مال روڈ ریڈ زون۔۔۔ خوش آئند فیصلہ 

مال روڈ ریڈ زون۔۔۔ خوش آئند فیصلہ 

پنجاب کے محکمہ داخلہ نے لاہور کی شاہراہِ قائد اعظم (مال روڈ) کو میاں میر پل سے لے کر استنبول چوک (نزد پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس) تک ریڈ زون قرار دے دیا ہے یہ پابندی فوری طور پر نافذ العمل ہے اور 7 اکتوبر تک جاری رہے گی، چھ ماہ کے اس عرصے میں سڑک کے اس حصے پر کوئی جلسہ نہیں ہو سکے گا نہ ہی مظاہرہ کیا اور جلوس نکالا جا سکے گا اس علاقے میں کسی جگہ دھرنا دینے کی بھی اجازت نہیں ہو گی ریڈ زون کی خلاف ورزی پر قید اور جرمانے کی سزائیں دی جا سکیں گی۔

شاہراہ قائد اعظم پر ویسے تو پہلے بھی کسی نہ کسی انداز میں جلسوں، جلوسوں اور مظاہروں پر پابندی ہے اور یہ پابندی لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر لگائی گئی تھی تاجر تنظیموں کو ہمیشہ سے یہ شکایت ہے کہ جلسے جلوسوں سے ان کا کاروبار متاثر ہوتا ہے اسی طرح اس سڑک پر اگر ٹریفک رک جائے تو ملحقہ سڑکوں پر دباؤ اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ کئی کلومیٹر کے علاقے میں آمد و رفت میں شدید دشواریاں پیدا ہو جاتی ہیں چند کلومیٹر کے علاقے میں درجنوں تعلیمی ادارے اور ہسپتال بھی ہیں جہاں طلبا اور مریضوں کو آمد و رفت میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن تجربہ یہی ہے کہ انتظامیہ کی تمام تر کوششوں کے باوجود شہر کی اس مصروف سڑک پر نہ تو جلسوں کا انعقاد روکا جا سکا اور نہ ہی جلوس نکالنے والوں کو پابند کیا جا سکا ہے کہ وہ شہریوں کے حال پر رحم کریں اور احتجاج کے لئے ٹریفک بند کرنے کا حربہ اختیار نہ کریں اب تک انتظامیہ اس سلسلے میں بُری طرح ناکام رہی ہے۔ جلوس نکالنے والے چند درجن ہوں، چند سو یا چند ہزار وہ سڑک کے عین درمیان میں بیٹھ کر رکاوٹیں کھڑی کر کے یا چند ٹائر جلا کر ٹریفک روک دیتے ہیں اور پورے شہر کواِک گونہ عذاب میں مبتلا کر دیتے ہیں۔

گزشتہ چند ماہ کے درمیان دیکھا گیا ہے کہ ایک سے زیادہ بار نابیناؤں نے کلب روڈ چوک پر دھرنا دیا۔ یا پھر میٹرو کے ٹریک کے در میان ایسے مقام پر آکر بیٹھ گئے کہ بسوں کی آمد و رفت ممکن نہ رہی، نابیناؤں کے جائز مطالبات سے ہمیں پوری ہمدردی ہے اور ان کا حل بغیر احتجاج کے ہی نکالا جانا چاہئے اور کوشش کرنی چاہئے کہ نابیناؤں کو احتجاج کی ضرورت پیش نہ آئے لیکن محسوس ایسے ہوتا ہے کہ ان نابیناؤں کے بعض خود ساختہ سرپرست انہیں لا کر مخصوص مقامات پر بٹھا دیتے ہیں اور اس امر کا اہتمام کرتے ہیں کہ راہ چلنے والوں کے لئے مشکلات پیدا ہوں، ٹریفک جام ہو اور شہری ٹریفک میں پھنس جائیں ایسا کر کے غالباً یہ سمجھا جاتا ہے کہ اب حکومت ان کی بات سننے پر مجبور ہو گی جو عام حالات میں ان کے مطالبات سے صرف نظر کئے رہتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آنکھوں والوں کی معاونت کے بغیر یہ نابینا لوگ کیسے ٹریفک بند کر سکتے ہیں۔؟

اِس سے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی نہ کوئی گروہ ان نابینا لوگوں کی پشت پناہی کرتا ہے اور اگر پولیس ان پر لاٹھی اٹھا لیتی ہے تو پھر احتجاج کرنا بھی آسان ہوجاتا ہے کہ دیکھو کیسے سنگدل لوگ ہیں جو نابیناؤں کو بھی نہیں بخش رہے۔ یوں انتظامیہ دہری تہری مشکل میں پھنس جاتی ہے ایک طرف ٹریفک کے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور ٹریفک میں پھنسے ہوئے لوگ ذمے داروں کو ملاحیاں سنا رہے ہوتے ہیں تو دوسری طرف لاٹھی چارج کی مذمت ہو رہی ہوتی ہے اور تیسری جانب مطالبات سے ہمدردی کی آڑ میں ایک طوفان کھڑا کیا جاتا ہے۔

