بالادستی اور احترام؟

بالادستی اور احترام؟

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ افراد کا احترام ان کے کردار سے مشروط ہوتا ہے اور اداروں کا احترام اُن کی کارکردگی کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔ منتخب ادارے بھی معزز، قابل عزت و احترام اور مقدس ہوتے ہیں، لیکن یہ کسی عمارت کا نام نہیں ہوتا۔

بلکہ یہ اُن افراد کا نام اور کارکردگی ہوتی ہے جنہیں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے ہم خود منتخب کرکے بھیجتے ہیں،اپنے اوپر مسلط کرتے ہیں۔۔۔ اس پر اپنی رائے دینے سے پہلے میں کچھ حوالے دینا چاہتا ہوں، اتوار 18مارچ کے روزنامہ پاکستان میں محترم مجیب الرحمن شامی صاحب کا ایک آرٹیکل شائع ہوا، جس کا عنوان تھا: ’’سوال کا جواب‘‘۔۔۔ اس سے ایک اقتباس۔۔۔ منتخب عہدیدار پارلیمنٹ کو وقت نہیں دیتے۔

اُن کی بودوباش شاہانہ ہے، قومی خزانے کو بے دریغ لٹاتے اور نمود و نمائش پر جان دیتے ہیں۔ شامی صاحب کا یہ کالم دنیا میں بھی چھپتا ہے جس کے اسی روز کے اداریے ’’بے فائدہ اجلاس‘‘ میں لکھا تھا: ’’ہمارے ملک میں کہنے کو تو جمہوریت ہے، لیکن اس نظام کو جمہوریت کی اصل روح کے مطابق نہیں چلایا جارہا، جس کی سب سے بڑی وجہ عوامی نمائندوں کا قانون سازی کے عمل میں دلچسپی نہ لینا ہے۔۔۔(یہ ذہن میں رہے کہ یہی وہ ذمہ داری ہے، جس کے لئے یہ ادارے قائم کئے جاتے ہیں، تاکہ عوامی مفاد میں اور عوام کی مشکلات دور نہیں تو کم کرنے کے لئے ہی سہی قانون سازی کی جائے) یہی وجہ ہے کہ یہاں اسمبلی سیشن بے مقصد اور عوام کے پیسوں اور وقت کے ضیاع کا باعث بن رہے ہیں۔ اجلاس کی کارروائی میں کہیں عوامی مفادات کارفرما نظر نہیں آتے۔

محترم شامی صاحب( جن کے نزدیک دعوے قرآن اور حدیث نہیں ہوتے) کے کالم کے ساتھ ہی خالد مسعود خان صاحب کا کالم جڑا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ’’ ایسی دنیا جس میں جمہوریت ہے( اور خطرے میں نہیں) قومی دولت کو حکمران اپنے باپ کا مال سمجھ کر استعمال نہیں کرتے، جہاں لوگ حکمرانوں سے اپنے ٹیکسوں کے پیسے کے استعمال کا حساب مانگتے ہیں اور کوئی نہیں کہتا کہ اگر میرے اثاثے میرے ذرائع آمدن سے زیادہ ہیں تو تمہیں کیا؟۔۔۔ اور درباری جمہوریت کے منہ پر اس زور دار تھپڑ پر تالیاں بجاتے ہیں۔ اس میں انعامی بانڈ والا ’’جھرلو‘‘ نہیں ہوگا۔

میں بہت ہی محترم جناب حبیب اکرم صاحب کے کالم ’’ کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے‘‘ کا اقتباس بھی ضروری سمجھتا ہوں۔ وہ لکھتے ہیں ’’ میں پاکستانیوں سے بھی معافی چاہتا ہوں، میں نے انہیں یقین دلایا کہ نواز شریف، آصف علی زرداری، عمران خان، مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی سمیت سارے منتخب لوگ اُن کی فلاح و بہبود اور حق حکمرانی کی حفاظت کے لئے سب کچھ کر گزریں گے، بس اس نظام کو ذرا چلنے کی مہلت دے دو۔ میں یہ سب کچھ کہنا چاہتا ہوں، مگر نہیں کہہ سکتا۔ مجھے شرم آتی ہے کہ میں ’’ادارے‘‘ کی بالادستی کی تبلیغ کرتا رہا ہوں، آج اس کے بارے میں کہوں کہ یہ مفاد پرستوں کا ٹولہ ہے، امیروں کا ایسا ٹولہ ہے، جو صرف اپنا اور اپنے بچوں کا مفاد دیکھتا ہے، میرا اور میرے بچوں کا مفاد ان کی ترجیحات میں سرے سے شامل ہی نہیں۔

