عدلیہ مخالف تقاریر کیس ، ہائی کورٹ نے بنچ کی تشکیل پر نوازشریف کا اعتراض مسترد کردیا،پیمرا سے رپورٹ طلب 

عدلیہ مخالف تقاریر کیس ، ہائی کورٹ نے بنچ کی تشکیل پر نوازشریف کا اعتراض ...
عدلیہ مخالف تقاریر کیس ، ہائی کورٹ نے بنچ کی تشکیل پر نوازشریف کا اعتراض مسترد کردیا،پیمرا سے رپورٹ طلب 

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی ،مسٹر جسٹس عاطر محمود اور مسٹر جسٹس چودھری مسعود جہانگیر پر مشتمل فل بنچ نے پیمر اسے عدلیہ مخالف تقاریر کی ٹی وی چینلز پر نشریات روکنے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی رپورٹ طلب کرلی ۔

فاضل بنچ نے میاں محمدنواز شریف کی تقاریر اور بیانات کا ریکارڈ بھی طلب کر لیاہے۔ فاضل بنچ نے میاں محمد نوازشریف کے وکیل اے کے ڈوگر کی طرف سے مسٹر جسٹس عاطر محمود کی بنچ میں شمولیت پر اعتراض کو مسترد کردیا ۔یہ درخواست سول سوسائٹی کی خاتون آمنہ ملک نے دائر کررکھی ہے جس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ، سابق وزیراعظم میاں محمدنواز شریف ،مریم نواز اورمسلم لیگ (ن) کے متعددراہنماوں کے خلاف الزام لگایا گیا ہے کہ وہ پاناما کیس کے فیصلے کے بعد مسلسل عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں جو توہین عدالت ہے جبکہ پیمرا ان کے عدلیہ مخالف بیانات کی نشریات روکنے کے لئے کوئی اقدام نہیں کررہا۔گزشتہ روز کیس کی سماعت شروع ہوئی تو میاں محمدنواز شریف کے وکیل اے کے ڈوگر نے بنچ میں شامل فاضل جج جسٹس عاطر محمود پر اعتراض کر دیا۔اے کے ڈوگر نے کہا کہ جسٹس عاطر محمود کا تعلق تحریک انصاف سے ہے۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے جواب دیا کہ جج کا کسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔آپ سینئرجج کے بارے میں بلاجواز بات کر کے عدالت کا ماحول خراب نہ کریںجس پر اے کے ڈوگر نے کہا کہ اعتراض کرنا میرا حق ہے ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ جسٹس عاطر محمود کبھی بھی تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری نہیں رہے ، جس پر اے کے ڈوگر نے کہا کہ ہم ثابت کرسکتے ہیں، میں نے ابھی دلائل کا آغاز کیا ہے،فاضل بنچ نے کہا کہ ہم آپ کے دلائل سن رہے ہیں،اے کے ڈوگر نے بنچ کے سربراہ سے کہا کہ ہمارا پرانا ساتھ ہے، مجھے دلائل مکمل کرنے دیں، جس پر فاضل بنچ نے کہا کہ آپ ذاتی تعلقات کو عدالت سے باہر رکھیں یہاں قانونی دلائل دیںاور غیر متعلقہ باتیں نہ کریں۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ تعیناتی کے بعد جج کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا،یہاں فیصلے میرٹ پر ہوتے ہیں،عدالتی حکم پر سیکرٹری پیمرا سہیل آصف عدالت میں پیش ہوئے۔فاضل بنچ نے درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے پیمرا سے رجوع کیا؟اظہر صدیق نے جواب دیا کہ پیمرا سے متعدد درخواستوں کے ذریعے رجوع کیا۔پیمرا رولزکے مطابق کونسل آف کمپلینٹس میں بھی گیا، توہین عدالت سے متعلق پروگرام مجھ سے مانگے گئے، پروگرام فراہم کرنا میری ذمہ داری نہیں ہے، حکومتی اتھارٹی، توہین عدالت سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی ہے، 9 ماہ گزر جانے کے باوجود پیمرا اور کونسل آف کمپلینٹس نے کوئی بھی کاروائی نہیں کی،جسٹس مسعود جہانگیر نے پوچھا کہ کیا آپ کا کیس کونسل آف کمپلینٹس کو بھیج دیں، درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ میرا کیس کونسل آف کمپلینٹس کی حد تک نہیں ہے، وکیل نے مزید کہا کہ پیمرا کو متعدد درخواستیں دیں مگر توہین آمیز تقاریر کو نہیں روکا گیا،عدالت نے کہا کہ تمام فریقین کو سن کر ہی کوئی فیصلہ دیا جائے گا،عدالت نے پیمرا سے توہین آمیز نشریات روکنے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی رپورٹ طلب کر لی،عدالت نے پیمرا سے میاں محمدنواز شریف کی تقاریر اور بیانات کا ریکارڈ بھی طلب کر لیاہے۔ اس کیس کی مزیدسماعت11اپریل کو ہوگی۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور