لاہور کے معروف علاقے میں آدمی نے لڑکیوں کی بھری ہوئی وین دیکھی اور اپنی شلوار اتار کر ایسی گھٹیا حرکت کر دی کہ شیطان بھی شرما کر کہیں چھپ جائے گا

لاہور کے معروف علاقے میں آدمی نے لڑکیوں کی بھری ہوئی وین دیکھی اور اپنی شلوار ...
لاہور کے معروف علاقے میں آدمی نے لڑکیوں کی بھری ہوئی وین دیکھی اور اپنی شلوار اتار کر ایسی گھٹیا حرکت کر دی کہ شیطان بھی شرما کر کہیں چھپ جائے گا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )ہر روز کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ ضرور پیش آتاہے جس کے باعث شہریوں کے دل کو ٹھیس پہنچتی ہے اور ایسا ہی ایک واقعہ لاہور کے معروف علاقے برکت مارکیٹ میں پیش آیا جہاں ایک نوجوان شخص نے لڑکیوں کے وین دیکھ کر انتہائی شرمناک ترین حرکت کر دی جس کی وجہ سے کئی افراد کے جذبات مجروح ہو گئے ہیں تاہم تاحال کوئی قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق فیس بک پر ایک خاتون صارف کی جانب سے پیغام جاری کیا گیاہے جس میں اس نے اپنی دوست کے ساتھ پیش آنے والے واقع کا خلاصہ کیاہے ، سوشل میڈیا صارف کا اپنے پیغام میں کہناتھا کہ آ میری ایک دوست اپنی وین میں یونیورسٹی جارہی تھی کہ راستے میں لاہور کے علاقے برکت مارکیٹ میں ڈرائیور نے ایک اور طالبہ کے انتظار کیلئے گاڑی روکی ، اسی دوران ایک موٹر سائیکل پر سوار شخص وین کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا ، اس شخص نے وہاں کھڑے ہوکر لڑکیوں کے سامنے ’خود لذتی ‘ شروع کر دی جس کے باعث وین میں موجود لڑکیوں کو شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا ، وہ آدمی وہاں پر چار سے پانچ منٹ بھٹکتا رہا جبکہ وین میں نوجوان لڑکیاں موجود تھیں تاہم میری دوست نے ہمت کر کے اس شخص کی تصویر بنا لی جب اسے پتا چلا کہ اس کی تصویر بنائی جارہی ہے تو اس نے فوری اپنے منہ پر ماسک پہن لیا تاکہ پہنچانا نہ جا سکے تاہم اس کی تصویر بنا لی گئی ۔

خاتون صارف کا کہناتھا کہ لڑکیوں کو عوامی مقامات پر جنسی ہراسگی کے واقعات پر سامناکرنا پڑتا ہے اور یہ حقیقی بات ہے کہ کئی مرد اس طرح کی شرمناک حرکات کرتے ہیں اور میں نے اکثر اپنی یونیورسٹی کے باہر کئی افرادکو ایسا کرتے ہوئے دیکھاہے اور عمومی طور پر اس طرح کی حرکتیں موٹر سائیکل سوار اور رکشہ ڈرائیورز کرتے ہیںاور اس سے ملتی جلتی کئی کہانیاں میں نے اپنی دوستوں سے بھی سنی ہیں ۔جب میں چھوٹی تھی تو میں نے شاپنگ مالز کے باہر ڈرائیور ز کو پارکنگ میں یہ کام کرتے دیکھاہے لیکن میں کبھی کسی سے اس بارے میں ذکر نہیں کیا کیونکہ بعد ازاں الزام مجھ پر ہی عائد ہونا تھا ۔

مزید : ڈیلی بائیٹس