حضرت امیر معاویہؓ۔۔۔ اِسلامی بحریہ کے بانی 

حضرت امیر معاویہؓ۔۔۔ اِسلامی بحریہ کے بانی 
حضرت امیر معاویہؓ۔۔۔ اِسلامی بحریہ کے بانی 

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سیدنا حضرت امیر معاویہؓ وہ خوش نصیب انسان ہیں جن کو جلیل القدر صحابی ہونے کے ساتھ ساتھ کاتب وحی اور پہلے اسلامی بحری بیڑے کے موجد ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور آپؓ کے لیے حضور ﷺ کی زبان مبارک سے کئی مرتبہ دعائیں اور بشارتیں نکلیں۔

آپؓ کی بہن حضرت سیدہ امّ حبیبہؓ کو حضور اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ اور اُمّ المؤمنین ہونے کا شرف بھی حاصل ہے، آپؓ نے 19 سال تک 64 لاکھ مربع میل یعنی آدھی دنیا پر حکومت کی۔

سیدنا حضرت امیر معاویہؓ کے بارے میں حضور ﷺنے فرمایا کہ! اللہ تعالیٰ قیامت کے دن معاویہؓ کو اس حالت میں اٹھائیں گے کہ ان پر نورِ ایمان کی چادر ہوگی۔ (کنزالعمال)ایک موقعہ پر سیدنا حضرت امیر معاویہؓ کے بارے میں میں حضور ﷺ نے فرمایا کہ! اے اللہ معاویہؓ کو ہدایت دینے والا، ہدایت پر قائم رہنے والا اور لوگوں کے لیے ذریعہ ہدایت بنا۔ (جامع ترمذی)

سیدنا حضرت امیر معاویہؓ سروقد، لحیم و شحیم، رنگ گورا، چہرہ کتابی، آنکھیں موٹی، گھنی داڑھی، وضع قطع، چال، ڈھال میں بظاہر شان و شوکت اور تمکنت مگر مزاج اور طبیعت میں زہد و تواضع، فروتنی، حلم و بردباری اور چہرہ سے ذہانت و فطانت مترشح تھی۔

حضرت امیر معاویہؓ نے جب اپنے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا تو حضورﷺ نے انہیں مبارکباد دی اور ’’مرحبا‘‘ فرمایا (البدایہ والنہایہ 117/8)

حضور ﷺ چونکہ حضرت امیر معاویہؓ کے سابقہ حالات زندگی اور ان کی صلاحیت و قابلیت سے آگاہ تھے اس لیے انھیں اپنے خاص قرب سے نوازا۔ فتح مکہ کے بعد آپؓ حضور ﷺ کے ساتھ ہی رہے اور تمام غزوات میں حضور ﷺ کی قیادت و معیت میں بھرپور حصہ لیا۔

قرآن مجید کی حفاظت میں ایک اہم سبب ’’کتابت وحی‘‘ ہے۔ حضور ﷺ نے جلیل القدر صحابہ کرامؓ پر مشتمل ایک جماعت مقرر کر رکھی تھی جو کہ ’’کاتبین وحی‘‘ تھے ان میں سیدنا حضرت امیر معاویہؓ کا چھٹا نمبر تھا، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی لکھتے ہیں کہ حضورﷺ اسی کو کاتب وحی بناتے تھے جو ذی عدالت اور امانت دار ہوتا تھا۔ 

سیدنا حضرت امیر معاویہؓ وہ خوش قسمت انسان ہیں جن کو کتابت وحی کے ساتھ ساتھ حضور ﷺ کے خطوط تحریر کرنے کی بھی سعادت حاصل ہوئی۔

سیدنا حضرت امیر معاویہؓ حضورﷺ کی خدمت میں حاضر رہتے یہاں تک کہ سفر و حضر میں بھی خدمت کا موقعہ تلاش کرتے۔۔۔ چنانچہ ایک بار حضورﷺ کہیں تشریف لے چلے تو سیدنا حضرت امیر معاویہؓ خدمت کے لیے پیچھے پیچھے ساتھ ہو گئے۔

راستہ میں حضورﷺ کو وضو کی حاجت ہوئی۔ پیچھے مڑے تو دیکھا سیدنا امیر معاویہؓ پانی کا برتن لیے کھڑے ہیں آپ ﷺبڑے متاثر ہوئے چنانچہ وضو کے لیے بیٹھے تو فرمانے لگے۔

’’معاویہؓ تم حکمران بنو تو نیک لوگوں کے ساتھ نیکی کرنا اور برے لوگوں سے درگزر کرنا۔‘‘ حضرت معاویہؓ فرمایا کرتے تھے کہ اسی وقت مجھے امید ہو گئی تھی کہ حضور ﷺ کی پیشین گوئی صادق آئے گی اور میں کبھی نہ کبھی ضرور خلیفہ ہو کر رہوں گا۔

حضور ﷺ آپؓ کی خدمت اور بے لوث محبت سے اتنا خوش تھے کہ بعض اہم خدمات آپؓ کے سپرد فرما دی تھیں۔ علامہ اکبر نجیب آبادی ’’تاریخ اسلام‘‘ میں رقمطراز ہیں کہ حضور ﷺ نے اپنے باہر سے آ ئے ہوئے مہمانوں کی خاطر مدارت اور ان کے قیام و طعام کا انتظام و اہتمام بھی حضرت معاویہؓ کے سپرد کر دیا تھا۔ حضور ﷺ کی وفات کے بعد خلیفہ اول سیدنا حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے دور خلافت میں آپؓ نے مانعین زکوٰۃ، منکرین ختم نبوت، جھوٹے مدعیان نبوت اور مرتدین کے فتنوں کے خلاف بھرپور حصہ لیا اور کئی کارنامے سرانجام دیے۔ عرب نقاد رضوی لکھتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہؓ کسی کا خون بہانا پسند نہیں کرتے تھے مگر پھر بھی آپؓ اسلامی ہدایات کے مطابق مرتدین کے قتل و قتال میں کسی سے پیچھے نہ تھے ایک روایت کے مطابق مسیلمہ کذاب حضرت معاویہؓ کے وار سے جہنم رسید ہوا۔۔۔۔

خلیفہ دوم سیدنا حضرت عمر فاروقؓ کے دور خلافت میں جو فتوحات ہوئیں اس میں حضرت امیر معاویہؓ کا نمایاں حصہ اور کردار ہے جنگ یرموک میں آپؓ بڑی بہادری اور دلیری کے ساتھ لڑے۔

خلیفہ سوم سیدنا حضرت عثمان غنیؓ کے دور خلافت میں سیدنا حضرت امیر معاویہؓ جہاد و فتوحات میں مصروف رہے اور آپؓ نے رومیوں کو شکست فاش دیتے ہوئے طرابلس، الشام، عموریہ، شمشاط، ملطیہ، انطاکیہ، طرطوس، ارواڑ، روڈس اور صقلیہ کو حدود نصرانیت سے نکال کر اسلامی سلطنت میں داخل کر دیے۔۔۔ 

’’بحر روم‘‘ میں رومی حکومت کا ایک بہت بڑا بحری مرکز تھا جو کہ شام کے ساحل کے قریب ہونے کے باعث شام کے مسلمانوں کے لیے بہت قریبی خطرہ تھا اسے فتح کیے بغیر شام و مصر کی حفاظت ممکن نہ تھی اس کے علاوہ سرحدی رومی اکثر مسلمانوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے مسلمانوں کو تنگ کرتے رہتے تھے۔۔۔ حضرت عثمان غنیؓ کی طرف سے بحری بیڑے کو تیار کرنے کی اجازت ملنے کے بعد حضرت امیر معاویہؓ نے بڑے جوش خروش کے ساتھ بحری بیڑے کی تیاری شروع کر دی اور اپنی اس بحری مہم کا اعلان کر دیا۔۔۔ جس کے جواب میں جذبہ جہاد سے سرشار مجاہدین اسلام شام کا رخ کرنے لگے۔۔۔ 28ھ میں آپؓ پوری شان و شوکت، تیاری و طاقت اور اسلامی تاریخ کے پہلے بحری بیڑے کے ساتھ ’’بحر روم‘‘ میں اترے لیکن وہاں کے باشندوں نے مسلمانوں کے ساتھ صلح کر لی لیکن بعد میں مسلمانوں کو تنگ کرنے اور بدعہدی کرنے پر سیدنا حضرت امیر معاویہؓ پوری بحری طاقت اور عظیم الشان بحری بیڑے کے ساتھ جس میں تقریباً پانچ سو کے قریب بحری جہاز شامل تھے قبرص (سائپرس) کی طرف روانہ ہوئے اور بڑی بہادری سے لڑتے ہوئے قبرص (سائپرس) کو فتح کر لیا، اس لشکر کے امیر و قائد خود سیدنا حضرت امیر معاویہؓ تھے آپؓ کی قیادت میں اس پہلی بحری لڑائی اور فتح قبرص کے لیے بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ کرامؓ جن میں حضرت ابو ایوب انصاریؓ ، حضرت ابوذر غفاریؓ ، حضرت ابودرداءؓ ، حضرت عبادہ بن صامتؓ اور حضرت شداد بن اوسؓ سمیت دیگر صحابہ کرامؓ شریک ہوئے۔۔۔ اس لڑائی میں رومیوں نے بڑے جوش و خروش سے حصہ لیا، تجربہ کار رومی فوجوں اور بحری لڑائی کے ماہر ہونے کے باوجود اس لڑائی میں رومیوں کو بدترین شکست ہوئی اور مسلمانوں کو تاریخی فتح حاصل ہوئی۔

