ایمنسٹی سکیم ،صدر مملکت کی منظوری سے پروٹیکشن آف اکانومی ریفارمز آڈیننس 2018ء جاری

ایمنسٹی سکیم ،صدر مملکت کی منظوری سے پروٹیکشن آف اکانومی ریفارمز آڈیننس 2018ء ...

اسلام آباد(صباح نیوز) کالے دھن کو سفید کرنے کا صدارتی ایمنسٹی آرڈیننس جاری کردیا گیا ۔ آرڈیننس کانام پروٹیکشن آف اکانومی ریفارمزآرڈیننس 2018 ہے۔ جس سے کالے دھن کو سفید، غیر قانونی اثاثوں کو ظاہر کرنے اور ٹیکس ادائیگیوں سے متعلق پانچ نکاتی ایمنسٹی سکیم کو قانونی حثیت مل جائے گئی قومی اسمبلی اور سینیٹ اجلاسوں کے نوٹیفیکشن جاری ہونے کے باوجود صدارتیزآرڈیننس 2018 جاری کیا گیا ہے سکیم سے فائدہ اٹھانے والوں پر نیب قوانین کا اطلاق نہیں ہوگااراکین پارلیمینٹ اورسیاسی رہنما سکیم سے مستفید نہیں ہوسکیں گے آج سینیٹ اور کل قومی اسمبلی کے اجلاس شروع ہورہے ہیں اپوزیشن جماعتوں نے پیشگی پارلیمینٹ کو اس سکیم کے بارے میں اعتمادمیں نہ لینے پر اس معاملے پر دونوں ایوانوں میں احتجاج اور حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔تفصیلات کے مطابقوزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی جانب سے چند روز قبل جاری کردہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم کیلئے صدر مملکت ممنون حسین نے ایمنسٹی اسکیم کے آرڈیننس کی منظوری دیدی ہے۔ ٹیکس ایمنسٹی سکیم پر صدارتی آرڈیننس ایسے موقع پر جاری کیا گیا ہے جب آج سینیٹ اور کل قومی اسمبلی کے اجلاس شروع ہورہے ہیں اپوزیشن جماعتوں نے پیشگی پارلیمینٹ کو اس سکیم کے بارے میں اعتمادمیں نہ لینے پر اس معاملے پر دونوں ایوانوں میں احتجاج اور حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔یاد رہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے 5 اپریل کو نئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا اعلان کیا تھا۔ اسکیم کے تحت بیرون ملک سرمایہ اوراثاثے2فیصدٹیکس اداکرکے پاکستان لائے جا سکتے ہیں۔ایمنسٹی اسکیم کے تحت ایک لاکھ روپے ماہانہ آمدن پر ٹیکس ختم کردیاگیا۔آف شور کمپنیاں رکھنے والے بھی اسکیم سے مستفیدہوسکیں گے۔24سے48لاکھ روپیسالانہ آمدن پر10فیصدٹیکس عائدہوگا۔48لاکھ یااس سیزائدسالانہ آمدن پر15فیصدٹیکس اداکرناہوگا،ایمنسٹی اسکیم سے30جون2018 تک فائدہ اٹھایاجاسکتاہے۔12سے24لاکھ سالانہ آمدن پر5فیصد انکم ٹیکس عائدہوگا۔غیرقانونی اثاثوں کو جائز قرار دینے کے لیے پانچ فیصد جرمانہ ایک بار ادا کرنا ہو گااوروہ ٹیکس گزاروں میں شامل ہو سکیں گے۔ ایمنسٹی سکیم اڑھائی ماہ کے لیے ہو گی یکم جولائی سے ٹیکسوں کی ادائیگی کا عمل شروع ہو جائے گا اسی طرح باہر کے اثاثوں کو ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کرنے پر تین فیصد جرمانہ ادا کرے گا اور بیرون ملک دولت کو ظاہر کرنے کے لیے دو فیصد جرمانہ ادا کرنا ہو گا ڈالر اکاؤنٹس قانونی قرار دلوانے کے پانچ فیصد کی ادائیگی کرنی ہو گی۔ م خفیہ اثاثے اور خفیہ دولت کو بھی ظاہر کیا جا سکتا ہے اسکے لیے ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس ادا کرنا ہوگا

آرڈیننس

مزید : صفحہ اول