وہ درود جسے پڑھنے والے اولیا ء و صوفیا ء بن گئے،روحانی تربیت کا معروف وظیفہ

وہ درود جسے پڑھنے والے اولیا ء و صوفیا ء بن گئے،روحانی تربیت کا معروف وظیفہ
وہ درود جسے پڑھنے والے اولیا ء و صوفیا ء بن گئے،روحانی تربیت کا معروف وظیفہ

  

بہت سے عبادت گزار نوجوان راہ سلوک کی منازل کی جانب محو سفر ہونا چاہتے ہیں ۔ان کے دلوں میں اللہ آباد ہوتا ہے اور سینے میں رسول اللہ ﷺ کا عشق موجزن ہوتا ہے۔زیادہ تر تزکیہ و مجاہدے کرنے والوں نے سلوک کی منازل کو درود پاک ﷺ کا ورد کرتے کرتے حضوری حاصل کی اور اپنی زندگی کی مشکلات کو اس سے رفع کیا۔ساری عمر وہ درود کریم پڑھتے رہے اور دنیاوی مصائب سے یوں نکل گئے جیسے مکھن سے بال۔ان کے دل مضبوط ہوجاتے ہیں ۔اللہ والوں کا کہنا ہے کہ جو درود پاک کو ہی وظیفہ بنالے، اس کے دنیا اور آخرت کے سارے کے سارے کام اللہ تعالیٰ خود اپنے ذمہ لے لیتا ہے۔اللہ تعالٰی نے خود اپنے بندوں کو درود پاک پڑھنے کی ہدایت فرمائی ہے ۔احمد بن حنبل،حاکم ،بیہقی سمیت دوسری احادیث کی کتابوں میں درود پاک ﷺ کے فضائل بیان کئے گئے ہیں ۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا’’ بے شک میں جبرئیل علیہ السلام سے ملا تو اس نے مجھے یہ خوشخبری دی کہ بے شک آپ کا ربّ فرماتا ہے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجتا ہے میں بھی اس پر درود و سلام بھیجتا ہوں ۔پس اس بات پر میں آپﷺ کے حضور سجدہ شکر بجا لایا۔‘‘

ایک دوسری حدیث میں روایت ہے ۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لے گئے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پیچھے چل دیا۔ یہاں تک کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھجوروں کے ایک باغ میں داخل ہو گئے ۔پھر وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لمبا سجدہ کیا اتنا لمبا کہ میں ڈر گیا کہ اللہ تعالیٰ نے کہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح قبض نہ کرلی ہو۔ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھنے کے لئے آگے بڑھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر انور اٹھایا اور فرمایا ’’اے عبدالرحمٰن تیرا کیا معاملہ ہے؟ ‘‘آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سارا ماجرا بیان کر دیا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جبریل علیہ السلام نے مجھے کہا کہ کیا میں آپﷺ کو خوش خبری نہ دوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتا ہے۔ میں اس پر درود (بصورت رحمت) بھیجتا ہوں اور جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجتا ہے میں اس پر سلامتی بھیجتا ہوں۔‘‘

صحابہ کرام اجمعین معمول کے مطابق درود پاک پڑھتے تھے۔اولیائے عظام اور صوفیا کرام کے مجاہدات و عبادات درود کریم کے بغیر نامکمل ہوتے تھے ۔معروف ہے کہ زیادہ تر صوفیا کرام اور اہل سالک درود تاج باقاعدگی سے پڑھا کرتے تھے اور اسکے وظائف بھی ادا کرتے تھے۔درود تاج کی فضیلت بیان کی جاتی ہے کہ درود تاج بے پناہ فیوض و برکات کا منبع ہے اور یہ عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا محبوب وظیفہ ہے۔ بے پناہ صوفیاء اور اولیاء نے یہ درود پاک خود پڑھا اور اپنے سلسلہ طریقت میں اپنے ارادت مندوں کو پڑھنے کی تلقین کی۔ اس درود پاک میں پڑھنے والے کو صاحبِ کشف بنا دینے کی خصوصیت بہت نمایاں ہے۔۔( پیر ابو نعمان رضوی سیفی فی سبیل للہ روحانی رہ نمائی کرتے اور دینی علوم کی تدریس کرتے ہیں ۔ان سے اس ای میل پررابطہ کیا جاسکتا ہے۔peerabunauman@gmail.com )

مزید : روشن کرنیں