عراق میں الفتح الائنس کا اجلاس ، ایرانی باسیج فورس کے سربراہ سمیت دیگر کی شرکت

عراق میں الفتح الائنس کا اجلاس ، ایرانی باسیج فورس کے سربراہ سمیت دیگر کی ...

بغداد(آئی این پی)عراقی دارالحکومت بغداد میں ایران نواز ملیشیا الحشد الشعبی میں شامل گروپوں پر مشتمل اتحاد "الفتح الائنس" کی قیادت کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایرانی باسیج فورس کے کمانڈر بریگڈیئر جنرل غلام حسین غیب پرور، عراق میں ایرانی سفیر ایرج مسجد جامعی کے علاوہ کئی سینئر ایرانی عسکری اور سیاسی عہدے داران نے بھی شرکت کی۔ یاد رہے کہ غیب پرور کو ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای نے تقریبا دو برس پہلے باسیج فورس کا سربراہ مقرر کیا تھا۔ وہ امریکا اور اس کے حلیفوں کے متعلق سخت گیر موقف کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ایک خاص ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ مذکورہ اجلاس میں احمد الاسدی کا معاملہ زیر بحث آیا۔

الاسدی عراقی ملیشیا الحشد الشعبی کے سرکاری ترجمان ہونے کے علاوہ عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کے متبادل کے طور پر پارلیمنٹ کے رکن کی حیثیت سے کام کر رہا تھا۔ بعد ازاں اسے العبادی کی جانب سے برطرف کر دیا گیا تھا۔مذکورہ ذریعے کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم حیدر العبادی پر دبا ڈالنے کے حوالے سے بات چیت ہوئی تا کہ الحشد الشعبی میں الاسدی کی واپسی ہو سکے۔اجلاس کے نتیجے میں اس امر پر اتفاق رائے ہوا کہ اگر العبادی نے الاسدی کی واپسی کو منظور کر لیا تو اسے الحشد الشعبی کا میڈیا ایڈوائزر مقرر کر دیا جائے۔ اس لیے کہ احمد الاسدی پارلیمانی انتخابات کے لیے نامزد امیدوار ہے اور انتخابی قانون عسکری اہل کاروں کو انتخابات میں بطور امیدوار شرکت کی اجازت نہیں دیتا ہے۔دوسری جانب سیاسی تجزیہ کار احمد الخفاجی نے بتایا کہ اس نوعیت کے اجلاس میں باسیج کمانڈر غیب پرور اور ایرانی سفیر کی شرکت اس امر کی تصدیق کرتی ہے کہ تہران عراق میں موجود اپنے ایجنٹوں کے ذریعے عراق کے سیاسی منظرنامے پر اثر انداز ہونے کے لیے کوشاں ہے۔ الخفاجی نے واضح کیا کہ ایران کی طرف سے عراقی وزیراعظم پر دبا اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ تہران عراق کی داخلہ اور خارجہ پالیسی میں بھی مداخلت کر رہا ہے۔ تاہم جناب العبادی اور ان کی ٹیم نے بارہا ان مداخلتوں کو مسترد کر دیا اور وہ عراق کے مفادات کے تقاضوں کے مطابق ایران سے نمٹ رہے ہیں۔ الخفاجی کا مزید کہنا تھا کہ انتخابات کے نتائج کے حوالے سے ہمارے اندیشوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔اجلاس میں غیب پرور کی موجودگی عراقی امور میں ایران کی مداخلت کا منظر پیش کر رہی ہے۔ یہ عراقی حکومت کے لیے ایک پیغام بھی ہو سکتا ہے جو یہ واضح کر رہا ہے کہ آئندہ عراقی انتخابات اور حکومت کے حوالے سے ایران کیا چاہتا ہے۔

مزید : عالمی منظر