معاشی پالیسی بہتر ہوگی تو صنعتی انقلاب آئے گا!

معاشی پالیسی بہتر ہوگی تو صنعتی انقلاب آئے گا!

معروف صنعتکار سابق سینیٹر عبدالحسیب خان جو کہ کراچی کی جانی پہچانی شخصیت ہیں، گذشتہ دنوں ان سے ایک تقریب میں ملاقات ہوئی اس موقع پر ان سے جو گفتگو ہوئی وہ نذر قارئین ہے

بزنس پاکستان: پاکستان کی معیشت اس وقت کس طرف جارہی ہے، اور آپ اس کو کس طرح سے دیکھتے ہیں ؟

عبدالحسیب خان: اﷲ تعالیٰ پاکستان کو نظر بد سے بچائے، ہمارا ملک آج بھی دنیا کا امیر ترین ملک ہے، معیشت میں اتار چڑھاؤ تو آتے رہتے ہیں ، ابھی جو کچھ بھی ہے یہ سب عارضی صورتحال ہے، اﷲ نے چاہا تو صو رتحال جلد بہتر ہوجائے گی۔ سیاسی صورتحال کے اثرات معیشت پر پڑتے ہیں ، لیکن یہ سب عارضی ہوتے ہیں۔ اصل میں جو اوپر پارلیمنٹرین بیٹھے ہیں، ان کا قبلہ درست ہونے والا ہے ۔ ڈالر کے ریٹ جو اسو قت اوپر ہوئے ہیں وہ اسی وجہ سے اوپر ہیں۔ 15 اپریل سے پہلے مجھے امید ہے کہ حکومت کا قبلہ درست ہوگا۔ اور ڈالر کے ریٹ نچلی سطح پر آجائیں گے اور پھر ایک بار معیشت کا پہیہ بہتری کے ساتھ آگے بڑھے گا۔

بزنس پاکستان: سی پیک دنیا کے بڑے منصوبوں میں شمار ہورہا ہے، پاکستان کی معیشت پر بھی اسکے گہرے اثرات پڑیں گے، آپ اس منصوبے کو کس نظر سے دیکھتے ہیں ؟

عبدالحسیب خان: میں اچھی طرح سے جانتا ہوں کہ یہ سی پیک کوئی چھوٹا موٹا منصوبہ نہیں ہے اس منصوبے کے اثرات ساری دنیا پر اثر انداز ہونگے۔ اس منصوبے کے باعث پاکستان اور اسکی عوام کی تقدیر بدل جائے گی ، پاکستان کے ساتھ ساتھ اس خطے میں بھی ایک مثالی خوشحالی آئیگی جس کو ساری دنیا محسوس کرے گی۔ اور اس منصوبے کو سراہے بغیر نہیں رہ سکے گی۔ اس وقت سی پیک منصوبے میں بعض اسلامی ممالک جن میں ترکی، سعودیہ عرب، بنگلہ دیش شامل ہیں، آ پ کا ساتھ نہیں دے رہے لیکن چین آپ کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہوا ہے وہ تمام کام کررہا ہے جس سے پاکستان کی معیشت کو سنبھالا ملے گا۔

بزنس پاکستان: آپ معاشی پالیسی اور صنعتی پالیسی کے بارے میں کیا کہیں گے ؟

عبدالحسیب خان: دونوں پالیسیاں الگ الگ ہیں، صنعتی پالیسی الگ ہے اور معاشی پالیسی الگ ہے۔ اسی لیے اکنامی ہماری خراب ہورہی ہے دراصل ہونا یہ چاہیے کہ معاشی پالیسی صنعتی پالیسی ، انویسٹمنٹ پالیسی یہ سب ایک ہونی چاہئیں ، ان کے ایک نہ ہونے کے باعث ہماری معیشت خرابی کی طرف چل رہی ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد اس میں بہتری آئیگی۔ کیونکہ یہ تینوں چیزیں ایک پیکج کی شکل میں ہوتی ہیں جس دن یہ پیکج کی شکل میں آئیں گی اس دن آپ کی معاشی پالیسی بہتری کی طرف جائیگی۔ اور آپ کے ملک میں صنعتی انقلاب آجائے گا۔ جب صنعتیں بہتر ہونگی تو عوام کو روزگار ملے گا اور خوشحالی آئیگی ۔ پاکستان کے قرضے ختم ہونگے ۔ آئی ایم ایف پر جو قرضہ ہے اس پر دباؤ کم ہوگا۔

مزید : ایڈیشن 2