ملکی ترقی کی ضامن سوچ

ملکی ترقی کی ضامن سوچ

ملک کو ترقی کی شاہراہ پر چلانے ، اقتصادی اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور عوام کے مسائل و مشکلات حل کرنے کے لئے ملکی اداروں کے سربراہوں کی ملاقاتیں بڑی اہمیت رکھتی ہیں ۔ افہام و تفہیم سے انتشارو خلفشار کے جراثیم ختم کرنے اور دشمن کو یکجہتی کا طاقتور پیغام پہنچانے میں مدد ملتی ہے ۔

اسی تعمیری اور مثبت سوچ کے تحت کاروباری برادری نے ہمیشہ حکمرانوں سیاست دانوں اور ملکی اداروں کے مابین ڈائیلاگ اور خوشگوار ماحول کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا ہے ۔اسی ہم آہنگی کی تلاش میں وزیر اعظم پاکستان جناب شاہد خاقان عباسی چند روز قبل خود چل کر چیف جسٹس آف پاکستان جناب ثاقب نثار کے ہاں پہنچے ۔ چیف صاحب نے بڑے پن کا ثبوت اس طرح دیا کہ وزیر اعظم پاکستان کا استقبال کرنے کے لئے ججز گیٹ پر آئے اور دو گھنٹے کی ملاقات کے بعد گاڑی تک انہیں چھوڑنے بھی گئے ۔دو نوں بڑے ملک کی خاطر ملے اور یقینی طور پر ملک و قوم کو درپیش مسائل کے حل کے لئے انہوں نے بات چیت کی ہوگی ۔

اسے مثبت انداز میں لیا اور سوچا جاتا تو بہتر ہوتا ،لیکن بد قسمتی سے بعض سیاست دانوں اور شام کے وقت بعض ٹی وی چینلوں پر بیٹھنے والے دانشوروں نے مین میخ نکال کر ملاقات کو لا حاصل قرار دینے کی کوشش کی ۔

کسی نے کہا کہ وزیر اعظم کیا لینے گئے تھے ۔ دوسرے نے کہا کہ سابق وزیر اعظم کو معافی دلانے گئے ہوں گے ۔ تیسرے نے کہا کہ دونوں کی ملاقات کے سپریم کورٹ پر شدید منفی اثرات مرتب ہوں گے ۔ بیشتر سیاست دانوں کی سوچ اورفکر پر مایوسی کا رنگ غالب ہے ۔ 

ملکی مفاد میں دو بڑوں کی ملاقات اگر حب الوطنی پر معمور کی جاتی اور اچھی توقعات وابستہ کرتے تو کسی کا نقصان نہیں ہونا تھا البتہ مثبت رویوں کا اظہار معاشرے میں خوشگوارتاثر پھیلا دیتا۔وزیر اعظم نے بجا فرمایا ہے کہ جب ضرورت محسوس ہوئی تو دوبارہ بھی ملاقات کروں گا ۔ چیف جسٹس پاکستان کے اپنے چیف جسٹس ہیں ۔ حب الوطنی کے جذبوں سے سرشار ہیں ۔ ملک اور عوام کی بہتری کے لئے سوچتے اور کوششیں کرتے ہیں ۔

وزیر اعظم پاکستان دن رات ملک و قوم کی ترقی اور بہتری کے لئے جد و جہد کرتے ہیں ۔ ملک کے انتظامی سربراہ ہیں ۔ توقع کرنی چاہئے کہ چیف جسٹس آف پاکستان سے ان کی ملاقات سے بہتری کی کاوشیں بار آور بنانے میں مدد ملے گی ۔

کاروباری برادری اور ملک کے دیگر محب وطن افراد و طبقات کی دلی خواہش ہے کہ وزیر اعظم پاکستان اور چیف جسٹس آف پاکستان کی باہمی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہے ۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ کی صاف ستھری سوچ اور فکر کی روشنی میں جہاں ضرورت محسوس ہوئی انتظامی امور میں نکھار پیدا کیا جا سکے گا ۔ اس بارے میں بعض سیاست دانوں کی منفی باتوں کو اہمیت دینے کی ہرگز ضرورت نہیں ۔

ایسے سیاست دان دراصل ملک میں ترقی کا پہیہ جامد کرنا چاہتے ہیں ۔عوام و خواص اچھی طرح جانتے ہیں کہ (2013ء) کے الیکشن میں کامیابی او ر اقتدار میں آنے کے فوری بعد میاں محمد نواز شریف اور میاں محمد شہباز شریف نے ملک کو اندھیروں اور پسماندگی کی دلدل سے نکالنے کے لئے جد و جہد کا آغاز کیا تھا تواپنی سیاست دانوں نے حکومت کے شروع کردہ بڑے ترقیاتی منصوبوں کو معلق و موخر کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا ۔ انہی سیاست دانوں میں سے بعض نے اسلام آباد میں طویل دورانیہ کا کنٹینر دھرنا دیا اور ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ۔

پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد کو یرغمال بنانے کی ناکام کوشش کی ۔پانامہ کو ہنگامہ بنایا ۔ ملک اور عوام سے محبت کا تقاضا ہے کہ تمام سیاست دان بڑے ترقیاتی اور خوشحالی منصوبوں کی تکمیل میں حکومت کے مدد گار بنیں ۔ ملکی سلامتی کے خلاف دشمن کی بڑھکوں کا طاقتور جواب دینے کے لئے ہمہ وقت صف آرا رہیں ۔

بہرحال وزیر عظم پاکستان کو ملک کی بہتری اور سلامتی کے تقاضوں کے پیش نظر ملک کے موقر و موثر اداروں سے رابطوں اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھنا چاہئے ۔وزیر اعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے آرمی چیف سے اپنی ملاقات بارے خوشگوار تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے کام کی تعظیم کی جانی چاہئے ملک و قوم کے لئے پاک فوج کی قربانیاں لازوال ہیں ۔

کاروباری طبقے سمیت ملک کے تمام افراد و طبقات فوج کی قربانیوں کی دل کی اتھاہ گہرائیوں سے معترف ہیں ۔ وزیر اعلی کی طرف سے برملا اس کا اعتراف و اظہار نہایت خوش آئند ہے ۔ایسے جذبات و احساسات یقینی طور پر اداروں کو مربوط و مضبوط بنائیں گے ۔

اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ حکومت کے شروع اور مکمل کردہ بڑے منصوبوں کو سیاست دانوں کی طرف سے پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جائے ،تاکہ پوری قوم میں ہم آہنگی پیدا کرنے میں مدد مل سکے۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...