صحت کے حوالہ سے پالیسی بنانے والوں کو مذہبی تعلیمات بھی مد نظر رکھنا چاہیے، ماہرین

صحت کے حوالہ سے پالیسی بنانے والوں کو مذہبی تعلیمات بھی مد نظر رکھنا چاہیے، ...

لاہور( جنرل رپورٹر،نمائندہ پاکستان)مسلم فاؤنڈیشن آف ہیلتھ سائنسز کے زیر اہتمام ایک روز ہ قومی فزیو و فارما کانفرنس سے ماہرین،پروفیسرز،ڈاکٹرز نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ فزیو تھراپی ایک ایسا علاج ہے جس کی روز بروز ڈیمانڈ بڑھ رہی ہے اور لوگوں میں اس حوالے سے آگہی بھی بہت زیادہ پیدا ہورہی ہے۔ ہم اپنے اپنے پروفیشنلزکو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا چاہتے ہیں۔ صحت کے حوالہ سے پالیسی بنانے والوں کو مذہبی تعلیمات کو بھی مد نظر رکھنا چاہئے کیونکہ دین اسلام ہمیں بہترین پالیسی بتاتا ہے۔ڈاکٹر زسمیت معاشرے کے تمام افراد تقویٰ اختیار کریں اور سوچیں کہ وہ اللہ کے سامنے جوابدہ ہیں۔تقویٰ اللہ کی مدد اور تائید کی ایک کنجی ہے۔مسلم فاؤنڈیشن آف ہیلتھ سائنسز کے چین،کینیڈا اور سعودی عرب سمیت دیگر ممالک میں بھی دفاترجلد کھولے جائیں گے۔ فاؤنڈیشن کے تحت فری میڈیکل کیمپس اور سیمینار ز و ورکشاپ کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ڈاکٹر کو بنیادی طور پر امانتدار ہونا چاہئے۔ان خیالات کا اظہار مقامی آڈیٹوریم میں مسلم فاؤنڈیشن آف ہیلتھ سائنسز کے زیر اہتمام قومی فزیو و فارما کانفرنس سے مسلم فاؤنڈیشن آف ہیلتھ سائنسز کے چیئرمین ڈاکٹر زعیم الدین عابد،سابق ڈائریکٹر اسلامک سنٹر نیو انگلینڈ شیخ مسعود کمال،وائس چیئرمین ڈاکٹر سلمان ملک کمبوہ،ڈائریکٹر فارمیسی ڈویژن ڈاکٹر اکرام الحق،پاکستان فزیکل تھراپی ایسوسی ایشن کے چیئرمین ڈاکٹر اشفاق احمد، امپیریل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر بشیر احمد،پاکستان فزکل تھراپی ایسوسی ایشن پنجاب کی صدر ڈاکٹر شازیہ رفیق،یونیورسٹی آف لاہور کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر سید عامر گیلانی،رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر سلمان بشیر،یونیورسٹی آف لاہور کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عارف علی رانا،ڈاکٹر ایم ایس وقاص،رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی لاہور کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عاطف دستگیر،سرگودھا میڈیکل کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر مصطفیٰ قمر،یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب کے ڈاکٹر عمران ساجد،ڈاکٹر سجاد نصیر،کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے ڈاکٹر جنید اعجاز گوندل،پاکستان فزیکل تھراپی ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عامر سعید،یونیورسٹی آف لاہور کے پروفیسر ڈاکٹر طیب انصاری،ڈاکٹر حافظ وسیم جاوید،ڈاکٹر نوید مشتاق،اسامہ اکرم ،ڈاکٹر یحییٰ زعیم ،ڈاکٹر نعمان غفار اعوان نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔کانفرنس میں ملک بھر سے فزیو تھراپسٹ اور فارما سسٹ،پروفیشنلز اینڈ سٹوڈنٹس نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔کانفرنس کا بنیادی مقصد صحت سے متعلق ان دو شعبوں کی اہمیت و ضرورت کو اجاگر کرنا تھا۔کانفرنس کے تین سیشن ہویے۔ہر سیشن کے اختتام پر سوال و جواب کی نشست بھی ہوئی۔کانفرنس کے اختتام پر مہمانان گرامی و مقررین کو مسلم فاؤنڈیشن آف ہیلتھ سائنسزکی جانب سے شیلڈز بھی دی گئیں۔ مسلم فاؤنڈیشن آف ہیلتھ سائنسز کے چیئرمین ڈاکٹر زعیم الدین عابد نے تمام مہانوں کا شکریہ ادا کیا۔ڈاکٹر زعیم الدین عابد نے کہا کہ فزیو تھراپی ایک ایسا ذریعہ علاج ہے جس میں بغیر دواؤں کے مریض کا علاج کیا جاتا ہے۔ اس میں ورزشوں کے ذریعے اور متعدد اقسام کی مشینوں کے ذریعے علاج کیا جاتا ہے جبکہ آج کل چند ایسی تکنیک بھی آچکی ہیں جن کے بعد فزیو تھراپی مزید بہتر اور جدید ہوچکی ہے۔