’اس جگہ انتہائی کم عمر بچیوں کا ایک وقت میں دس10 لوگ ریپ کرتے ہیں کیونکہ وہ۔۔۔‘

’اس جگہ انتہائی کم عمر بچیوں کا ایک وقت میں دس10 لوگ ریپ کرتے ہیں کیونکہ ...
’اس جگہ انتہائی کم عمر بچیوں کا ایک وقت میں دس10 لوگ ریپ کرتے ہیں کیونکہ وہ۔۔۔‘

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات دنیا بھر کا مسئلہ ہیں لیکن برطانیہ میں کچھ ایسے گینگز کا انکشاف منظرعام پر آ گیا ہے جن میں انتہائی کم عمر لڑکیوں کو بیک وقت 10سے زائد لوگ جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں۔ دی مرر کے مطابق برطانوی ہوم آفس کی سابق مشیر اور چیئرٹی چیف جینیفر بلیک نے بتایا ہے کہ ”ان گینگز میں ایک درجہ بندی سسٹم ہے، جس کے تحت لڑکیوں کو مختلف درجوں میں تقسیم کیا جاتا ہے اور اسی تناسب سے انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔سب سے نچلا درجہ ’لائن اپس‘ کا ہے۔ اس میں وہ لڑکیاں ہوتی ہیں جو بالکل نئی گینگ کے ہتھے چڑھتی ہیں۔ ان لڑکیوں پر لازم ہوتا ہے کہ وہ روزانہ گینگ کے 10مردوں کے ساتھ یکے بعد دیگرے جنسی تعلق قائم کریں۔“

جینیفر بلیک نے مزید بتایا کہ ”لائن اپس کے بعد ’لنکس‘ کا درجہ آتا ہے۔ اس درجے میں شامل لڑکیوں کو اپنے بوائے فرینڈ اور اس کے تین سے چار دوستوں کے ساتھ ایک ہی وقت میں جنسی تعلق استوار کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ’بے بی مدرز‘کا درجہ آتا ہے جس میں وہ لڑکیاں ہوتی ہیں جو گینگ کے ملزمان کی جنسی زیادتی کے نتیجے میں حاملہ ہو جاتی ہیں۔اس کے بعد سب سے بلند درجہ آتا ہے۔ اس درجے میں وہ لڑکیاں آتی ہیں جن سے گینگ کے رکن مرد بیویوں اور گرل فرینڈز جیسا سلوک کرتے ہیں۔“ جینیفر کا کہنا تھا کہ ”ایسے کئی گینگز برطانیہ میں کام کر رہے ہیں۔ لڑکیاں ان گینگز کی لگژری اور پرآسائش زندگی دیکھ کر ان کی طرف راغب ہوتی ہیں اور پھر ان کے ہتھے چڑھ کر زندگی تباہ کروا بیٹھتی ہیں۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس /برطانیہ