لاہور ، سخت پابندی کے باوجود پتنگ بازی کا خطرناک کھیل جاری رہا

لاہور ، سخت پابندی کے باوجود پتنگ بازی کا خطرناک کھیل جاری رہا

لاہور(خبرنگار)صوبائی دارالحکو مت میں سخت پا بندی کے با وجود مختلف مقامات پر خطرناک اور جان لیوا کھیل پتنگ بازی کا سلسلہ جا ری رہا اور شہر میں دن بھر’’ بوکاٹا‘‘ کے نعرے لگتے رہے جبکہ پو لیس اور پتنگ بازوں کا دن بھر آمنا سامنا جاری رہا ۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں پتنگ بازی جیسے جان لیوا کھیل کا سلسلہ رک نہیں سکا ہے اور بالخصوص اتوار کے روز اس خطرناک کھیل میں تیزی آجاتی ہے۔ گزشتہ روز بھی لاہور کے 86 تھانوں میں سے 50 تھانوں کی حدود میں دن بھر پتنگ بازی کی گئی ہے اور اس میں غازی آباد، ہربنس پورہ، مغل پورہ، شالامار، باغبانپورہ ، فیکٹری ایریا، گلشن راوی، شفیق آباد سمیت شاہدرہ اور مصطفی آباد کے علاقوں میں سب سے زیادہ پتنگ بازی کی گئی ہے، پتنگ باز دن بھر گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر ’’ بوکاٹا‘‘ کے نعرے لگاتے رہے جبکہ پولیس اور پتنگ بازوں کے درمیان دن بھر آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری رہا۔ اس کے باوجود اس خطرناک کھیل کا سلسلہ رک نہ سکا اور پولیس کی تمام تر کوششوں کے باوجود شہر میں پتنگ بازی کے دوران بڑے بڑے سائز کی پتنگیں اور کیمیکل سے تیار شدہ ڈورکا استعمال بھی کیا گیا جس پر پتنگ بازی کی مخالف تنظیموں نے احتجاج بھی کیا ہے ۔ اینٹی کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کے چیئرمین شیخ محمد امین قادری اور اکرام اللہ کاکڑ نے شالامار لنک روڈ پر ہونے پر احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پتنگ بازی جیسے خطرناک کھیل کو روکنے میں ناکام ہو چکی ہے جس کے باعث یہ خطرناک کھیل دن بدن زورپکڑتاجا رہاہے۔ حکومت کو چاہئے کہ اس خطرناک کھیل کی روک تھام کے لئے مستقل بنیادوں پر قانون سازی کرے، وگرنہ یہ خطرناک کھیل سنگین صورتحال اختیارکرجائے گا جس کے بعد اس پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا۔ دوسری جانب پولیس نے شہر کے 15 مختلف علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے 52 سے زائد پتنگ بازوں کو گرفتار کرنے کادعویٰ کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شالامار ، غازی آباد، شادباغ، ہربنس پورہ، شمالی چھاؤنی، شفیق آباد اور سبزہ زار سمیت مختلف تھانوں کی حدود میں پتنگ بازی کے خلاف کارروائی کی گئی ہے جس میں پتنگ بازوں کے خلاف 50 سے زائد مقدمات درج کئے گئے ہیں اور اس میں 52 پتنگ بازوں کو گرفتار کر کے مختلف تھانوں کی حوالات میں بند کیا گیا ہے۔

مزید : علاقائی