جمہوریت اور جمہوری اداروں کا دفاع کرنے والے ہر شخص کی طرح مجھے یہ بتاتے ہوئے بھی شرم آتی ہے کہ پارلیمنٹ میں موجود ہر پارٹی کے ارکان نے دو سال لگا کر الیکشن قوانین میں اصلاحات کی بھی تو ایسی کہ الیکشن لڑنے والے کے لئے حرام خوری (رشوت) ناجائز اثاثے، ٹیکس چوری جرائم نہ رہیں، بلکہ وہ ان کے زور پر الیکشن جیت کر ہمارے سینوں پر پانچ سال کے لئے مونگ دلتا رہے۔

مجھے یہ گمان بھی تھا کہ ارسلان افتخار اور نواز شریف کے بچوں کی جائیداد کے معاملات سامنے آنے پر قومی اسمبلی کی رکنیت کے لئے بچوں کی جائیداد کاروبار کی تفصیلات ظاہر کرنا لازمی قرارپائے گا، لیکن اس اسمبلی نے شفافیت کی ہر توقع پر پانی پھیر دیا اور تو اور یہ بھی طے کرلیا کہ آئندہ کاغذات نامزدگی میں جو معلومات دی جائیں گی، اگر غلط بھی نکل آئیں تو کسی کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوسکے گی۔

آپ کی معلومات میں اضافہ ہوگا کہ قانون کو اپنی ضرورت کے مطابق ڈھالنے والوں میں اسحق ڈار، زاہد حامد، انوشہ رحمن، شیریں مزاری، عارف علوی، شفقت محمود، اعتزاز احسن، نوید قمر، رضا ربانی اور فاروق نائیک بھی شامل ہیں۔

اب جو میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہمارے لئے ’’نظام‘‘ یعنی System تو کبھی ترتیب ہی نہیں دیا گیا۔ کبھی قائم کرنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی، جو آتا ہے اپنی مرضی کا انتظام کرتا ہے، اپنی مرضی کا Agreement طے کرلیتا ہے۔

سسٹم ہو تو چلتا رہے، حکومتیں آتی رہیں جاتی رہیں، لیکن ادارے اور سسٹم قائم رہے، چونکہ ایسا کبھی ہوا نہیں اور نہ مستقبل میں امید ہے(میرے منہ میں خاک) اس لئے نہ ادارے مضبوط ہوسکے اور نہ ان کی حدود کا تعین ہوسکا۔ جن کی تعظیم کے لئے زمین و آسمان ایک کردیئے جاتے ہیں، حال ہی میں انہوں نے جو ’’چن‘‘ چڑھائے ہیں، آئیے ان پر بھی نظر ڈالتے ہیں۔

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہے، ان کیمرہ سیشن ہے، لیکن اجلاس کی ساری کارروائی موبائل فون کے ذریعے باہر آرہی ہے اورٹی وی پرٹکر چل رہے ہیں، یہ ہے ہمارے اپنے منتخب کردہ اراکین کا احساس ذمہ داری اور اپنے حلف کا پاس: پھر بھی ہم مجبور ہیں کہ پارلیمنٹ کی عظمت اور تقدس کا احترام کریں، قابل عزت اور قابل احترام ادارہ کہیں۔۔۔ سینٹ کا اجلاس ہے، دوبارہ ان کیمرہ سیشن ہے، افواج پاکستان کی Top Brass آئی ہے، سیکیورٹی بریف ہوئی، اُس کی کارروائی Leak ہوتی رہی، لیکن پھر بھی ہم اس محترم ادارے کی عظمت تسلیم کرنے پر مجبور ہیں، لیکن یہاں یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ آئندہ اِن کیمرہ سیشن سے پہلے سارے محترم اراکین سینٹ اور قومی اسمبلی سے موبائل فون لے لینے چاہئیں اور اجلاس شروع ہونے سے پہلے کلبھوشن کی والدہ اور بیوی کی طرح ان کی تلاشی بھی لینی چاہئے۔ یہ ہماری قومی سلامتی اور سالمیت کا سوال ہے۔۔۔ یاپھر سربراہان افواج پاکستان کو سیکیورٹی بریف (جو دراصل سیکیورٹی بریچ ہوئی ہے) کے لئے جانا ہی نہیں چاہئے۔

سب سے قابل تشویش معزز اراکین کا یہ رویہ ہے کہ ختم نبوتؐ کے حلف نامے پر بغیر دیکھے اور پڑھے دستخط کردیئے۔ ڈر ہے اور اس کی قابل توجہ وجہ ہے کہ اس لاپروائی سے کہیں معزز اراکین پارلیمنٹ پاکستان کی فروخت یا پاک بھارت سرحد( جو ایک محترم ہستی کے مطابق ایک باریک لکیر ہے) کے خاتمے پر بھی دستخط نہ کردیں۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...