انسان برادری کو مشترکہ قسمت کی برادری بنانے کے چینی نظر یہ کی بھرپور حمایت کرتے ہیں

انسان برادری کو مشترکہ قسمت کی برادری بنانے کے چینی نظر یہ کی بھرپور حمایت ...

بیجنگ(آئی این پی ) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے عالمی کھلے پن کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے مستقبل کی انسانی برادری کو مشترکہ قسمت کی برادری بنانے کے چینی نظریے کیساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے ، انہوں نے کہا ہر شخص چین کے صدر کے پر مغز خطاب پر نظریں جمائے ہوئے ہے جس کا وہ باؤ فورم برائے ایشیاء میں اظہار کریں گے،انہیں اس بات کا بھی علم ہوگا چین عالمی تجارت اور بین الاقوامی معیشت میں مستقبل میں کیا کردارادا کریگا ۔ اپنے دورہ چین کے دوران وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا وہ اپنے وزراء اور اعلیٰ حکام کے وفد کے ساتھ چین آئے ہیں جو اس بات کا اظہار ہے پاکستان اس فورم کو کس قدر اہمیت دیتا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے یہاں معروف چینی اخبار پیپلزڈیلی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ اس کے بارے میں پاکستان کے وزیراعظم نے اس فور م کے انعقاد کو بروقت قرار دیتے ہوئے اس کی تعریف کی ۔انہوں نے کہا کہ فورم کے نتیجے میں خطے کے ممالک ،دوستی اور شراکت داری ، معیشت ،تجارت، ٹیکنالوجی ، توانائی اور سماجی شعبوں میں ایک دوسرے کے اور قریب ہو جائیں گے کیونکہ کھلا پن اس وقت بھی اشد ضرورت ہے ۔ وزیراعظم عباسی نے توقع ظاہر کی یہ فورم ایشیاء کی صدی کے نظریے کو آگے بڑھانے اور مسائل پر آپس میں بات چیت کرنے اور ان سے آگاہ ہونے کا بھرپور موقع فراہم کرے گا ۔ بیلٹ اینڈ روڈ اور چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بہت زبردست منصوبے ہیں جن کے باعث پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون میں مزید اضافہ ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ حقیقی طور پر بین الاقوامی عوام کیلئے ایک بہترین منصوبہ ہے جو اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ اس سے جغرافیائی طور پر مختلف علاقوں میں رہنے والے لوگوں پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں اور وہ ایک خواب میں منسلک ہو کر اپنی زندگیوں کو بہتر بنا سکیں ، ان کی رسائی شاہراہوں ، بنیادی ڈھانچے ، پائیدار توانائی اور بہتر وسائل تک ہو سکیں ۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا پرچم بردار منصوبہ ہونے کے حوالے سے سی پیک دونوں ممالک کے وسیع اور جامع اقتصادی تعاون کی دانش کا اظہار کرتا ہے ۔سی پیک کے تحت مکمل ہونے والے توانائی کے منصوبوں میں پاکستان میں توانائی کے بحران پر قابو پایا ہے اور ہم ملک میں ہزاروں میگا واٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں ۔ وزیراعظم عباسی نے کہا کہ سی پیک کے تحت توانائی منصوبے پاکستان میں توانائی کے مختلف منصوبوں کے تحت مکمل کئے جا رہے ہیں جن میں پانی ، ہوا ، شمسی توانائی اور دیگر ذرائع سے بجلی پیدا کرنا ہے اور یہ ہمارے لئے باعث اطمینان ہے ۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کا ابتدائی مرحلہ انتہائی بہتر طریقے سے مکمل ہوا ہے جس کے تحت شاہراہوں کا نیٹ ورک زیر تعمیر ہے اور گوادر بندرگاہ کا بنیادی ڈھانچہ بھی مکمل کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے اس بات کا خاص طور پر ذکر کیا کہ سی پیک بلا شبہ ایک گیم چینجر منصوبہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اب سی پیک کی ترقی کے اگلے مرحلے پر نظریں جمائے ہوئے ہے جس کے تحت خصوصی اقتصادی زونز قائم کئے جائیں گے جس سے نہ صرف ملک کی اقتصادی اور صنعتی بنیاد مضبوط ہو جائے گی بلکہ اس سے روزگار کے ہزاروں مواقع بھی پیدا ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت شاہراہوں اور ریلوے نیٹ ورک اور گوادر بندرگاہ کی جدید ترقی سے توقع ہے کہ پاکستان زرعی معیشت سے لاجسٹک مرکز کی طرف منتقل ہو جائے جس کے ذریعے چین سے اس خطے اور دنیا بھر میں اشیاء پہنچائی جا سکیں گی ۔ سی پیک سے نہ صرف چین اور پاکستان کے درمیان رابطوں کو فروغ حاصل ہوگا بلکہ مرکزی اور جنوبی ایشیاء اور اس سے آگے ممالک کیساتھ بھی رابطے پیدا ہوں گے ۔ انہوں نے اس بات کا خاص طور پر ذکر کیا کہ سی پیک سے دوطرفہ علاقائی تجارت کو توسیع ملے گی ،اس سے اقتصادی رابطے مضبوط ہوں گے اور اقتصادی ترقی تیز تر ہوگی ۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ چینی صدر شی جن پھنگ کا مستقبل کی انسانی برادری کو مشترکہ قسمت کی برادری بنانے کا نظریہ نہ صرف انقلابی ہے بلکہ یہ بڑی خوبصورتی کے ساتھ سی پیک کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہے ۔چین کے ساتھ مل کر ہم پاکستان کو مستقبل کی انسانی برادری کو سی پیک کے ذریعے مشترکہ قسمت کی برادری بنانے کیلئے عظیم کردارادا کررہے ہیں عباسی

B

مزید : صفحہ اول