ملکی معیشت میں استحکام آسکتا ہے

ملکی معیشت میں استحکام آسکتا ہے

تیمور علی ملک کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں جن کا تعلق معروف کاروباری و سماجی گھرانے سے ہے ان کے دادا محمد شفیع ملک نے قیام پاکستان کے بعد پاکستان میں صنعت سازی میں اہم کردار ادا کیا اور گارڈ گروپ آف انڈسٹریز کی بنیاد رکھی۔انہوں نے بتا یا کہ ان کے دادا ستارہ امتیاز محمد شفیع ملک کے بارے میں بتایا کہ وہ قیام پاکستان کی تحریک کے بڑے سرگرم رکن تھے اور انہیں قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ کام کرنے کا اعزاز حاصل ہے جبکہ ان کے والد محترم ستارہ امتیاز افتخار علی ملک جو دنیا میں پاکستان کی پہچان اور کاروباری حلقوں میں ہر دلعزیز شخصیت کے مالک ہیں جنہوں نے پاکستان میں سر مایہ کاروں اور انڈسٹریز مالکان کو ان کے حقو ق اور مسائل حل کروانے میں حکومتی ایوانوں اور سرکاری اعلی افسران میں کاروباری حلقے کی اہمیت کو اجاگر کیا جبکہ پاکستان میں چیمبرز اور فیڈریشن کے پائینر ہونے کا اعزاز حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مسلسل چوتھی بار نائب صدر منتخب ہوئے ہیں اور پاکستان میں صنعتکاروں اور تاجروں کو یو نائیٹڈ بزنس گروپ کی چھتری تلے متحد کیے ہوئے پھولوں کے گلدستے کی مانند ایک جان کیا ہوا ہے ۔ تیمور علی ملک افتخار علی ملک کے لخت جگر ہیں جو گارڈ گروپ کے ایچ آر ہیڈ ہیں جنہوں نے اعلی تعلیم یو کے سے حاصل کی اور امریکہ سمیت دیگر ممالک میں بزنس کورس مکمل کر نے کے بعد اپنے والد محترم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دن رات کاروبار میں سر گر م عمل ہیں اور گارڈ گروپ کو ترقی کی منازل پر لے جاتے ہوئے دنیا بھر میں گارڈ فلٹرو دیگر اشیاء کو متعارف کروا کر پاکستان کے زر مبادلہ کے زخائر میں اضافے کا موجب ہیں ۔ تیمور علی ملک کاروبار کے ساتھ ساتھ پولوکھیل میں دلچسپی رکھتے ہیں جو گارڈ گروپ پولو ٹیم کے کیپٹن بھی ہیں اور اس کھیل کے فروغ میں دلچسپی لیتے ہوئے ارادہ رکھتے ہیں کہ پولو کھیل کے لیے پاکستان میں کچھ بڑا کرنا ہے ۔تیمور علی ملک کا کہنا ہے کہ میرے والد محترم افتخار علی ملک دنیا کے سب سے نفیس باپ ہیں جنہوں نے ہمیشہ اپنی محبتیں بکھیرتے ہوئے اپنے اہل خانہ کا بڑھ چڑھ کر خیال رکھا اور آج انہی کے نقش قدم پر چلتے اور ان ہی سے سیکھتے ہوئے پاکستان اور دنیا کی تجارتی منڈیوں میں گارڈ گروپ کی پراڈکٹس کالوہا منوا رہے ہیں۔

تیمور علی ملک نے بزنس پاکستان کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایسی نعمتوں، وسائل اور معدنیات سے مالامال ہے جن کی دنیا کے بہت سے ممالک تمنا ہی کرسکتے ہیں ۔ اس کے باوجودبھی آج ہمارا شمار ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے۔ 60ء کی دہائی میں پانچ ممالک ساؤتھ کوریا، ملائشیا، انڈونیشیا، فلپائن اور تھائی لینڈ کی مجموعی برآمدات پاکستان کی برآمدات سے کم تھیں لیکن آج ان میں سے ہر ایک ملک کی برآمدات ہم سے کئی گنا زیادہ ہوچکی ہیں۔گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان کو بہت سے سنگین چیلنجز کا سامنا رہا ہے جن میں سب سے بڑا دہشت گردی کا ناسور تھا۔ اس کی وجہ سے ہزاروں پاکستانی شہری اور سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے اور دوسری طرف معیشت کو بہت بھاری نقصان برداشت کرنا پڑا کیونکہ عالمی سطح پر پاکستان کے متعلق غیر محفوظ ملک کا تاثر ابھر رہا تھا۔ سرمایہ کاروں نے پاکستان کو اپنی ترجیحی لسٹ سے نکال دیاجبکہ توانائی کے بدترین بحران نے معیشت کو مزید تباہی کی طرف دھکیلا۔ پاکستان میں وسائل کی کوئی کمی نہیں، یہ دودھ اور کپاس پیدا کرنے والا چوتھا بڑا، گندم پیدا کرنے والا آٹھواں بڑا، چاول پیدا کرنے والا دسواں بڑا ملک ہے لیکن ان وسائل کو بے دردی سے ضائع کیا گیا جبکہ امن وامان کی فضا یقینی بنانے کے لیے پاک فوج اور حکومت نے مل کر ضرب عضب کے ذریعے دہشت گردی کے ناسور کو قریب قریب ختم کردیا ہے ماضی میں روس جیسے جن اہم ممالک سے ہمارے تعلقات سرد مہری کا شکار تھے آج وہ ہمارے ساتھ تجارتی معاشی و دفاعی تعاون کررہے ہیں

تیمور ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان کا زرعی شعبہ ملک کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اسے چاروں موسم اور ایسی زرخیز زمین میسر ہے جہاں مردہ بیج بھی بو دیا جائے تو وہ اْگ آئے گا لیکن کئی مسائل کی وجہ سے زرعی شعبہ اپنا وہ کردار ادا کرنے سے قاصر ہے جبکہ کسی بھی ملک کی ترقی کا راز لوکل انڈسٹری میں چھپا ہوتا ہے جس کے لیے نہ صرف ریلیف دینے کی ضرورت ہے بلکہ لانگ ٹرم اور تھنک ٹینک پالیسیاں بناتے ہوئے بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے پاکستان میں ایمپورٹڈ گاڑیوں کو درآمد کر نے کی اجازت تو ہے لیکن ان کے پارٹس پر کوئی تو جہ نہیں پاکستان میں 70فیصد آٹو پارٹس ایمپورٹ کیا جاتا ہے جو بہت مہنگے ہوتے ہیں جس سے لوکل انڈسٹری پر منفی فر ق پڑتا ہے اور پاکستان بہت سارا ذرمبادلہ آٹو پارٹس کی درآمد پر خرچ کر دیتا ہے انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت وقت پاکستان میں آٹو انڈسٹری زون بنائے اور لوکل انڈسٹری کو سہارا دینے کے لیے ریلیف دے اور انٹرنیشنل کمپنیوں کو بلایا جائے جو پاکستان میں آٹو پارٹس کی فیکٹریاں قائم کریں جس سے جہاں روزگار کے موقع بھی پیدا ہو نگے وہیں آٹو انڈسٹری بھی پھلے پھولے گی ۔لہذا حکومت وقت کو چائیے کہ تاجر برادری اور صنعتی سیکٹر کو فرینڈلی ماحو ل دیا جائے ، ٹیکس نظام کو آسان تر بنایا جائے اور توانائی بحران کے خاتمہ کے لیے کالا باغ ڈیم سمیت چھوٹے ڈیمز تعمیر کیے جائیں جبکہ سی پیک منصوبے پر فو کس کر تے ہوئے چائینیز کمپنیوں کی طر ح لو کل انڈسٹری کو بھی ان کے برابر ریلیف دیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سالانہ پانی سمندر اور دریاؤں کی نظر کر دیا جاتا ہے اگر ہم اپنے پانی کو محفو ظ بنا لیں تو 70بلین ڈالر کا فائدہ حاصل کر سکتے ہیں جو ہمارے بیرونی قرضوں کے برابر ہے اور تھر مل ، کو ل سے مہنگی بجلی کی بجائے سستی بجلی پیدا کر سکتے ہیں جبکہ ان پٹ کاسٹ سستی ہو نے سے ہم اپنی انڈسٹری میں جان ڈال سکتے ہیں تاہم بدقسمتی سے پاکستان میں تاجرو صنعتکار کش پالیسیاں بنا کر ٹیکسوں کا بھاری بوجھ ڈال دیا جاتا ہے اور ریفنڈ ادا نہ ہونے سے صنعتکاروں میں تشویش کی لہر دوڑ جاتی ہے جس سے فیکٹریوں اور کارخانوں میں پیداواری عمل کم ہو جاتا ہے اور ایکسپورٹ کی شرح میں کمی آتی ہے جس سے ذرمبادلہ کے ذخائر میں کمی واقع ہوتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں پانی کے بڑے ذخیروں کے لیے زیادہ سے زیادہ فنڈز رکھے جائیں تاکہ وہ قیمتی پانی ذخیرہ کیا جاسکے جو ہر سال سمندر میں گرکر ضائع ہوجاتا ہے۔ تیمور ملک نے کہا کہ کاشتکاروں کے مسائل حل کرنے کے لیے حکومت خصوصی اقدامات اٹھائے۔ انہیں دور جدید کی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جائے تاکہ وہ فی ایکڑ پیداوار بڑھاسکیں جو خطے کے دیگر ممالک کی نسبت بہت کم ہے۔ انہوں نے کاشتکاروں کو بیج اور ادیات ارزاں نرخوں پر فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

