زوالوجی کے پروفیسر کو میڈیکل یونیورسٹی کا وی سی لگانے پر چیف جسٹس برہم

زوالوجی کے پروفیسر کو میڈیکل یونیورسٹی کا وی سی لگانے پر چیف جسٹس برہم

لاہور(نامہ نگار خصوصی) چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے زوآلوجی کے پروفیسر کو میڈیکل یونیورسٹی کا وائس چانسلر تعینات کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا کہ حکومت اعلیٰ عہدوں پر صاف اور شفاف طریقے سے لائق افراد کو میرٹ پر تعینات کرے تو عدالت مداخلت نہیں کرے گی لیکن جہاں کسی عہدے پر بیوروکریٹس کو نوازا جائے گا اور بھارتی تنخواہیں دی جائیں گی عدالت خاموش نہیں رہے گی سفارشی کلچر بند ہوناچاہیے چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے وائس چانسلر نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے تقرر کے خلاف از خود نوٹس کی سماعت کی چیف جسٹس پاکستان نے حیرت کا اظہار کیا کہ زوآلوجی کے پروفیسر کو میڈیکل یونیورسٹی کا وی سی لگا دیا گیا جسٹس اعجاالحسن نے ریماکس دیئے کہ کیا میڈیکل کالج کو جانوروں کا ہسپتال بنانے لگے ہیں۔ کیا اسی لیے وہاں زوآلوجی کا پروفیسر وہاں پر لگا دیا گیا ہے،اسے انسانوں کا ہسپتال ہی رہنے دیں۔ چیف جسٹس نے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے پروفیسر فیصل مسعود کا ذکر کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا کہ جن پر تکیہ کر رہے تھے وہ دغا دے رہے ہیں چیف جسٹس نے باور کروایا کہ ڈاکٹر فیصل مسعود کو دو بیڑیوں میں پاؤں نہیں رکھنے دیں گے ، عدالت کے ساتھ چلنا ہے تو دیانتداری سے چلیں ۔جسٹس اعجاز الحسن نے افسوس کا اظہار کیا کہ ہدایات ملتی تو سفارش پر لوگوں کو تعینات کر دیا جاتا ہے ۔ سماعت کے دوران ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر تنویر پی ایچ ڈی ہیں.چیف جسٹس نے کہا ہمیں سب پتہ ہے کون کیا ہے ۔چیف جسٹس نے سرچ کمیٹی کے ممبران لیفٹنٹ جنرل محمد انور، پروفیسر فیصل محمود، پروفیسر عامر عزیز ڈاکٹرعیس محمد کو 14اپریل کو طلب کرلیا عدالت نے پنجاب حکومت کو بھی نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے وی سی کی تقرری کا مکمل ریکارڈ پروفائل کے ساتھ پیش کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

اظہار ناراضگی

مزید : صفحہ اول