پنجابی تحقیق میں سرقہ کی ایک نئی واردات

پنجابی تحقیق میں سرقہ کی ایک نئی واردات
پنجابی تحقیق میں سرقہ کی ایک نئی واردات

  

شعبہ پنجابی پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے ’’کھوج‘‘ نامی ایک خالص تحقیقی ششماہی مجلہ شائع ہوتا ہے۔ اس کے اکٹھے دو شمارے حال ہی میں منظرِ عام پر آئے ہیں۔ 78 نمبر شمارے میں پنجابی کے سات، انگریزی کا ایک اور اردو کے دو مقالات شامل ہیں۔

یہ سب تحقیقی کاوشیں اپنی اپنی جگہ اپنے مواد اور پیشکش کے اعتبار سے لائقِ مطالعہ ہیں۔ لیکن سید اخلاق حسین کا مقالہ بہ عنوان ’’پریم کہانی از باوا بدھ سنگھ: تحقیقی تجزیاتی مطالعہ‘‘ خاص طور سے ہماری توجہ کا ہدف بنا ہے۔ مقالے کی ضخامت 26 صفحات پر مشتمل ہے۔

باوا بدھ سنگھ پیشے کے اعتبار سے انجینئر تھے۔ 14 اکتوبر 1931ء کو ان کی موٹر کار کو حادثہ پیش آیا جس میں باوا صاحب 53 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وہ پنجابی زبان و ادب کے مشہور سیوک تھے اور 16 کتابوں کے مصنف۔ انہوں نے ناٹک (ڈراما) اور کویتا (شاعری) کے علاوہ پنجابی زبان و ادب کی تاریخ سے متعلق چار کتابیں لکھیں: ہنس چوگ، کوئل کو، بنبیہا بول اور پریم کہانی۔ ان میں سے پہلی تین گورمکھی اور آخری شہ مکھی (اردو رسم الخط) میں شائع ہوئی۔

اس کا پہلا ایڈیشن 1926ء میں منظر عام پر آیا تھا۔ یہ کتاب چونکہ پنجابی فاضل کے نصاب میں بھی شامل رہی ہے اس لئے اب تک اس کے کئی ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔

باوا بدھ سنگھ کی مذکورہ بالا کتاب (پریم کہانی) کے بارے میں سب سے پہلے پنجابی کے ممتاز اسکالر جناب ڈاکٹر احمد حسین احمد قریشی قلعداری نے اپنے ایک تفصیلی مقالے کی صورت میں اظہار خیال کیا تھا۔

یہ مقالہ پہلی بار ماہنامہ ’’پنجابی ادب‘‘ کے تذکرہ نمبر میں چھپا، اس کے بعد 1975ء میں جب قلعداری صاحب نے اپنی کتاب ’’پنجابی ادبیات دا تحقیقی مطالعہ‘‘ شائع کی تو اس میں یہ تحریر شامل کی تھی۔

اس میں مصنف محترم نے ’’پریم کہانی‘‘ کی تحقیقی اغلاط کی نشاندہی کی تھی۔ اب قلع داری صاحب کی اسی تحقیقی کاوش کو جناب سید اخلاق حسین نے اپنے نام سے ’’کھوج‘‘ (نمبر 78) میں طبع کروا لیا ہے۔ اسی لئے یہ تحریر ہماری توجہ کا مرکز بنی ہے۔

