اسلام آباد کی سیاسی فضا 

اسلام آباد کی سیاسی فضا 
اسلام آباد کی سیاسی فضا 

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد میں جہاں بھی جانے کا موقع ملا، گھوم پھر کر بات دو پہلوؤں تک ضرور آئی۔ اوّل یہ کہ نوازشریف کا کیا بنے گا اور دوسرا یہ کہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے بہت کم وقت میں سپریم کورٹ کی طاقت کو منوا لیا ہے۔۔۔ کئی جگہ تو مجھ سے یہ بھی پوچھا گیا کہ چیف جسٹس ثاقب نثار ریٹائر کب ہو رہے ہیں اور کئی چہروں کو ملول ہوتے بھی دیکھا۔

جب یہ بتایا کہ سال سے بھی کم عرصہ رہ گیا ہے۔۔۔ یہ سب دیکھ کر ایک سوال ذہن میں بار بار آیا کہ آخر ہمارے منتخب حکمرانوں کے بارے میں عوام ایسا کیوں نہیں سوچتے، کیوں دعائیں مانگتے ہیں کہ جلد از جلد ان کا عرصہ اقتدار مکمل ہو اور وہ سکھ کا سانس لے سکیں، حالانکہ سکھ کا سانس انہیں پھر بھی نہیں ملتا۔ مجھے یاد ہے کہ پچھلی حکومت کے آخری دنوں میں جب لوڈشیڈنگ اور مہنگائی عروج پر تھی تو لوگ ایک ایک دن گن کر کاٹ رہے تھے۔

انہیں یوں لگتا تھا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت ختم ہوگی اور نئی حکومت آئے گی تو ان کے تمام مسائل ختم ہو جائیں گے، مگر یہ خواب تو ان کا پھر بھی پورا نہیں ہوا۔ اب یہ حکومت آخری دن گزار رہی ہے لیکن عوام سمجھتے ہیں کہ دن گزر نہیں رہے۔ مہنگائی نے کمر توڑ دی ہے، امن و امان کی صورت حال ناگفتہ بہ ہے، دن دہاڑے قتل ہو رہے ہیں، بچیاں اغوا کرکے زیادتی کا نشانہ بنائی جاتی ہیں، پولیس کے مظالم بڑھتے جا رہے ہیں، امید کی کوئی کرن نظر نہیں آ رہی، اس لئے عوام نے اب اگلی حکومت سے توقعات باندھ لی ہیں۔۔۔ ایسے میں بابا رحمتے ایک مضبوط کردار بن چکا ہے۔ لوگ عمومی زندگی میں اس افسانوی کردار کی مثالیں دینے لگے ہیں، اس کا کوئی فائدہ انہیں ہو یا نہ ہو، لیکن انہیں ایک کردار ضرور مل گیا ہے۔ 

یہاں اسلام آباد میں کل صبح بارش ہوئی تو موسم انتہائی خوشگوار ہو گیا، لیکن ایک سرکاری افسر سے ملاقات ہوئی تو اس نے بتایا بظاہر موسم ٹھنڈا اور خوشگوار ہو گیا ہے، لیکن اتوار کو بھی یہاں سیاسی حوالے سے بہت گرما گرمی ہے۔ جوں جوں نیب کیسز کے فیصلے کا وقت قریب آ رہا ہے، تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ حالات میں ٹھہراؤ نہیں اور کسی وقت بھی کچھ ہو جانے کا دھڑکا لگا ہوا ہے۔

جب سے نوازشریف نے یہ کہا ہے کہ اگر مجھے جیل بھیج دیا جاتا ہے تو عوام سڑکوں پر آ کر احتجاج کریں، اس وقت سے ایک بڑے تصادم کی بو آنے لگی ہے، البتہ سیاسی مخالفین یہ کہہ رہے ہیں کہ جس طرح بھٹو نے کہا تھا کہ انہیں سزا ہوئی تو ہمالیہ روئے گا، لیکن ہوا کچھ بھی نہیں تھا، اسی طرح نوازشریف کی سزا پر کسی نے باہر نہیں نکلنا، حتیٰ کہ مسلم لیگ (ن) کے سرکردہ افراد بھی گھروں میں دبک کر بیٹھ جائیں گے۔۔۔ یہ مفروضہ غلط بھی ہو سکتا ہے۔

