دوما شہر پر کیمیائی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 100سے متھاوز ، حکومت کی تردید

دوما شہر پر کیمیائی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 100سے متھاوز ، حکومت کی تردید

دمشق(اے این این ) امدادی کارکنوں نے کہا ہے کہ شام کے شہر دوما میں کم از کم 70 افراد ممکنہ طور پر زہریلی گیس کے حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں تاہم اسد حکومت نے اس کی تردید کی ہے ۔ایک غیر ملکی این جی او وائٹ ہیلمٹس نامی امدادی تنظیم نے تہ خانوں میں بیسیوں لاشوں کی تصویریں ٹوئٹر پر پوسٹ کی ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔اس خبر کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔اس سے قبل وائٹ ہیلمٹس نے مرنے والوں کی تعداد 150 بتائی تھی لیکن بعد میں وہ ٹویٹ ڈلیٹ کر دی گئی،بعد میں مرنے والوں کی تعداد40بتائی گئی تھی اور تازہ ترین اطلاعات میں اس تعداد کو 70بتایا گیا ہے ۔دوسری جانب شامی حکومت کے ترجمان نے کیمیائی حملے کی خبروں کو من گھڑت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے الزامات شام کی حکومت کو بدنام کرنے اور مذوم مقاصد کا حصہ ہیں ۔امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ ان 'انتہائی پریشان کن' اطلاعات کا جائزہ لے رہا ہے اور یہ کہ اگر ایسا ہوا ہے تو پھر روس کو اس مہلک کیمیائی حملے کا ذمہ دار سمجھنا چاہیے جو شامی حکومت کی حمایت میں لڑ رہا ہے۔محکمہ خارجہ نے کہا کہ 'حکومت کی اپنے ہی لوگوں پر کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کی تاریخ میں کوئی شبہ نہیں ہے۔'بے شمار شامیوں کو کیمیائی ہتھیار سے بہیمانہ طور پر نشانہ بنانے کی ذمہ داری بالآخر روس پر عائد ہوتی ہے۔

'حکومت مخالف تنظیم غوطہ میڈیا سینٹر نے کہا ہے کہ مبینہ گیس حملے میں ایک ہزار سے زیادہ لوگ متاثر اور زخمی ہوئے ہیں۔اس نے الزام لگایا ہے کہ ایک سرکاری ہیلی کاپٹر نے بیرل بم گرایا جس میں سارین نامی اعصاب کو مفلوج کرنے والے عوامل موجود تھے۔دوما کو مشرقی غوطہ میں باغیوں کے قبضے والا آخری شہر کہا جاتا ہے اور اسے حکومتی افواج نے کئی ماہ سے محصور کر رکھا ہے۔

 

مزید : عالمی منظر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...