عام طور پر کسی پر الزام لگاتے ہوئے دلیل دینا ضروری ہوتاہے لیکن سید اخلاق صاحب نے سرقہ کی ایسی کھلی کھلی واردات کی ہے کہ اس پر دلائل دینے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔ اگر کسی صاحب کو شبہ ہو کہ شاید حقیقت کچھ اور ہو گی تو وہ ڈاکٹر قلعداری کی کتاب ’’ پنجابی ادبیات دا تحقیقی مطالعہ‘‘ کا صفحہ 48 کھولے اور صفحہ 79 تک دیکھتا جائے اور پھر بتائے کہ کیا یہی وہ سارا مواد نہیں جو سید اخلاق حسین نے کسی قسم کا حوالہ دیئے بغیر بڑی دیدہ دلیری کے ساتھ اٹھا لیا ہے۔ ایڈیٹر ’’کھوج‘‘ نے اطلاع دی ہے کہ سید موصوف علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ پاکستانی زبانیں و ادب میں پی ایچ ڈی کے اسکالر ہیں۔ حیرت ہوتی ہے کہ اگر موصوف چوری ہی کو تحقیق سمجھتے ہیں جس کا مظاہرہ انہوں نے پریم کہانی کے ضمن میں کیا ہے تو ان کے ڈاکٹریٹ ورک کا کیا اعتبار ہوگا۔ شاید ایسے ہی ہوگا کہ جس طرح ایڈیٹر ’’کھوج‘‘ نے بے خبری میں سید صاحب کا مقالہ شامل اشاعت کر لیا بلکہ اداریئے میں اس پر چند توصیفی کلمات بھی رقم فرما دیئے، اسی طرح کل کو ان کے ڈاکٹریٹ ورک پر بھی ڈگری جاری ہو جائے گی۔

’’کھوج‘‘ کے شمارہ 79 میں ایک انگریزی اور 3 پنجابی مقالات شامل ہیں۔ ان میں جناب ڈاکٹر محمد اعجاز کی تحریر لائق تحسین و آفرین ہے، جو ایم اے کے تحقیقی مقالات کی توضیحی فہرست ہے۔ پنجابی محققین کے لئے اس فہرست میں رہنمائی کا اچھا خاصا مواد شامل ہے۔

بطور ریسرچ جرنل ’’کھوج‘‘ کا معیار مجموعی طور پر بلا شبہ اطمینان بخش ہے لیکن پھر بھی ہم اس کی مدیرہ محترمہ پروفیسر ڈاکٹر نبیلہ رحمان اور معاون مدیر ڈاکٹر سعادت علی ثاقب کو اس طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتے ہیں کہ پروف کی اتنی غلطیاں ہوتی ہیں کہ قاری خاصی بدمزگی محسوس کرتاہے۔ مثلاً شمارہ 78 کی تحریروں میں شامل جتنے بھی انگریزی الفاظ ہیں ان میں سے اکثر و بیشتر کے ہجے غلط درج ہوئے ہیں۔

یونیورسٹی کی سطح پر جو تحقیقی کام ہوتے ہیں ان میں ایسی اغلاط کی توقع نہیں کی جاتی۔ دوسرے ادارتی ٹیم کو چاہئے کہ وہ مقالات کے مندرجات کو بھی بغور دیکھے، اگر زبان و بیان کے حوالے سے کہیں گڑ بڑ نظر آئے تو وہ مقالہ لکھنے والے کو نظرثانی کے لئے واپس بھیج دیا جائے۔

شمارہ 79 میں ڈاکٹر بتول زہرا کا مقالہ استاد کرم امرتسری کے بارے شامل ہے جس میں ڈاکٹر صاحبہ نے اپنی ممدوح شخصیت کے حالات زندگی دیئے ہیں تو وفات کی اصل تاریخ (13 جنوری 1959) درج کرنے کی بجائے صرف سن 1959ء ہی (ص:124) درج کرنے پر اکتفا کر لیا ہے۔

اس حوالے سے مقالہ نگار کی سہل پسندی سامنے آتی ہے، جو محقق کے شایانِ شان نہیں ہوتی۔ اسی طرح ڈاکٹر احسان اللہ طاہر اور ڈاکٹر الطاف حسین لنگڑیال کے مشترکہ مقالہ میں ایک فقرہ کچھ عجیب سا لگتا ہے لکھتے ہیں: ’’سلطان باہو ہوری صوفیانہ فکر رکھنے والے پختہ ترین قادری صوفی سن‘‘؟ معلوم نہیں پختہ ترین صوفی سے کیا مراد ہے؟ 

آخر میں ہم ادارتی ٹیم کی خدمت میں یہ عرض کرنا ضروری خیال کرتے ہیں کہ اگلے شمارے میں سید اخلاق حسین کی ’’تحقیقی کاوش‘‘ پر وضاحتی نوٹ شامل کیا جائے تاکہ آئندہ ’’کھوج‘‘ سرقے کی وارداتوں سے محفوظ رہ سکے۔

مزید : رائے /کالم