تیمور ملک نے مذید بتایا کہ گارڈ گروپ آف انڈسٹریز زرعی شعبے میں انقلاب رونما کرنے کے لیے شب و روز کوششیں کررہا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ ایران کے ساتھ تجارت ڈالر کے بجائے چینی کرنسی آر ایم بی میں کی جائے تو ڈالر کی اجارہ داری ختم اور روپے کی قدر مستحکم ہوگی۔ شہزاد علی ملک نے کہا کہ اگر ہم ایرانی یا چائنیز کرنسی میں تجارت شروع کر دی اور ایرانی بینک کی برانچ پاکستان میں کھل گئی تو چاول کی موجودہ تجارت کا حجم سو فی صد بڑھ جائے گا، ایران ایک ملین ٹن چاول کی مارکیٹ ہے جبکہ پاکستان صرف ایک سے ڈیڑھ لاکھ ٹن چاول ایران کو برآمد کرتا ہے، اگر ایران پاکستان میں بینک برانچ کھولے اور ڈالرکی بجائے ایرانی کرنسی تومن یا چائنیز کرنسی آر ایم بی میں تجارت کرے تو چاول کی برآمدات کا حجم ڈبل ہوجائے گا۔انہوں نے کہاکہ ایران کے ساتھ بارٹرسسٹم پربھی بات چیت ہوسکتی ہے، اس وقت ملک بھر میں چاول کی پیداوار 6 اعشاریہ 9 ملین ٹن ہے ،جس میں سے 25 فیصد پیداوارہائی بریڈ بیج سے حاصل ہوتی ہے، زیرکاشت رقبہ میں پچیس فی صد اضافے سے مجموعی پیداوار تین سال کے دوران پیداوار9 ملین ٹن تک پہنچ سکتی ہے۔تیمور علی ملک نے کہا کہ گارڈرائس گروپ کا ریسرچ سنٹر کم پانی سے زیادہ سے زیادہ سے پیداوارحاصل کرنے پرکام کررہا ہے، ہائبرڈفصل نوے دنوں میں پک کر تیار ہوتی ہے اور پانی دیگر فصلوں کی نسبت کم لیتی ہے، انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بیج کی پروڈکشن کے لیے کسانوں کوسرکاری زمین لیز پر دی جائے اورانہوں نے چین کے ساتھ آزادانہ تجارت مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ اس سے پاکستانی صنعت کو شدید نقصان ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تجارتی خسارہ پہلے ہی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔ چین نے بڑی بڑی معاشیات کو خوف میں مبتلا کردیا ہے ، ایسے میں تجارت کے شعبے میں پاکستان چین کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اگر سوچے سمجھے بغیر چین سے مزید فری ٹریڈ ایگریمنٹ کرلیے گئے تو مقامی صنعتوں کو بھاری نقصان ہوگا لہذا پہلے مکمل جائزہ لیا جائے اور پھر کوئی فیصلہ کیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ برائے 2018-19میں ٹیکسوں کی شرح بڑھانے کی بجائے ٹیکس نیٹ کو بڑھایا جائے جبکہ کارپوریٹ سیکٹرعائدٹیکس کی شرح کم ہونی چاہیے۔

پاکستان میں آٹو انڈسٹری زون بنانے اور زراعت پرخصوصی توجہ دینے سے ملکی معیشت میں انقلا ب لا سکتا ہے

معروف کاروباری نوجوان شخصیت تیمور علی ملک کہتے ہیں کہ

مزید : ایڈیشن 2

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...