پشتون تحفظ موومنٹ کا بنیاد ی حقوق دینے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ

پشتون تحفظ موومنٹ کا بنیاد ی حقوق دینے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ

پشاور(صباح نیوز)پشتونوں کو بنیادی حقوق دینے کا مطالبہ کردیا گیا ۔ پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماؤں نے حکومت سے لاپتہ افراد کی بازیابی کا بھی مطالبہکرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کوکسی طرح کی غیر ملکی حمایت حاصل نہیں ہے۔جتنے حقوق اسلام آباد اور لاہور کو حاصل ہیں، اتنے ہی حقوق قبائلی عوام کو بھی دیئے جائیں۔ جب تک مطالبات پورے نہیں ہونگے تب تک ہر جگہ جلسہ ہوگا، ایک ایک گاؤں میں جائیں گے۔خیبرپختونخوا کے صوبائی دارالحکومت میں ہونے والے جلسے میں خیبرپختونخوا اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں سے آنے والے ہزاروں پشتون عوام نے شرکت کی، جہاں انہوں نے یہ کیسی آزادی ہے کے نعرے بلند کیے۔جلسے میں لاپتہ افراد کے اہلخانہ بھی موجود تھے جنہوں نے اپنے پیاروں کی تصاویر اٹھائی ہوئیں تھیں جن کے بارے میں اب انہیں کچھ معلوم نہیں ہے۔ عثمان خان کاکڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انگریز کے کرائے کے سپاہی اب ملک کے حکمران ہیں۔ پختونوں کے لیے امن، تعلیم، روزگار، ہسپتال چاہتے ہیں وہ ہمارا دوست ہے، اور جو بدامنی چاہتا ہے وہ ہمارا دشمن ہے۔راؤ انوار ایک مائنڈ سیٹ ہے جسے ختم ہونا چاہیے، اور ملک کی ایجنسیاں ملک کے اندرونی کاموں میں مداخلت بند کریں۔دیگر رہنماؤں نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ ہمارے حقوق کو ماننا پڑے گا کیونکہ ہم کسی کے خلاف نہیں بلکہ جو ظالم ہے اس کے خلاف ہیں۔ پی ٹی ایم کے رہنما ؤں کا کہنا تھا کہ پاک فوج ہو یا پھر طالبان، جس نے بھی ظلم کیا ہے ہم اس کے خلاف ہیں۔ احسان اللہ احسان کو بھی عدالت میں لانا ہوگا اور اس کے بعد سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشروف کو بھی عدالت میں لائیں گے۔منظور پشتین کا کہنا تھا کہ بدامنی کے باعث کاروبار تباہ ہوگیا، اور اب سوات اور وانا کے پھل پشاور کے بجائے لاہور میں بیچے جارہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا اور فاٹا کے معدنیات پر پختون قوم کا حق ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم آج سے نہیں بہت پہلے سے دہشت گردی سے متاثرہ لوگوں کے ساتھ مدد کرتے آرہے ہیں۔

مزید : علاقائی