نوازشریف نے نااہلی کے بعد سے اب تک عوام کو جس طرح جلسوں میں بلا کے گرمایا ہے، اس سے یہی لگتا ہے کہ کچھ نہ کچھ ہو کر رہے گا۔ یہ بات آسانی سے ہضم نہیں ہو سکے گی، تاہم شہبازشریف نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جو تعریف کی ہے اور نیب کے بارے میں بھی یہ کہہ دیا ہے کہ اسے کارروائی کرنے کا قانونی حق حاصل ہے، اس سے صورت حال کسی اور طرف اشارہ کر رہی ہے۔

بھانجے کی شادی میں بہت سے ریٹائرڈ آرمی افسران بھی آئے ہوئے تھے، ان میں سے بریگیڈیئر رینک کے ایک ریٹائر افسر نے بہت دلچسپ بات کی۔ انہوں نے کہا جس طرح بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد آصف علی زرداری کے ایک جملے ’’پاکستان کھپے‘‘ نے سارے جذبات ٹھنڈے کر دیئے تھے، اسی طرح سزا کی صورت میں شہبازشریف جلتی پر پانی ڈالنے میں اہم کردار ادا کریں گے، کیونکہ اس وقت نوازشریف کی بات پر عمل نہیں ہوگا، بلکہ مسلم لیگ کے کارکن اور رہنما شہبازشریف کی طرف دیکھیں گے۔ 

چودھری نثار علی خان کا بھی تذکرہ ہوا۔ مَیں نے دیکھا کہ وہ فوج سے تعلق رکھنے والے سابق افسران میں خاصے مقبول ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چودھری نثار علی خان کے فیکٹر کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ شہبازشریف پر بھی خطرے کے بادل منڈلا رہے ہیں، ایک تو شہبازشریف کے لہجے میں تبدیلی کی وجہ یہ بھی ہے اور دوسری وجہ غالباً چودھری نثار علی خان سے ملاقات ہے، جس کے بعد شہبازشریف نے اپنا موقف تبدیل کر لیا ہے۔ چودھری نثار علی خان ایک باخبر سیاستدان ہیں، وہ جانتے ہیں کہ آنے والے حالات اپنے جلو میں کیا کچھ لا رہے ہیں، اس لئے وزیراعلیٰ شہبازشریف کو بھی انہوں نے بہت سے راز درون خانہ ضرور بتائے ہوں گے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کی سڑکوں پر بہت سے ہورڈنگز بھی نظر آئے۔

حیران کن طور پر پی ٹی آئی کے متوقع امیدواروں نے پینا فلیکس پر عمران خان کے ساتھ شیخ رشید احمد کی بھی بڑی بڑی تصاویر لگائی ہوئی ہیں۔ کیا شیخ رشید واقعی اتنی سیاسی اہمیت اختیار کر گئے ہیں کہ عمران خان کی تصویر کے ساتھ پی ٹی آئی کے کسی دوسرے رہنما کی بجائے شیخ رشید احمد کی تصویر لگائی جا رہی ہے۔

شیخ رشید نے اپنی پیش گوئیوں کے ذریعے کئی ماہ سے جو سماں باندھا ہوا ہے، اس کی وجہ سے وہ ایک ایسا کردار بن چکے ہیں جو پاکستان کی روایتی سیاست میں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔

یہاں یہ خیال بھی پایا جاتا ہے کہ اگر چودھری نثار علی خان نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرلی تو شیخ رشید کی اہمیت کم ہو جائے گی، کیونکہ دونوں ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے۔

چودھری نثار کی تحریک انصاف میں شمولیت عام کارکن کے طور پر تو ہونی نہیں، ظاہر ہے عمران خان انہیں کم از کم سیکرٹری جنرل کا عہدہ تو ضرور دیں گے جو خالی چلا آ رہا ہے، اس صورت میں وہ پارٹی کے انتظامی معاملات میں کس حد تک اثرانداز ہوتے ہیں، اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا۔ 

