انسدادِ دہشت گردی ایکٹ ترمیمی بل آ ج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا

انسدادِ دہشت گردی ایکٹ ترمیمی بل آ ج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا

اسلام آباد(آن لائن) حکومت صدارتی آرڈیننس کے متبادل میں انسداد دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) 1997 میں ترمیم کا مسودہ تیار کرچکی ہے جس کے تحت وزارت دا خلہ کی واچ لسٹ میں شامل انفرادی شخص، تنظیم، مذہبی اور سیاسی جماعتوں پر مکمل پابندی عائد کی جا سکے گی۔وزارت قانون کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ ترمیمی بل آ ج پیر کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔اس حوالے سے مزید بتایا گیا کہ مذکورہ ترمیمی بل میں عسکری اسٹیبلشمنٹ کی مشاورت بھی شامل ہے۔واضح رہے کہ رواں برس کے آغاز میں صدرِ مملکت ممنون حسین نے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 میں ترمیم کا آرڈیننس جاری کیا جس کے تحت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کی جانب سے قرار دیئے جانے والی کالعدم تنظیمیں اور دہشت گرد افراد ملک میں بھی کالعدم قرار دی گئیں۔مذکورہ ترمیمی بل پر صدارتی دستخط کے بعد حافظ محمد سعید کی جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن (ایف آئی ایف) سمیت ال اختر ٹرسٹ اور الرشید ٹرسٹ بھی کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل ہو گئی تھیں۔صدراتی آرڈیننس 120 کی مدت میں ختم ہوجاتا ہے لیکن قومی اسمبلی اس کی مدت میں چار ماہ کی توسیع کر سکتی ہے۔

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...