فزیو تھراپی ایک ایسا علاج ہے جس کی روز بروز ڈیمانڈ بڑھ رہی ہے اور لوگوں میں اس حوالے سے آگہی بھی بہت زیادہ پیدا ہورہی ہے۔حافظ مسعود کمال نے کہا کہ اسلام اپنی روح،عمل،پیغام میں مکمل ضابطہ حیات ہے۔ڈاکٹر زسمیت معاشرے کے تمام افراد تقویٰ اختیار کریں اور سوچیں کہ وہ اللہ کے سامنے جوابدہ ہیں۔تقویٰ اللہ کی مدد اور تائید کی ایک کنجی ہے۔جو لوگ شہرت کے لئے کام کرتے ہیں وہ بسا اوقات اپنے کام صحیح طرح انجام دے نہیں پاتے۔ڈاکٹرز کا مقصد اللہ کی رضا ہونا چاہیے۔اسلامی ڈاکٹر ز میں اخلاص کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر سلمان ملک کمبوہ نے کہا کہ ہم اپنے اپنے پروفیشنلز ترقی کی راہ پر گامزن کرنا چاہتے ہیں۔معیار زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے کے لئے مناسب غذا ،ورزش کی جائے اور جس حد تک ہو سکے ادویات سے اجتناب برتا جائے۔ ڈاکٹر سید عامر گیلانی نے کہا کہ فزیو تھراپی میں مساج کو بڑی اہمیت حاصل ہے لیکن مساج ہمیشہ ماہر فزیو تھراپسٹ سے ہی کرانا چاہیے تا کہ مریض کے جسمانی عضلات صحیح طرح اپنی جگہ پر واپس آسکیں۔جسم کے کسی حصہ میں درد کی وجہ سے ادویات خاطر خواہ فوائد نہیں دیتی وہاں فزیو تھراپی سے کندھے ،ٹخنے اور دیگر جسمانی تک تکالیف کافی حد تک ٹھیک ہو جاتی ہے۔ کمزور اور بوڑھے افراد اس طریقہ علاج سے اس قابل ہو سکتے ہیں کہ اپنے روزمرہ کام اچھی طرح انجام دے سکیں اور کسی پر بوجھ نہ بنیں۔پروفیسر ڈاکٹر بشیر احمد نے کہا کہ صحت کے حوالہ سے پالیسی بنانے والوں کو مذہبی تعلیمات کو بھی مد نظر رکھنا چاہئے کیونکہ دین اسلام ہمیں بہترین پالیسی بتاتا ہے۔صحت بہتر ہو گی تو زندگی میں ہر کام مستعدی سے سرانجام دیں گے۔میڈیکل سے وابستہ افراد کے لئے وقت کی پابندی انتہائی ضروری ہے۔ڈاکٹر عمران ساجد نے کہا کہ بیماری سے متعلق دوائی ہی استعمال کریں گے تو اس کا فائدہ ہو گا ۔دوا کی مقدار ،لینے کے اوقات سمیت ڈاکٹر کا تجویز کردہ نسخہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔بیماری کی تشخیص کے بعد دوا استعمال کی جائے۔ڈاکٹر مصطفیٰ قمر نے کہا کہ اگر ہم مناسب طریقے سے بیٹھیں گے تو ریڑھ کی ہڈی اور پٹھوں پر کم دباؤ آئے گا ۔پٹھوں ،ہڈیوں اور جوڑوں کے درد کی بڑی وجہ غلط اٹھنا بیٹھنا اور غیرضروری دباؤ لینا ہے۔اگر ہم اپنے کام کے اوقات میں کمر سیدھی رکھیں تو بہت ساری پریشانیوں سے بچ سکتے ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر طیب انصاری نے کہا کہ اپنی مرضی سے دوا کا استعمال انتہائی خطرناک ہے۔ہماری خوراک کے اندر چکنائی کی مقدار بہت حد تک بڑھ چکی ہے جس کی وجہ سے خون میں کولیسٹرول بڑھ رہا ہے جو جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ڈاکٹر حافظ وسیم جاوید نے کہا کہ جو لوگ ورزش نہیں کرتے مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں جن میں ہڈیوں ،پٹھوں کا کمزور ہونا شامل ہیں۔جوڑوں،گھٹنوں کا درد اب بہت عام ہو رہا ہے پہلے بوڑھوں کو یہ مرض لاحق ہوتا تھا اب نوجوان اور خواتین بھی اس مرض کا شکار ہو رہی ہیں۔ مسلم فاؤنڈیشن آف ہیلتھ سائنسز کے چیف آرگنائزر ڈاکٹر یحییٰ زعیم نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ صحت کے شعبہ میں کام کرنے والوں کے کام میں بہتری لائے جائے ،انہیں آگے نکلنے کے مواقع دیئے جائیں۔بحیثیت پاکستانی ہمیں پاکستان میں رہ کر ملک خدمت کرنی چاہئے۔جلد مسلم فاؤنڈیشن آف ہیلتھ سائنسز کے چین،کینیڈا اور سعودی عرب میں دفاتر کھولیں گے۔ مسلم فاؤنڈیشن آف ہیلتھ سائنسزکے تحت فری میڈیکل کیمپس اور سیمینار ز و ورکشاپ کا انعقاد کیا جاتا ہے۔کانفرنس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ مسلم فاؤنڈیشن آف ہیلتھ سائنسز کو صحت کے تمام شعبوں سے متعلقہ افراد کو اس میں شامل کیا جائے گا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...