حضور ﷺ نے ’’اُمّ حرام‘‘ والی حدیث میں دو اسلامی لشکروں کے بارے میں مغفرت اور جنت کی بشارت و خوشخبری فرمائی ان میں سے ایک وہ لشکر جو سب سے پہلے اسلامی بحری جنگ لڑے گا اور دوسرا وہ لشکر جو قیصر کے شہر (قسطنطنیہ) میں جنگ کرے گا۔

(1) سیدنا حضرت امیر معاویہؓ نے سب سے پہلا اقامتی ہسپتال دمشق میں قائم کیا۔ (2) سب سے پہلے اسلامی بحریہ قائم کی، جہاز سازی کے کارخانے بنائے اور دنیا کی سب سے زبردست رومن بحریہ کو شکست دی۔ (3) آب پاشی اور آب نوشی کے لیے دورِ اسلامی میں پہلی نہر کھدوائی۔

(4) ڈاک خانہ کی تنظیم نو کی اور ڈاک کا جدید اور مضبوط نظام قائم کیا۔ (5) سب سے پہلے احکام پر مہر لگانے اور حکم کی نقل دفتر میں محفوظ رکھنے کا طریقہ ایجاد کیا۔ (6) آپؓ سے پہلے خانہ کعبہ پر غلافوں کے اوپر ہی غلاف چڑھائے جاتے تھے۔ آپؓ نے پرانے غلاف کو اتار کر نیا غلاف چڑھانے کا حکم دیا۔ (7) خط دیوانی ایجاد کیا اور رقوم کو الفاظ کی صورت میں لکھنے کا طریقہ پیدا کیا۔ (8) انتظامیہ کو بلند تر بنایا اور انتظامیہ کو عدلیہ میں مداخلت سے روک دیا۔

(9) آپؓ نے دین اخلاق اور قانون کی طرح طب اور علم الجراحت کی تعلیم کا انتظام بھی کیا۔ (10) آپؓ نے بیت المال سے تجارتی قرضے بغیر اشتراک و نفع کے جاری کر کے تجارت و صنعت کو فروغ دیا اور بین الاقوامی معاہدے کیے۔ (11) سرحدوں کی حفاظت کے لیے قدیم قلعوں کی مرمت کر کے اور چند نئے قلعے تعمیر کرا کر اس میں مستقل فوجیں متعین کیں۔ (12) سیدنا حضرت امیر معاویہؓ کے دور میں ہی سب سے پہلے منجنیق کا استعمال کیا گیا (تاریخ اسلام از اکبر شاہ خان نجیب آبادی)

سیدنا حضرت امیر معاویہؓ سے حضور ﷺ کی ایک سو تریسٹھ احادیث مروی ہیں۔ سیدنا حضرت امیر معاویہؓ کے آئینہ اخلاق میں اخلاص، علم و فضل، فقہ و اجتہاد، تقریر و خطابت، غریب پروری، خدمت خلق، مہمان نوازی، مخالفین کے ساتھ حسن سلوک، فیاضی و سخاوت، اصابت رائے، عفو و درگزر، اطاعت الٰہی، اطاعت رسول ﷺ، اتباع سنت، جوش قبول حق، تحمل و بردباری، تقویٰ اور خوف الٰہی کا عکس نمایاں نظر آتا ہے۔

سیدنا حضرت امیر معاویہؓ 78 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ حضرت ضحاک بن قیسؓ نے آپؓ کی نماز جنازہ پڑھائی اور دمشق کے باب الصغیر میں دفن کیے گئے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔

مزید : رائے /کالم