ماضی قریب کے ان تجربات کی روشنی میں ہی غالباً محکمہ داخلہ نے فیصلہ کیا ہے کہ مال روڈ کوریڈ زون قرار دے دیا جائے، یہ فیصلہ تو ہونا ہی چاہئے تھا لیکن زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا اس فیصلے پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد بھی کرایا جا سکے گا یا نہیں؟ محض یہ توقع رکھنا تو عبث بلکہ خام خیالی ہو گی کہ فیصلے پر عملدرآمد خود کار طریقے سے ہو جائے گا اور لوگ خود بخود مظاہروں اور احتجاجوں کا سلسلہ ختم کر دیں گے۔ ہمارے خیال میں نہ تو ایسا ممکن ہے اور نہ ہی انتظامیہ کو ایسی کوئی بے جا توقع رکھنی چاہئے۔ مظاہرہ کرنے والے اب بھی چاہیں گے کہ وہ اس اہم سڑک کے معروف چوکوں کو ٹریفک کے لئے روکیں اس طرح لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کریں اور اپنے مطالبات کی جانب متعلقہ حکام کی توجہ مبذول کرائیں۔ اسی طرح سیاسی جماعتوں کی بھی یہ پسندیدہ سڑک ہے۔ وہ اپنی ریلیوں کو اس سڑک سے گزارنے کے لئے بضد رہیں گی اور کوشش کریں گی کہ پابندی کے باوجود اپنی طاقت کا مظاہرہ کر کے انتظامیہ پر اپنی دھاک بٹھانے کی کوشش کریں، عین ممکن ہے کوئی بے باک رہنما کہہ بھی دے کہ ہم پابندی توڑ رہے ہیں کوئی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ اس لئے انتظامیہ کو ابھی سے کوئی ایسا پلان بنا لینا چاہئے جس پر عمل کر کے ریڈ زون میں غیر قانونی سرگرمیوں کو روکا جا سکے۔

مظاہرین میں شامل بعض عناصر کی تو ہمیشہ ہی کوشش ہوتی ہے کہ مظاہرہ پر تشدد ہو جائے اور پولیس کو طاقت کے استعمال کا موقع مل جائے جس کی آڑ میں انہیں بھی اپنے مقاصد پورے کرنے میں آسانی رہے گی۔ ایک سال سے زیادہ عرصہ ہوا چیئرنگ کراس پر ایک دھرنے کے دوران خودکش حملے میں دو اعلیٰ پولیس افسروں سمیت بہت سے اہل کار شہید ہو گئے، یہ افسر دھرنے کے شرکاء کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ وہ یہاں سے اٹھ جائیں کیونکہ ایسی اطلاعات ہیں کہ یہاں حملہ ہو سکتا ہے ابھی وہ یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ ایک خود کش حملہ آور پیدل چلتا ہوا پولیس کے پاس پہنچا اور دھماکہ کر دیا اس کا ٹارگٹ بھی پولیس ہی تھی اور وہ کئی دن سے لاہور میں اپنے سہولت کار کے ہاں ٹھہرا ہوا تھا، کاش دھرنے والے پولیس افسروں کی بات مان لیتے اور یہ سانحہ نہ ہوتا بہت سے سانحات کے سامنے حرفِ کاش جلی حروف میں لکھا ہوا نظر آتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہم اپنا طرز عمل بدلنے پر تیار نہیں ہوئے۔

اب اگر انتظامیہ نے مال روڈ کو ریڈ زون قرار دیا ہے تو اس فیصلے پر حکمت و دانش کے ساتھ عملدرآمد کی ضرورت ہے اور ایسا شہریوں کے عملی تعاون ہی سے ممکن ہے۔ اعلیٰ سطح پر انتظامیہ اور شہریوں کے نمائندوں کے ساتھ بیٹھ کر اس سلسلے میں کوئی مستقل لائحہ عمل تیار کرلینا چاہئے کہ مظاہرین ریڈ زون میں آنے سے گریز کریں۔ بہتر یہ ہے کہ انتظامیہ اس سلسلے میں ’’نامور مظاہرین‘‘ کے ساتھ کوئی مستقل سمجھوتہ کر لے اور انہیں شہر کے اندر کوئی ایسی جگہ فراہم کر دی جائے جہاں وہ اپنے مطالبات کے حق میں آواز اٹھا سکیں۔ فیصلہ تو اچھا ہے ، بشرطیکہ اس پر اس کی روح کے مطابق خوش اسلوبی سے عمل بھی ہو جائے، توقع کرنی چاہئے کہ اس قانون کی خلاف ورزی سے حتی الامکان گریز کیا جائے گا۔

مزید : رائے /اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...