71فیصد سرکاری ملازمین میرٹ کو ترجیح نہیں دیتے، 61فیصد مختلف انداز سے کرپشن کر رہے ہیں

71فیصد سرکاری ملازمین میرٹ کو ترجیح نہیں دیتے، 61فیصد مختلف انداز سے کرپشن کر ...

لاہور(اپنے نمائندے سے) حساس اداروں نے تمام محکموں میں ہونے والی کرپشن، فائلوں میں ردوبدل، افسروں وملازمین کی بدعنوانیوں کے طریقہ کار ودیگر اہم معاملات سے متعلق حیران کن انکشافات پر مبنی ابتدائی رپورٹ مرتب کرلی ہے جس کے مطابق سرکاری محکموں میں71فیصد سرکاری ملازمین میرٹ کو ترجیح ہی نہیں دیتے، 61فیصد ملازمین ہرکام میں مختلف انداز سے کرپشن کررہے ہیں،29فیصد براہ راست رشوت لیتے ہیں جبکہ42فیصد ملازمین مختلف ذرائع سے رشوت لیتے ہیں یا پھر اپنے ذاتی کام کراتے ہیں تحائف بھی لینے کے شوقین پائے گئے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حکومتوں کے غیر قانونی اقدامات اورکرپشن سکینڈلز سے متعلقہ اہم سرکاری دستاویزات ریکارڈ میں سرے سے موجود ہی نہیں۔ بعض اہم ریکارڈ مختلف واقعات میں ضائع کرکے میرٹ پر مبنی نیا ریکارڈ تیارکرلیا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق رپورٹ میں پنجاب سرفہرست ہے جبکہ سندھ، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے اداروں میں گھپلوں کی تفصیلات بھی ہیں اوراس میں ڈی ایم جی ، او ایم جی، فارن سروسز، پولیس سمیت چیف سیکرٹریز، ڈی سی اوز، ڈی سیز، سیکرٹریز، کمشنرز سمیت تمام اعلیٰ افسروں کا ذکر شامل ہے ، رپورٹ کو حتمی شکل دینے کے بعد اسے اعلیٰ حکام کے روبرو پیش کیا جائے گا۔ معتبر ذرائع کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سرکاری محکموں میں صرف26فیصد ایسے ملازمین ہیں جو میرٹ کوترجیح دیتے ہیں لیکن ان میں سے80فیصد کو کئی برس سے کسی اہم عہدے پر تعینات ہی نہیں کیا گیا ۔ 8فیصد افسراپنے اثرورسوخ کے باعث مسلسل اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس رپورٹ کی تیاری کافی عرصہ سے جاری تھی س میں بعض بااثر سیاستدانو ں اور حکومتی عہدیدداروں کا ذکر بھی ہے بعض اہم محکموں سے متعلق چھان بین تاحال جاری ہے اور اس عمل کو انتہائی خفیہ رکھا گیا ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پنجاب میں بعض اداروں نے اس حوالے سے ریکارڈ ہی فراہم نہیں کیا ،سب سے زیادہ کرپشن پولیس، صحت، تعلیم، فوڈ، لوکل گورنمنٹ، مواصلات، آبپاشی، انفارمیشن اور ترقیات سمیت 13محکموں میں دیکھی گئی اور انہیں اے، کیٹیگری میں رکھا گیا ہے۔ حساس ادارے کے ذمہ دار ذرائع نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حساس اداروں کی جانب سے تمام محکموں، افسراوں،سرکاری ملازمین عوامی نمائندوں اوردیگر اہم افراد کی کارکردگی کی مانیٹر کی جاتی ہے کہ وہ کہاں پر غیرقانونی اقدامات کررہے ہیں اور کونسی ایسی سرگرمی دکھارہے ہیں جس سے ملک کو نقصان پہنچ رہا ہے تاہم اس ساری صورتحال کے باوجود بعض اعلیٰ حکومتی شخصیات منظور نظر افسروں وملازمین کو مکمل سپورٹ کرتی ہیں۔ دریں اثنا محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی کے حکام کا کہنا تھا کہ غیر قانونی اقدامات کرنے والے افسراوں وملازمین کیخلاف انکوائریاں چل رہی ہیں۔

مزید : صفحہ آخر