سوسال بعد سانپ کا وہ روپ جسے دیکھ کر اپنی سنی سنائی داستانیں بھول جائیں گے 

سوسال بعد سانپ کا وہ روپ جسے دیکھ کر اپنی سنی سنائی داستانیں بھول جائیں گے 
سوسال بعد سانپ کا وہ روپ جسے دیکھ کر اپنی سنی سنائی داستانیں بھول جائیں گے 

تحریر: فیصل وقاص 

یہ بات موسم گرما 2007کی ہے ۔ان دنوں ہم میٹرک کے پیپر دے رہے تھے۔میرا چچا زاد بھائی اوربچپن کے دو دوست میرے گھر کی چھت پر بیٹھے ایک دوسرے کے ساتھ شرطیں لگا رہے تھے۔ان کے مابین بحث کا موضوع بھوت ،جن اور آسیب تھا۔ہر کوئی اپنے مدلل دلائل سے اپنی بات کو ثابت کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔اسی دوران ہمارے علاقے کی ایسی جگہ کے بارے میں بات چیت شروع ہو گئی جہاں آئے دن کوئی نہ کوئی قتل،چوری یا ڈکیتی کا حادثہ پیش آتا رہتا تھا۔یہ دوکلو میٹر کی ایک گندی سی سڑک کا ٹکڑا ہے جو اکثر اوقات سنسان اور بیاباں رہتی ہے ۔ اس سڑک کے ایک جانب دلدل نما گندے پانی کا جوہڑ ہے۔ دوسری جانب ٹوٹی ہوئی عمارتیں جن کا ملبہ ایسے بکھرا پڑا ہے جیسے یہ عمارتیں 1965کی جنگ میں تباہ ہو ئی ہوں۔یہ پورا رستہ جھاڑیاں اور پرانے درختوں سے ڈھکا ہوا ہے۔اس راستے سے دن کے وقت بھی کسی کا گزر ہو تو گزرنے سے پہلے دس مرتبہ سوچتا ہے۔یہاں سے کوئی بھولے سے بھی اکیلا گزرنے کا نہیں سوچتاکیونکہ اس علاقے سے ماضی کی بہت ساری داستانیں وابستہ ہیں۔

کچھ لوگوں کا تو یوں کہنا ہے کہ اس جگہ پر ایک سو سالہ سانپ رہتا ہے جو کسی عورت کا روپ دھار لیتا ہے 

ہمارے گاؤں کے بزرگ لوگ اس کے بارے میں کافی قصے اور کہانیاں بھی سناتے ہیں اور وہاں سے سات بجے کے بعد جب اندھیرا ہو جاتا ہے گزرنے سے روکتے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ جو بھی اندھیری رات میں وہاں سے آج تک گزرا ہے اس کے ساتھ کوئی نہ کوئی انہونی ضرور پیش آئی ہے ۔اس جگہ سے تقریباًچاروں اطراف ایک کلو میٹر تک قریب قریب کوئی آبادی نہیں ہے۔دن کے وقت بھی یہ سڑک ایسے خوفناک مناظر پیش کرتی ہے ۔گزرتے ہوئے یہی احساس ہوتا ہے اگلے ہی پل کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

اس جگہ کے بارے میں اپنے خاندان کے بڑے لوگوں سے سنی ہوئی داستانیں ہمارے ذہنوں میں نقش ہو چکی ہیں ۔رات کے اندھیرے میں چاہے کتنا ہی کوئی ضروری کام ہو ہمیں وہاں سے گزرنے سے گھر والوں نے منع کر رکھا ہے۔

اب میں اصل مدعے کی طرف آتا ہوں ،اس جگہ کا میری زندگی کے ساتھ ایک اہم تعلق ہے۔سعود، وہاب،میں اور مغیث بچپن کے وہ دوست ہیں جو ایک ہی اسکول جاتے ہوتے تھے اور ایک ہی علاقہ کے مقیم بھی تھے۔ سب روزانہ میرے گھر کی چھت پر اکٹھے ہو تے اور اگلے دن کے لائحہ عمل کے موضوع کو زیر غور لایا جاتا۔سکول میں کیا شرارت کرنی یا کس کے ساتھ کیا نیا کام کرناسب منصوبے بنا یا کرتے تھے۔جیسا کہ اس رات بھی بحث ہو رہی تھی کہ وہاب نے شیخی بگھارتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسے آسیب اور بھوتوں سے بالکل ڈر نہیں لگتا۔ سعود اور مغیث نے اس حوالے سے اس کو تنقید کا نشانہ بنا یا اور میں نے کز ن ہونے کے ناطے وہاب کی حمایت میں ہر دلائل کی مخالفت کی ۔

