پولیس فرائض بھول چکی ،پولیس افسروں کو ارکان اسمبلی کے در پر سلام اور انہیں چائے پیش کرنے سے فرصت نہیں:ہائی کورٹ 

پولیس فرائض بھول چکی ،پولیس افسروں کو ارکان اسمبلی کے در پر سلام اور انہیں ...
پولیس فرائض بھول چکی ،پولیس افسروں کو ارکان اسمبلی کے در پر سلام اور انہیں چائے پیش کرنے سے فرصت نہیں:ہائی کورٹ 

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے قراردیا ہے کہ پولیس اپنے فرائض بھول گئی ہے اورارکان اسمبلی کو سیلوٹ کرنے میں مصروف ہے۔پولیس کا کام ارکان اسمبلی کے دروازوں پر جار کر سلام کرنا رہ گیا ہے ۔

مسٹر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے یہ ریمارکس شیخوپورہ میں 4 افراد کے قتل کے10 ملزموںکو پولیس کی طرف سے بے گناہ قراردینے کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران دیئے ۔فاضل جج نے پولیس کے سینئرافسروں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی تشکیل دے کر 7روز میں تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کا حکم بھی دیا ہے ۔عدالت نے قرار دیا کہ پولیس افسرصرف ایم پی اے ،ایم این اے کو سلام کرنے اور چائے پیش کرنے لئے ہیں ۔عدالتی حکم پرڈی پی او شیخوپورہ اور پولیس کے اعلیٰ افسرعدالت میں پیش ہوئے ،درخواست گزارمقصودہ بی بی کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ شیخوپورہ میں درخواست گزار کا خاوند، دیور اور دو بیٹے قتل ہوئے تھے ،متعلقہ تھانہ کے سب انسپکٹرنے قاتلوں کو پہلے گناہ گار اور بعد میں بے گنا ہ لکھ دیا ۔کیس کی دوبارہ تفتیش کا حکم دیا جائے ،عدالت نے پولیس کی جانب سے حقائق کے بر عکس رپورٹ پیش کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا، فاضل جج نے ڈی پی او شیخوپورہ سے استفسار کیا کہ کیا آپ کاکام صرف ایم پی اے اور ایم این اے کے دروازوں پر جا کر سلام کرنا ہے اور انہیں چائے پیش کرنا ہے ؟اس بیوہ عورت کو بتائیںکہ وہ کس کے پاس جائے۔قتل کے مقدمہ میں ایک تفتیشی افسرنے نامزد افراد کو قصور واراور دوسرے نے بے گناہ کیسے کر دیا؟پولیس اپنے فرائض بھول چکی ہے اورکچھ نہیں کر رہی،عدالت نے پولیس افسران کو تنبیہ کی کہ مقدمات کی ناقص تفتیش کے عمل کو برداشت نہیں کیا جائے گا،عدالت نے مقدمے کی تفتیش سینئرافسروںپر مشتمل کمیٹی کے سپرد کرنے کا حکم دیتے ہوئے 7یوم میں تفتیش کی رپورٹ طلب کر لی ہے،عدالت نے ناقص تفتیش کرنے والے تفتیشی افسروں کے خلاف کاروائی کا حکم بھی دیاہے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور