور جائیدادپانچ فیصد جرمانے کی ادائیگی پر ریگولرائز کرائے جا سکتے ہیں۔ یکم جولائی 2018سے ایف بی آر جائیداد کے ریٹ منسوخ کردے گااور صوبوں سے بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ ڈی سی ریٹ ختم کردیں۔ یکم جولائی 2018کے بعد ٹیکس جمع نہ کرانے والاکوئی بھی شخص 40لاکھ سے زائد مالیت کی جائیداد نہیں خرید سکے گا۔ جائیداد کی رجسٹریشن پر مقامی اور صوبائی سطح پر زیادہ سے زیادہ ایک فیصد ٹیکس لگانے کی تجویز ہے۔ وفاقی سطح پر ایڈوانس انکم ٹیکس جو کہ ایڈجسٹ ایبل ہوتا ہے ، کی شرح کم کرکے ایک فیصد کی جا رہی ہے۔ حکومت کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ رجسٹری میں لکھی گئی قیمت سے دوگنا قیمت ادا کرکے جائیداد خرید سکے کیونکہ لوگ پیسہ چھپانے کے پراپرٹی میں ڈالتے ہیں اور رجسٹری کراتے وقت زمین کی اصل قیمت ظاہر نہیں کرتے ہیں۔ کم قیمت ظاہر کرنے پر حکومت 2018-19میں 100فیصد زائد ادائیگی پر جائیداد خرید سکے گی۔ 2019-20میں 75فیصد اور 2020-21میں 50فیصد زائد ادائیگی پر خرید سکے گی۔

سکیم کا مقصد پاکستانیوں کو رضاکارانہ طور پر اثاثے ظاہر کرنے کی ترغیب دینا ہے اور ٹیکس نیٹ میں اضافہ کرنا ہے۔ حکومت نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ نمبر ہی قومی ٹیکس نمبر تصور کیا جائے گا۔ آئندہ سے ہر شخص کو ریٹرن فائیل کرنا ہوگی۔ اس وقت 207ملین کی آبادی میں سے صرف 12لاکھ افراد ٹیکس گوشوارے جمع کرواتے ہیں جبکہ ان 12لاکھ میں سے 5لاکھ کوئی ٹیکس ادا نہیں کرتے ہیں۔ گویا کہ صرف 7لاکھ افراد ٹیکس ادا کرتے ہیں جن میں 90فیصد تنخواہ دار افراد ہیں اور ان کا ٹیکس سورس پر کاٹ لیا جاتا ہے۔ چونکہ ہمارے ہاں ٹیکس ادا کرنے کاکلچر نہیں ہے اس لئے حکومت کو مجبوراً ان ڈائریکٹ ٹیکس لگانا پڑتا ہے جو ایک منصفانہ نظام ہے جس کے خاتمے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ ٹیکس ریٹرن کے ذریعے ریونیو میں اضافے کے رجحان کو اپنائیں اور جو آمدن کے باوجود ٹیکس ادا نہ کرے ، اس کے خلاف کاروائی ہو سکے۔

آئندہ سے 12لاکھ روپے سالانہ آمدن پر کوئی انکم ٹیکس نہیں ہوگا۔12سے 24لاکھ پر 5فیصد، 24سے 48لاکھ روپے پر 10فیصداور 48لاکھ اور اس سے زائد پر 15فیصد انکم ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ایک لاکھ ڈالر کی سالانہ ترسیل پر کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوگی، وہ ٹیکس سے مستثنیٰ ہوگی۔پاکستان میں ڈالر اکاؤنٹ رکھنے والے وہ افراد جنھوں نے غیر اعلانیہ آمدن سے ڈالر خریدے ہیں وہ دو فیصد ادائیگی پر یہ رقم ریگولرائز کراسکتے ہیں۔

ایمنسٹی سکیم کا اطلاق سرکاری افسروں اور عوامی اعہدے رکھنے والوں، ان کی بیگمات اور ان پر انحصار کرنے والے بچوں پر نہیں ہوگا۔ سیاستدان اور ان کے زیر کفالت افراد بھی اس سکیم سے فائدہ نہیں اٹھاسکتے ہیں۔ غیر ملکی اثاثے ظاہر کرنے اور ڈالر ملک میں واپس لانے کی سکیم کا اطلاق منی لانڈرنگ، ڈرک سمگلنگ اور دہشت گردی کو فنانس کرنے والوں پر نہیں ہوگا۔ حکومت آرڈیننس جاری کرے گی اور ایف بی آر یا نیب وغیرہ کے متعلقہ قوانین سے ان لوگوں کو استثنیٰ دیا جائے گا جو اس سکیم سے فائدہ اٹھائیں گے۔

آئینی مدت کے خاتمے سے دو ماہ قبل اس بڑے ٹیکس پیکج کا اعلان کیا گیا ہے ۔ اس سکیم کا اگلے اڑھائی ماہ کے دوران فائدہ اٹھایا جا سکے گا اور بیرون ملک رکھے گئے ڈالروں کو اس سکیم کے تحت ڈکلیئر کیا جا سکتا ہے۔ بیرون ملک ڈالر اکاؤنٹ کو بھی 5فیصد ادائیگی پر ڈکلیئر تصور کیا جائے گا اور ایسا اکاؤنٹ باہر رکھ بھی یہ کام کیا جا سکتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اندرون ملک یا بیرون ملک مقیم پاکستانی ٹیکس نیٹ میں آجائے۔یہ ضروری نہیں کہ پیسہ ڈکلیئرکرکے پاکستان واپس بھی لانا ضروری ہے۔ حکومت کے اعلان کا دوسرا اہم حصہ پاکستان میں رئیل اسٹیٹ میں ہونے والی ان ڈکلیئرڈ خریدوفروخت سے ہے اور اس شعبے میں کالا دھن سفید کرنے کی جاری روش کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لئے اقدامات کیے گئے ہیں۔ خود وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے اس سکیم کا اعلان ایمنسٹی سکیم کی اہمیت کو دوچند کردیتی ہے ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق گزشتہ سے پیوستہ ہفتے میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے چیف جسٹس پاکستان سے ملاقات بھی اسی سلسلے میں کی گئی تھی کیونکہ اس سکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کو خدشہ تھا کہ حکومت کی جانب سے سکیم کے اعلان کے ساتھ ہی سپریم کورٹ اس پر ایکشن لے گی اور یوں اس سے فائدہ اٹھانے والے افراد اس موقع سے محروم رہیں گے۔ یہ سکیم ماضی کی سکیموں سے مختلف ہے ، اس کے ذریعے ٹیکس بڑھانے کی بجائے لوگوں کو ٹیکس پیئر بنانا ہے جس کے بغیر معاشی خودمختاری حاصل نہیں کی جاسکتی ہے۔ اس پیکج پر حکومت گزشتہ کافی عرصے سے کام کر رہی تھی اور سٹیک ہولڈرز سے مشاورت جاری تھی تاکہ اس سکیم میں کوئی ایسا سقم نہ ہو جس سے یہ سکیم اپنے مقررہ اہداٖف حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ اطلاعات کے مطابق اب تک 1100ارب ڈالر بیرون ملک منتقل کئے جاچکے ہیں جس میں سے زیادہ رقم دبئی منتقل کی گئی ہے اور وہاں خریدی گئی جائیدادوں سے متعلق پاکستانیوں نے اپنی ٹیکس ریٹرنز میں ظاہر نہیں کی گئی ہیں۔ دوسری جانب برطانیہ میں سختی کردی گئی ہے اور لوگوں کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے اثاثوں کو ڈکلیئر کریں اور بتائیں کہ ان کے پاس پیسہ کہاں سے آیا ہے۔ اس صورت حال میں پاکستانیوں کے لئے اس سے بہتر کوئی اور سکیم نہیں ہو سکتی ہے کہ وہ ان رقوم کو واپس ملک میں لے آئیں۔

اپوزیشن کی جانب سے اصرار کیا جا رہا ہے کہ اس پیکج کو پہلے پارلیمنٹ میں زیر بحث لایا جانا چاہئے تھے اور اب جبکہ حکومت ختم ہونے کے قریب ہے ، اس سکیم کو کیوں کر متعارف کروایا گیا ہے۔ دوسری جانب ٹیکس ماہرین کیمطابق اس سکیم کا رسپانس اچھا ہوگا اور بیرون ملک مقیم پاکستانی اس سے فائدہ اٹھائیں گے ، لوگ اگر ڈالر واپس بھی نہیں لائیں گے تو بھی اسے ڈکلیئر کرنے کو ترجیح دیں گے اور آہستہ آہستہ وہ ڈالر بھی ملک واپس آجائیں گے۔ خاص طور پر وہ لوگ جو پاکستان سے پیسہ بنا کر باہر لے جا کر رکھے بیٹھے ہیں اور وہاں اس کا سورس نہیں بتاسکتے ہیں ، ان کے لئے اس سے بہتر سکیم کوئی اور نہیں ہو سکتی کہ وہ اس کالے دھن کو سفید کرلیں۔ بعض ماہرین اسے ون ٹایم کمپلائنس بھی کہتے ہیں کہ پاکستانیوں کو اپنے اثاثے ایک دفعہ تو ضرور ڈکلیئر کرنا پڑیں گے۔

تجارتی خسارہ اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور اس پیکج کے ذریعے ملک میں ڈالر آسکتے ہیں اور حکومتی ریونیو میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ ٹیکس ریٹ میں تبدیلیاں کی گئی ہیں اور انہیں مطلوبہ حد تک نیچے لایا گیا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ پراپرٹی بزنس کو بھی فارمل سیکٹر میں لانے کی کوشش ہے ، اس لئے اگر اس سکیم پر کماحقہ عمل ہو جائے تو فائدہ ہو سکتا ہے۔ چونکہ بین الاقوامی فضا بھی اس سکیم کے لئے ساز گار ہے کیونکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لئے بیرون ملک مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس موقع پر وہ اس سکیم کا فائدہ اٹھا کر پاکستان میں ڈکلیئر کر سکتے ہیں ۔ یہ سکیم توقعات سے کہیں بڑھ کر فائدہ مند قرار دی جا رہی ہے کیونکہ بہت تھوڑا سا ٹیکس ادا کرکے کالے دھن کو سفید کیا جا سکتا ہے ۔ خیال کیا جا رہا تھا کہ ٹیکس کی شرح 10فیصد ہوگی لیکن ایسا نہیں ہے اور اس شرح کو 5فیصد اور اس سے کم رکھا گیا ہے۔ اسی طرح ڈالر بانڈ کا اجراء بھی ماہرین کے نزدیک ایک احسن اقدام ہے اور یقینی طور پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ساتھ اندرون ملک ایسے پاکستانی بھی اس سے فائدہ اٹھانے کو ترجیح دیں گے۔ دوسری جانب یہ بھی خیال کیا جا رہا ہے کہ حکومت اگر ان ڈکلیئرڈ رقوم پر ٹیکس کی شرح زیادہ بھی رکھتی تو بھی لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے اور ملکی ریونیوں میں بھی اضافہ ہوتا کیونکہ بیرون ملک متعارف کروائے جانے والے قوانین کی وجہ سے پاکستانیوں کیلئے وہاں پیسہ رکھنا اب آسان نہیں ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اکنامک ریفارم پیکج ہے جو نون لیگ کے منشور کا حصہ ہے اور ٹیکس ریٹ کو کم رکھنے کی بات کی گئی تھی اور زیادہ سے زیادہ 15فیصد ٹیکس کی شرح رکھی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ 12لاکھ کی آمدن پر کوئی ٹیکس نہیں لیا جائے گا جو مڈل کلاس کے لئے ایک بہت بڑا ریلیف ہے۔ اس کے ساتھ پراپرٹی میں بلیک منی کی بہتات تھی اس لئے اسے بھی ریگولرائز کرنے کی سعی کی گئی ہے اور لوگوں کو ترغیب دی جا رہی ہے کہ وہ جائیدادوں کو ڈکلیئر کریں اور وہاں پڑا ہوا کالا دھن سفید کریں۔ کالا دھن سفید ہونے سے ملکی اکانومی کو فائدہ ہوگا۔

پاکستان میں ڈالر لانے پر پہلے بھی پابندی نہیں ہے ، موجودہ سکیم کا مقصد لوگوں کو ٹیکس ادا کرنے کی طرف مائل کرنا ہے ، اسی لئے ٹیکس کی شرح انتہائی پرکشش رکھی گئی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ عوام اس کی جانب راغب ہوں۔ حکومت کا خیال ہے کہ اس سکیم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگ بیرون ملک سے اچھی خاصی رقم لے کر آئیں گے اور اندرون ملک افراد بھی اس سے فائدہ اٹھا کر ڈکلیئریشن کی طرف بڑھیں گے ۔ واضح رہے کہ انڈونیشیا میں جب ایسی سکیم کا اعلان ہوا تو وہاں لوگوں نے 366ارب ڈالر کی رقوم ڈکلیئر کیں مگر حقیقت میں 11ارب ڈالر سے زیادہ رقم ملک واپس نہیں آئی ۔خیال کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہوگاکہ لوگ ڈکلیئر تو کریں گے مگر کچھ زیادہ رقم وطن واپس نہیں لائیں گے۔

معاشی ماہرین کی اکثریت ایمنسٹی سکیم کو درست قرار دے رہی ہے اور اس کے محاسن گنواتے نہیں تھک رہے ہیں ، حتیٰ کہ حکومت کے سخت ترین ناقد بھی اس ضمن میں نرم رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں اور اس پیکج کو کلی طور پر ہر طبقے کے عوام کے لئے خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس ملک میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور لوگ یہاں پر صنعت سازی کے فروغ کی جانب راغب ہوں گے کیونکہ کالا دھن سفید ہوا تو یقینی طور پر وہ پیسہ پاکستانی معیشت میں ہی لگے گا ۔ ان ماہرین کے مطابق یہ ایک اچھی اور بولڈ پالیسی ہے جس سے یقینی طور پر ملکی معیشت کو فائدہ ہوگااور ملک میں ٹیکس کلچر کو فروغ حاصل ہوگا۔

سرخیاں

کالا دھن سفید ہوا تو یقینی طور پر وہ پیسہ پاکستانی معیشت میں لگے گا

12لاکھ کی آمدن تک کوئی ٹیکس نہیں ہوگا جو مڈل کلاس کے لئے بڑا ریلیف ہے

بہت تھوڑاسا ٹیکس ادا کرکے کالے دھن کو سفید کیا جا سکتا ہے

یہ سکیم ٹیکس بڑھانے کی بجائے لوگوں کو ٹیکس پیئر بنانے کے لئے ہے

تصاویر

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی

مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل

ایف بی آر

ڈالر

مڈل کلاس

لینڈکرتا ہوائی جہاز

مزید : ایڈیشن 2

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...