میرے دوستوں نے وہاب کو چیلنج دے دیا کہ اگر وہ آسیب سے نہیں ڈرتا تو وہ رات ایک بجے اس راستے سے پیدل گزر کر قبرستان کے ساتھ والی چائے کی دکان تک آئے جہاں وہ دونوں اس کا انتظار کریں گے۔

یہ چائے والی دکان ساری رات کھلی رہتی ہے۔ انہوں نے کہا اگر وہ ایسا کر کے دکھا دے تو یہ ثابت ہو جائے گا کہ یہ بہادر ہے او ر دوسرا اسے دیسی مرغے کی کڑاھی کھلائیں گے۔قبرستان والی سڑک پر چائے کی دکان ہے جو کہ 3سے 4کلومیٹر کی پٹی ہے جس کے ساتھ ایک چھوٹی سی آبادی رہائش پذیر ہے۔یہ دکان سڑک کے کارنر پر ہے جو اس سنسان آباد راستے سے ملحقہ ہے۔میں نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر وہاب کے ساتھ جانے کا ارادہ کر لیا۔حالانکہ میں بخوبی اس بات سے واقف تھا کہ اس مہم میں ہمارے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

ہم دونوں مقررہ وقت پر سگریٹ کا پیک لے کر اس راستے کی طرف پیدل نکل پڑے۔اس علاقے کی رات میں خوفناک صورتحال نا قابل بیان ہے۔’’بوڑھ ‘‘کے پرانے درخت سڑک کے دونوں اطراف تھے جن سے سڑک ڈھکی ہوئی تھی۔ہم نے یہ سن رکھا تھا کہ رات کو یہاں دیو قامت کے لوگ پھرتے نظر رہتے ہیں ۔آخر کار چلتے چلتے ہم عین اس جگہ پر پہنچ ہی گئے جو کہ ہمارا ہدف تھا۔کچھ ہمارے ذہنوں میں داستانیں اور کچھ اندھیری رات میں خوفناک منظر جو پہلے ہم نے کبھی نہیں دیکھا تھا،دونوں پہلوؤں کی وجہ سے ڈر لگنا شروع ہو گیا تھا۔ہم نے وہاں سگریٹ جلا کر کچھ منٹ رکنے کے بعد واپسی کے سفرکا آغاز کیا ۔لیکن ہم دونوں نے ایک بات طے کر لی تھی کہ جو مر ضی ہو جائے پیچھے کسی بھی حال میں مڑ کے نہیں دیکھنا۔

ابھی ہم 200سے 300میٹر ہی چل کر واپس آئے ہوں گے کہ وہاب نے مجھے بتایا کہ اسے اپنے پیچھے سے سانپ کے پھنکارنے کی شوکر سنائی دی ہے ۔پھر بولا کہ اب اسے کسی عورت کی پازیب کی آواز سنائی دے رہی ہے،لیکن اس وقت تک مجھے کوئی آواز نہیں آئی تھی ۔میں نے اسے کہا کہ بھائی اب چلتے رہو پیچھے مڑ کر نا دیکھنا،چاہے پیچھے سے جو مرضی ہو جائے۔

کچھ ہی منٹوں کے بعد مجھے بھی تیز شوکر سنائی دی اور آس پاس جھاڑیوں میں جیسے زلزلہ سا آگیا تھا ۔ میں خوف سے کانپ اٹھا ۔مجھے وہاب اور اپنی دونوں کی جان عزیز تھی ، میں اصل میں گھبرا گیا تھا اور اس حال میں ایک ہی آواز میرے منہ سے نکلی ’’وہاب جان بچانی ہے تو یہاں سے بھاگو!اور اب رکنا نہ ‘‘۔ 

ہم جتنی زیادہ سپیڈ کے ساتھ بھاگ رہے تھے پازیب اور شوکر کی آواز ہمارے عین پیچھے سے آ رہی تھی ۔ اس وقت تو ایسا لگ رہا تھا کہ ابھی اگلے ہی لمحے وہ پکڑ کر مار دے گی۔میں نے ایسا منظر نہ ہی کبھی اپنے خوابوں میں دیکھا تھا اور نہ ہی اس بات کا تصور کیا تھا کہ ہمارے ساتھ ایسا کبھی حقیقت میں ہو سکتا ہے۔وہ منظر بہت ہی بھیانک تھا ،ایک تباہ کن پراسرار جگہ ،رات ایک بجے کا وقت اور ہم دونوں جان بچانے کی خاطر دوڑ رہے تھے کہ اچانک وہاب نیچے گر گیا ۔گرنے کی وجہ سے اسے بازو ، ٹانگیں اور گھٹنوں پرخراشیں آئیں تو خون بہنے لگا۔اس کی جوتیاں بھی اتر گئیں ، میں رکا اسے ہاتھ سے پکڑا اور سہمی ہوئی آواز کے ساتھ چلایا کہ بھاگ وہاب ۔۔بھاگ، ورنہ ماریں جائیں گے۔

