نقیب محسود کے لواحقین اور لاپتہ افراد کے اہل خانہ کا دھرنا، گرینڈ جرگہ نے حکومت کو 7مطالبات پیش کر دئیے

نقیب محسود کے لواحقین اور لاپتہ افراد کے اہل خانہ کا دھرنا، گرینڈ جرگہ نے ...

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی) جعلی مقابلے میں قتل ہونیوالے نقیب اللہ محسود کے لواحقین اور لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے دھرنا دیا جس میں تمام جعلی مقابلوں کی تحقیقات اور سابق ایس ایس پی راؤ انوار کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔دھرنے کے شرکا ء نے سندھ حکومت پر نقیب قتل کیس پر اثر انداز ہونے اور راؤ انوار کے ساتھیوں کو ملیر میں تعینات کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔جسٹس فار نقیب ریلی سہراب گوٹھ سے کراچی پریس کلب تک نکالی گئی۔ احتجاجی مظاہرے میں نقیب اللہ محسود کے والد اور محسود قبائل کے عمائدین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔مظاہرین نے بینرز اور سیاہ جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے ۔نقیب اللہ شہید کے معاملے پربننے والے گرینڈ جرگہ نے مطالبات کی منظوری کے لیے حکومت کو 7مطالبات پیش کردیے ہیں گرینڈ جرگہ کے رہنماں حاجی کرم علی خان،حاجی گل،حاجی محمود خان محسود،شمس الرحمان،اسماعیل،حاجی مالی خان،مختار خان محسود،محمد اختر محسود ،سیف الرحمن محسود سمیت پختون برادری اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں نے کراچی پریس کلب پرمظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے راؤ انوارکوسیکورٹی دینے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ گرفتار راؤ انوار کے ساتھ مجرم اور ملزم جیسا سلوک،راؤ انوار کے مفرور تمام ساتھیوں کو گرفتار کیا جائے۔ گرینڈ جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ راؤ انوار کے ساتھ ملزموں جیسا سلوک کیا جائے اور سندھ حکومت یا دیگر ادارے کیس پر اثر انداز ہونے کا سلسلہ فوری بند کریں اور کراچی گرینڈ جرگہ سے جو وعدے کیے گئے تھے اس پر فوری عمل کیا جائے ورنہ احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ مزید تیز کیا جائے گا۔مظاہرین نے لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے انہیں عدالتوں میں پیش کرنے اورپختونوں کی بلاجواز گرفتاریاں بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ شہریوں کو لاپتہ کرنے کا سلسلہ بند کرکے گرفتار افراد کا تھانے میں اندراج کرایا جائے، گرینڈ جرگہ نے ملیرمیں جعلی مقابلوں کی مکمل تحقیقات اورمتاثرین کی داد رسی کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سندھ حکومت اور دیگر ادارے نقیب کیس پر اثراندازہورہے ہیں۔ یہ سلسلہ فوری بند کیا جائے۔ضلع ملیر میں راو انوار کے ساتھیوں کی دوبارہ تعیناتی بند کی جائے اور پہلے سے تعینات راؤ انوار کے دست راست اہلکاروں کو بھی ہٹایا جائے۔ .

مزید : صفحہ آخر