مَیں نے شکرپڑیاں جانے کے لئے اوبر کی گاڑی منگوائی جس کا ڈرائیور ایک تعلیم یافتہ نوجوان تھا، جس نے ایم بی اے کیا ہوا تھا۔ مَیں نے کہا تم یہ کام کیوں کر رہے ہو، کوئی جاب کیوں نہیں کی؟ اس نے کہا کہ نوازشریف کے دور میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کا سب سے زیادہ استحصال ہوا ہے، انہیں ملازمتیں دینے کی بجائے پرائم منسٹر یوتھ انٹرن سکیم کے تحت بارہ ہزار ماہانہ کے حساب سے وظیفے پر لگا دیا گیا ہے۔

مزدور کی آمدنی پندرہ ہزار مقرر کی گئی ہے، مگر ایم اے پاس نوجوانوں کو بارہ ہزار پر اداروں کے ساتھ منسلک کر دیا گیا، جنہوں نے ان کی خودداری پر بھی کاری ضربیں لگائیں اور بدترین استحصال بھی کیا۔ اس کا کہنا تھا شکر ہے کہ ایسے روزگار کے مواقع کھلے ہیں جس میں عزت نفس کے ساتھ بندہ اتنا کما سکتا ہے کہ اپنے والدین کا ہاتھ بٹا سکے۔

مَیں نے پوچھا کہ اسلام آباد میں دو نوجوانوں کو گاڑیاں منگوا کر راستے میں قتل کیا گیا، کیا اس سے خوف و ہراس نہیں پھیلا؟ اس نے کہا پھیلا تو ہے، مگر ہم گھروں میں تو نہیں بیٹھ سکتے۔

اس نے کہا کہ یہ پرائیویٹ ٹیکسیاں چلانے والوں کی حرکت تھی، کیونکہ اوبر اور کریم کے آنے سے ان کا کاروبار ٹھپ ہو گیا ہے، مگر وہ یہ بھول گئے کہ اس نظام میں گاڑی منگوانے والے کی تمام معلومات کمپنی کے پاس آ جاتی ہیں اور گاڑی کی لوکیشن بھی ہر وقت ریکارڈ پر رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے، دونوں قتل فوراً ہی ٹریس ہو گئے اور ملزموں کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔

مَیں نے اس سے پوچھا کہ مستقبل میں وہ کسے وزیراعظم بنتا دیکھ رہا ہے، اس نے کہا مَیں تو چاہتا ہوں کہ عمران خان وزیراعظم بنے، لیکن اب اس کے ساتھ جس تیزی سے مسلم لیگ (ن) کے لوگ شامل ہوتے جا رہے ہیں، مجھے مایوسی ہو رہی ہے، کیونکہ یہی تو وہ لوگ ہیں جن کے خلاف عمران خان جدوجہد کرتا رہا ہے۔

اگر یہی لوگ اب تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے اسمبلی میں آ جاتے ہیں تو عمران خان کو کہاں چلنے دیں گے۔ مجھے اچھا لگا کہ میری ایک تعلیم یافتہ نوجوان سے گفتگو ہوئی ہے۔ اس سے یہ بھی اندازہ ہوا کہ اسلام آباد جیسے بڑے شہر میں بھی پڑھے لکھے نوجوانوں کو ملازمتیں نہیں مل رہیں اور وہ ٹیکسیاں چلانے پر مجبور ہیں۔

ملک کے دیگر شہروں اور تحصیلوں میں بے روزگاری کا کیا عالم ہوگا۔ وہاں تو ایسی گاڑیاں چلانے کی سہولت بھی حاصل نہیں۔ 2018ء کے انتخابات کی مہم میں بے روزگاری کے خاتمے کو بھی ایک نعرے کے طور پر استعمال کیا جائے گا، لیکن سوال پھر وہی ہے کہ ہر سال جو لاکھوں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان یونیورسٹیوں سے عملی میدان میں قدم رکھنا چاہتے ہیں، ان کے لئے ہماری سیاسی جماعتوں کے پاس کوئی نئی سکیم ہے بھی یا نہیں، یا پھر انہیں اس بار بھی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا جائے گا؟ 

مزید : رائے /کالم