2018 کے انتخابات میں ایک ہی منشور والی ( ش) لیگ ،پی ٹی آئی کےخلاف الیکشن لڑنا ہے:بلاول بھٹو

2018 کے انتخابات میں ایک ہی منشور والی ( ش) لیگ ،پی ٹی آئی کےخلاف الیکشن لڑنا ...

ملتان(ڈیلی پاکستان آن لائن)چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ 2018 کے انتخابات میں مسلم لیگ ( ش) اورپی ٹی آئی کیخلاف الیکشن لڑناہے اور مسلم لیگ( ش) اور پی ٹی آئی کی سیاست معیشت،منشور ،نظریہ ایک ہی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے میڈیا سے گفتگوکے دوران کہا کہ ملتان میں پیپلز سیکریٹریٹ کا مرکزبنا دیا گیا ہے ،جنوبی پنجاب کیلیے پیپلزپارٹی نے ہمیشہ کام کیا۔ذوالفقار بھٹو کے دورسے جنوبی پنجاب کو خاص توجہ دی ہے،جنوبی پنجاب کوصوبہ بنانے کی بات پسماندگی دورکرنے کے لیے کی۔پیپلز پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جوعوام کے مسائل پرکام کرتی ہے ۔نواز شریف 3 بار وزیراعظم رہے لیکن میٹروکے علاوہ کیاکیا؟

انہوں نے کہا کہ بھٹونے کسانوں،غریبوں،مزدوروں کوانکے حقوق دلوائے،لوگ کہتے ہیں ہمارے د ورمیں بہت کام ہوئے ن لیگ نے صرف میٹروبنائی۔ہم نے انقلابی کام کیے،شو بازی نہیں کی۔سندھ میں ہم نے کئی شعبوں میں انقلابی کام کیے ہیں،ہم کسی ایک شہر پرفوکس نہیں کرتے۔

بلاول نے کہا کہ این آئی سی وی ڈی کوجنوبی ایشیاکاسب سے بڑااسپتال بنادیا،سکھر،سیہون،حیدرآباد،ٹنڈومحمدخان میں مفت علاج کیلیے اسپتال بنائے۔عوام کوغرض نہیں کہ کسے کیوں نکالا،وہ صرف مسائل کاحل چاہتے ہیں۔غربت کے خاتمے کیلیے غریبوں کوبلاسودقرضے دےرہے ہیں۔سندھ میں 6لاکھ خاندانوں کوغربت سے نکالا ہے،پانی ،غربت،تعلیم اورروزگارعوام کے مسائل ہیں۔میڈیاہمارے کیے گئے انقلابی کام نہیں دکھاتا،کالاباغ ڈیم پرنہ صرف سندھ بلکہ خیبر پختونخواکے بھی تحفظات ہیں۔بلاول کا کہنا تھا کہ (ن) لیگ کی سیاست ختم ہوگئی ہے،پیپلزپارٹی ملک کی واحد نظریاتی جماعت ہے۔نواز شریف ہمیشہ ہمیشہ کیلیے باہر ہوگئے ہیں،2018 کے انتخابات میں مسلم لیگ ش اورپی ٹی آئی کیخلاف الیکشن لڑناہے۔مسلم لیگ( ش) اور پی ٹی آئی کی سیاست معیشت،منشور ،نظریہ ایک ہی ہے۔

احتساب سے متعلق سوال پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کا ہمیشہ سے نظریہ رہا ہے کہ ہمارا احتساب کا نظام کمزور ہے اس میں تبدیلی لانا پڑےگی، ہمارے دور میں جو کرنے کی کوشش کی اس وقت مخالفت ہوئی، ہم نے اپوزیشن میں ترمیم لانے کی کوشش کی اس میں بھی مخالفت ہوئی، ہم ایسا قانون چاہتے ہیں جس میں (ن) لیگ کے لیے وی آئی پی احتساب نہ ہو بلکہ سب کے لیے ایک جیسا احتساب ہو، ہم سب کا احتساب چاہتے ہیں ۔

انہوں نے لوڈشیڈنگ سے متعلق سوال پر کہا کہ یہ لوگ پانچ سال سے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا دعویٰ کررہے ہیں لیکن لوڈشیڈنگ کہاں ختم ہوئی؟ اگر تخت رائے ونڈمیں لوڈشیڈنگ ختم ہوگئی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ پورےے ملک میں ختم ہوگئی، ملک میں بجلی نہیں آتی، اوور بلنگ ہوتی ہے، لوگ بجلی کے بلوں کی وجہ سے خودکشی پر مجبور ہیں، حکومت نے صرف ایل این جی کے لیے سوچا، ٹیکسٹائل، مینوفیکچر اور زراعت کے شعبے کو چن چن کر تباہ کیا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم نے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ کیا لیکن ان بزدل لوگوں نے اس پر کام نہیں کیا جس کے باعث اب انہیں فائن دینا پڑے گا، (ن) لیگ نے ہمارے کوشش کو سبوتاڑ کیا۔ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ایسا الیکشن کمیشن چاہتے ہیں جو اتنا طاقتور ہو اس کے اپنے وسائل ہوں تاکہ کسی کو الیکشن پر کوئی اعتراض نہ ہو، ہم الیکشن اصلاحات چاہتے ہیں تاکہ الیکشن کمیشن غیر جانبدار الیکشن کراسکے۔

مزید : قومی /سیاست

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...