میں اور وہاب ننگے پاؤں بھاگتے ہوئے قبرستان کو پار کر کے کب اپنے چیلنج کے مطابق چائے کی دکان پہ پہنچ گئے جہاں مغیث اور سعود ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ ہمارے سانس پھولے ہوئے تھے اور ڈر کے مارے برا حال تھا ۔پہلے تو ہمارے دوست ہم پر ہنسے لیکن تھوڑی دیر بعد جب ان کو ہماری حالت کا اندازہ ہوا تو وہ بھی گھبرا گئے۔ہمیں وہاں پہنچ کر ایسا لگ رہا تھا کہ ہم زندہ ہیں ورنہ ہم تو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ آج بچ کر واپس نہیں پہنچ سکتے۔تھوڑی دیر بعد جب میں نے سکون کا سانس لیا تو چائے کا آرڈر دے کر نیا سگریٹ جلایا ہی تھا کہ وہاب نے شور ڈال دیا کہ میرے جوتے وہاں سے لے کر آؤ۔میں نے اسے کہا کہ بھائی تم پاگل ہو کیا ؟ پہلے اللہ اللہ کر کے جان بچی ہے اور ہم پتہ نہیں کیسے واپس آئے ہیں۔ اب تم کہہ رہے ہو کہ دوبارہ موت کے منہ میں جائیں۔میں نے اسے کہا کہ جوتوں کو بھول جاؤ ،نئے خرید لیں گے اگر مر گئے تو جوتوں کا کیا فائدہ۔وہاب اس بات پر بضد ہو گیا کہ مجھے وہی جوتے ابھی چاہیں ورنہ میں گھر نہیں جانا۔اس کے پر زور اصرار کے باوجود میں جانے کے لیے تیار نہیں تھا لیکن سعود نے کہا کہ چلو لے آتے ہیں تم تو ویسے ہی ڈر گے ہو۔ پازیب کی آواز وہم بھی ہو سکتا ہے ۔اگر ایسا حقیقت میں ہوتا تو آپ واپس زندہ یہاں نہ آسکتے۔ہم دونوں میں طے ہو اکہ سعود موٹر سائیکل چلائے گا اور میں پیچھے بیٹھوں گا ۔

بائیک پر ہم صرف پانچ منٹ میں ہی اس جگہ پر پہنچ گئے جہاں وہاب کی جوتی پڑی ہوئی تھی۔میں جوتی پکڑنے کے لیے اترا تو سعود کو کہا کہ بائیک واپس موڑ لو، میں جوتا پکڑ لوں ۔میں جوتا پکڑ کر جب واپس سعود کی جانب مڑ ا تو کیا دیکھتا ہوں کہ سعود آنکھیں پھاڑ کر میری طرف ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا ہے ۔وہ اس طرح ساکن تھا جیسے برف کا تودا پڑا ہوا ہو۔میں نے پوچھا کیا ہوا خیر تو ہے اس پر سعود کے چہرے کا رنگ مزید پیلا ہو گیا ۔اس نے بڑی مشکل سے خوفزدہ حالت میں کہا ’’ تت ۔۔تمھارے پیچھے ایک عورت کھڑی ہے ،جس کے پاؤں ٹیڑھے ہیں ‘‘

اس کی یہ بات سنتے ہی میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی ۔اس لمحہ پازیب اور شوکر کی آواز سنائی دی تو وہ چلایا وہ ادھر آرہی ہے،بھاگو۔میں نے اونچی آواز میں’’ آیت الکرسی ‘‘پڑھنا شروع کردی اور مڑ کے اس جانب نہیں دیکھا ۔بائیک اسٹارٹ کی اور بھگا دی ۔شاید میرے ہوش قائم رہنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میں نے عورت کی طرف دیکھا ہی نہیں ۔ہم چائے کی دکان پر پہنچ گئے لیکن سعودکی حالت ابھی تک تشویش ناک تھی۔چائے والا ہماری حالت دیکھ کر پریشان ہوگیا اور پھر وہ سمجھ گیا اور بولا’’ شکر کرو جان بچ گئی ۔وہ سپنی کسی کو زندہ نہیں چھوڑتی ،آئیندہ ادھر نہ جانا ‘‘یہ سن کر وہاب رونے لگ پڑا۔کانپتے ہوئے ایک ہی بات کیے جا رہا تھا کہ وہ عورت ہمیں زندہ نہیں چھوڑے گی ۔اس کا رنگ ابھی تک پیلا ہی تھا ،مغیث نے اسے پانی پلایا اور ہم فوراََوہاں سے واپس گھر کی جانب روانہ ہو گئے۔ 

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : مافوق الفطرت

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...