”معافی مانگ لو ورنہ....“پیمرا کے سابق چئیرمین ابصار عالم ایک ایسے شخص کے خلاف سپریم کورٹ پہنچ گئے کہ محکمہ اطلاعات کو لینے کے دینے پڑجائیں گے

”معافی مانگ لو ورنہ....“پیمرا کے سابق چئیرمین ابصار عالم ایک ایسے شخص کے خلاف ...
”معافی مانگ لو ورنہ....“پیمرا کے سابق چئیرمین ابصار عالم ایک ایسے شخص کے خلاف سپریم کورٹ پہنچ گئے کہ محکمہ اطلاعات کو لینے کے دینے پڑجائیں گے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )پیمرا کے سابق چیئر مین ابصار عالم نے سیکریٹر ی انفارمیشن احمد نواز سکھیرا کو ان کے خلاف بیان دینے پر قانونی نوٹس بھجوا دیا ہے جس میں انہوں نے 14 روز کے اندر باقاعدہ معافی مانگنے کا مطالبہ کیاہے۔

تفصیلات کے مطابق معروف صحافی حامد نے ٹویٹر کے ذریعے انکشاف کیا تھا کہ ’سیکریٹری انفارمیشن احمد نواز سکھیرا نے میڈیا کمیشن کیس کی سماعت کے دوران بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ابصار عالم چاہتے تھے کہ اینکرز کو 30 سال تک قید کی سزا دی جائے جس کی وجہ سے حکومت نے ان کے تجویز کردہ قانون کی کبھی حمایت نہیں کی۔ حامد میر کے اس انکشاف کے بعد یہ بات خبروں کی زینت بنی اور پھیلتی چلی گئی جس پر اب سابق چیئر مین پیمرا میدان میں آ گئے ہیں اور انہوں نے اسکی تردید کرتے ہوئے احمد نواز سکھیرا کو قانونی نوٹس بھیجوا دیاہے۔

سابق چیئرمین کے وکیل کی جانب سے بھیجے گئے قانونی نوٹس میں کہا گیاہے کہ آپ نے جو الزام میرے موکل پر لگایاہے وہ سراسر جھوٹا اور بے بنیاد ہے اور آپ کا یہ من گھڑت بیان ٹی وی چینلز اور متعدد اخباروں سمیت سوشل میڈیا پر بھی شائع ہو اجس کے باعث میرے موکل کی شہرت کو گہر ا نقصان پہنچا ہے۔نوٹس میں ابصار عالم کے وکیل کا کہناتھا کہ میرے موکل کئی اہم نشستوں پر فرائض کی انجام دہی کر چکے ہیں اور انہوں نے میڈیا انڈسٹری میں مجموعی طور پر 28 سال کام کیاہے اور اس دوران وہ کئی بڑے میڈیا گروپس میں نمائندگی کرتے رہے ہیں ، آپ نے ایسے وقت میں بیان دیاہے جس وقت میرے موکل عہدے سے ہٹ چکے ہیں اور وہ آفیشل طور پر اس کی تردید بھی نہیں جاری کر سکتے ، آپ کے اس بیان کے باعث میرے موکل کی شہرت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاہے اور انہیں ذہنی اذیت سے بھی گزرنا پڑاہے تاہم اس بیان پر آپ میرے موکل سے باضابطہ معافی مانگیں اور اسے ویسے ہی میڈیا میں شائع کیا جائے جیسا کہ آپ کے بیان کی خبریں شائع ہوئیں جبکہ دیگر صورت میں میرے موکل کی جانب سے آپ کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لاتے ہوئے ہتک عزت کا دعویٰ بھی کیا جاسکتا ہے ۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور