وکلاء میں جھگڑے کا افسوسناک واقعہ

وکلاء میں جھگڑے کا افسوسناک واقعہ

ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ وکلاء کے دو گروپوں میں جھگڑا ہونے سے ایوانِ عدل کا احاطہ اکھاڑہ بن گیا اور دونوں اطراف سے وکلاء نے ایک دوسرے پر لاتوں گھونسوں اور مکوں کی بارش کردی، بتایا گیا ہے کہ جھگڑا اس وقت شروع ہوا جب ہنسی مذاق ہورہا تھا تو ایک وکیل نے دوسرے کو جعلی وکیل ہونے کا طعنہ دے دیا، تلخ کلامی کے بعد وکلاء کے دو گروپ ایک دوسرے کو زدو کوب کرنے لگے تاہم بعض وکلاء نے مداخلت کرتے ہوئے بیچ بچاؤ کرایا اور معاملہ رفع دفع ہوگیا، وکلاء کے درمیان اس قسم کا جھگڑا بے حد افسوسناک ہے، وکلاء کو پڑھا لکھا ہونے اور معزز پیشے سے وابستہ ہونے کی وجہ سے احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور ان سے ذمے داری، سنجیدگی، بردباری اور با وقار طرزِ عمل کی توقع کی جاتی ہے، کسی عدالت کا احاطہ اس طرح اکھاڑہ بن جائے تو حیرت کے ساتھ ساتھ افسوس بھی ہوتا ہے، ہنسی مذاق اور جملے بازی کے دوران صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑنا نہیں چاہئے، اشتعال انگیزی دونوں جانب سے ہوئی اور قابلِ احترام وکلاء نے ایک دوسرے کو تشدد کا نشانہ بنایا اور برا بھلا کہہ کر بھی اپنے دل کی بھڑاس نکالی، ایوانِ عدل کے احاطے میں سینکڑوں سائل موجود ہوتے ہیں، ان کے سامنے جو افسوسناک واقعہ پیش آیا اس کی وجہ سے وکلاء کا امیج بہر طور پر متاثر ہوا ہے۔ یہ بات واضح نہیں ہوسکی کہ جن صاحب کو جعلی وکیل ہونے کا طعنہ دیا گیا محض ان سے مذاق میں بات کی گئی یا واقعی وہ باقاعدہ لائسنس یافتہ وکیل نہیں، یہ بات اہم ہے اگر وہ جعلی وکیل ہیں تو وکلاء کے درمیان کیسے موجود تھے؟ عدالتوں میں کئی جعلی وکیل پھرتے رہتے ہیں، جنہیں وکلاء نے تشدد کا نشانہ بنا کر پولیس کے حوالے کیا ہے، کچھ ایسے واقعات بھی ہوئے کہ عدالتی کارروائی کے دوران جج صاحب کے روبرو پیش ہونے والے شخص کے بارے میں انکشاف ہوا کہ وہ وکیل نہیں اور کالا کوٹ پہن کر مقدمات کی پیروی کررہے ہیں ایسے جعل سازوں اور دھوکہ بازوں کو ہرگز برداشت نہیں کرنا چاہئے، اس واقعہ سے وکلاء برادری کا امیج متاثر ہوا ہے۔ ججوں، وارڈنز اور دیگر ملازمین کے ساتھ وکلاء کے تنازعے اور جھگڑے کے واقعات ہوتے رہتے ہیں اب وکلاء آپس میں بھی جھگڑا کریں گے تو ان کے بارے میں اچھا تاثر نہیں پایا جائے گا، وکلاء کو تحمل، ضبط اور برداشت سے کام لینا چاہئے، یہی ان کے معزز پیشے کا تقاضا ہے۔

مزید : رائے /اداریہ