باؤ ایشائی فورم شروع ہوتے ہی بڑے پیمانے پر میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا

باؤ ایشائی فورم شروع ہوتے ہی بڑے پیمانے پر میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا

بیجنگ (آئی این پی) باؤ ایشائی فورم شروع ہوتے ہی بڑے پیمانے پر میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا ،باؤ فورم ڈیووس کے مترادف ہونے کے پیش نظر ایشیاء عالمی انجن اور پیداوار کا محرک ہے ۔ چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل کے مطابق باؤ فورم برائے ایشیاء جو ایشیاء کا ڈیووس کے طور پر بھی مشہور ہے کی سالانہ تین روزہ کانفرنس نے اتوار کو شروع ہوتے ہی بڑے پیمانے پر میڈیا کی توجہ مبذول کرلی ہے ، ہانگ کانگ سے شائع ہونے والے جریدہ ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ نے اتوار کو ایک تبصرے میں کہا کہ ’’ مبصرین نے کافی پہلے باؤ فورم کا موازانہ ڈیووس سے کیا ہے ، ’’اس کے پیش نظر (یہ) ایشیاء ہر سال باؤ میں اہم فیصلہ ساز اجتماع اور دنیا کا پیداوار کا انجن اور محرک ہے لگتا ہے اس کا زبردست اثر ہو گا ،عالمی معیشت کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر مسلسل ترقی اور خوشحالی کو یقینی بنانے کے طریقے متعین کرنے کیلئے چین کے صدر شی جن پھنگ سے بلاشبہ بڑی امیدیں وابستہ ہیں ،’’ باؤ فورم برائے ایشیاء اہم اصلاحات کے اعلان کیلئے شی کیلئے درست موقع ‘‘ کے عنوان سے تبصرے میں مزید کہا گیاہے پس منظر میں امریکہ کے ساتھ منڈلاتی ہوئی تجارتی جنگ کے پیش نظر چین کو ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے اور اسے بیرونی اثر و نفوذ سے زیادہ لچکدار بنانے کیلئے چین کو طویل المیعاد تبدیلیاں کرنی چاہیے۔خبر رساں ایجنسی رائٹر نے گزشتہ روز کہا کہ توقع ہے چین کے صدر شی چین کے مساوی ڈیووس، باؤ فورم میں شرکت کرتے ہوئے آئندہ ہفتے اصلاحالتی اقدامات اور اپنے ملک کے کھلے پن کا اعلان کرینگے۔

،برطانیوی جریدہ گارڈین نے گزشتہ روز کہا کہ امریکی اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی کیشیدگی کے پیش نظر طرفین کے مبصررین اس تقریب میں صدر شی کے افتتاحی کلمات کو باغور دیکھیں گے، اٹلانٹک میڈیا کے تحت کاروباری نیوز برانڈ کوارٹز نے بھی سالانہ کانفرنس کی اطلااع دی ہے ۔

مزید : عالمی منظر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...