بھائی کے ہاتھوں بہن قتل، نو عمر مقتول علی حسن کے اغوا برائے تاوان میں ملوث سنگین وارداتوں کے ملزمان پکڑے گئے

بھائی کے ہاتھوں بہن قتل، نو عمر مقتول علی حسن کے اغوا برائے تاوان میں ملوث ...

  

صوبائی دارالحکومت میں جہاں ڈکیتی چوری، اغواء برائے تاوان اور قتل کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ وہاں ان ملزمان کی گرفتاری کے لیے بھی لاہور انوسٹی گیشن پو لیس نے دن رات ایک کر رکھا ہے اور شہر میں پیش آنے والے تمام سنگین واقعات کے ملزمان انوسٹی گیشن پولیس نے یا تو گرفتارکرلیے ہیںیا ان کی گرفتاری کے لیے مصروف عمل ہیں،حال ہی میں شہر میں پیش آنے والے اہم واقعات کے ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے چند روز قبل ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ڈاکٹر انعام وحید نے اپنے دفتر میں ایک پریس کانفرنس کی ۔اس موقع پرایس ایس پی انویسٹی گیشن ذیشان اصغر،ایس پی سی آئی اے عثمان اعجاز باجوہ، ایس پی صدرانویسٹی گیشن راشد ہدایت، ایس پی AVLSعاطف حیات، ایس پی انویسٹی گیشن سول لائنز عاصم افتخار، ایس پی انویسٹی گیشن اقبال ٹاؤن شازیہ سرور سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے بتایا کہ سی آئی اے لاہور اورصدر انویسٹی گیشن پولیس نے اغوا ء کے بعد قتل ، اغواء برائے تاوان اور ڈکیتی کی متعدد وارداتوں میں ملوث ملزمان کو گرفتار کیا۔ اُنہوں نے بتایاکہ سی آئی اے کینٹ پولیس نے تھانہ ہیئر کے علاقہ راجہ بولا گاؤں میں تاوان کے لیے 11سالہ بچے علی حسن کو اغوا کے بعد قتل کرنے اور اس کی نعش کو جلانے کی لرزہ خیز واردات میں ملوث ملزم ساجد کو گرفتار کرلیا ہے۔ملزمان بچے کو ورغلا کر اسٹیٹ لائف ہاؤسنگ سوسائٹی کے خالی پلاٹ میں لے گئے اوربچے کو گلا دبا کر قتل کیا اور شناخت چھپانے کے لیے اس کی نعش کو پیٹرول ڈال کر جلا دیا اور بعد میں بچے کی واپسی کے لیے اس کے والد مبارک علی سے6لاکھ روپے تاوان وصول کیا جو برآمد کر لیا گیا ہے۔11سالہ مغوی بو لا گاؤں کا رہائشی اور حال ہی میں اس نے پانچویں جماعت کے پیپرز دے رکھے تھے11مارچ2019 کو اس کی والدہ نے اسے ہمسایہ کے گھر بھجوایا بچہ واپس نہ آیا اوراسے ملزمان نے اغوا کر لیا ۔جس پر انوسٹی گیشن لاہور پولیس کے سنئیر اور ماتحت افسران کو فوری ان ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیتے ہوئے انھیں گرفتارکر کے قتل ہونیوالے بچے کی لا ش اور تاوان کی رقم برآمد کی گئی ہے ۔انھیں افسوس ہے کہ وہ بچے کی جان تو نہیں بچا سکے البتہ ملزمان کو کیفر کردارتک پہنچانے کے لیے پوری کو شش کریں گے ۔ مغوی کے والد مبارک حسین نے بتایا کہ مغوی کو پہلے روز ہی اغواکے بعد لے جاکر فوری قتل کر کے اس کی لاش پر پٹرول پھینک کر اسے جلا دیا گیا اگر بچہ ایک دودن زندہ رہ جاتا تو یقیناًاس کی جان بچ جا نی تھی لیکن ایسا نہ ہو سکا جبکہ ڈی آئی جی کا کہنا ہے کہ وہ اس بچے کی زندگی کے بارے میں کافی پر یشان تھے اور دن رات اپنی ٹیم سے ملزمان کی گرفتاری کے لیے لمحہ بہ لمحہ ان سے رابطے میں رہے جب انھیں علم ہوا کہ بچہ تو قتل کر دیا گیا ہے وہ کئی دن تو ٹھیک طریقے سے نیند بھی نہ لے سکے۔تاہم انھوں نے بچے کے اہل خانہ سے خود جاکر نہ صرف ان سے افسوس کیا بلکہ انھیں یقین دھانی بھی کروائی کہ یہ ملزمان کسی صورت بھی سزا سے بچ نہیں پائیں گے اس حوالے قتل ہونیوالے بچے کے والدمبارک حسین اور دیگر اہل خانہ نے بھی روز نامہ پاکستان سے گفتگو میں بتایا ہے کہ انوسٹی گیشن پولیس بالخصوص ڈی آئی جی ڈاکٹر انعام وحید نے ان کے ساتھ نہ صرف دن رات خود رابطہ رکھا بلکہ انھوں نے سختی سے ہدایت کی کہ کسی بھی پولیس افسر کو آپ نے ایک پائی بھی نہیں دینی جو بھی آپ کو اس حوالے سے پر یشانی لاحق ہووہ فورا ان سے ان کے زاتی موبائل پر رابطہ کر سکتے ہیں اور اس حوالے سے ڈی آئی جی ڈاکٹر انعام وحید سے ان کی کئی بار با ت بھی ہوئی ۔وہ جب بھی انھیں دفتر میں ملنے گئے تو انھوں نے چائے پیش کی اور ہمیشہ اس طرح حسن سلوک سے پیش آئے جیساکہ ان کا کو ئی اپنا بیٹا اغوا ہو اہے ۔ہمیں پہلے دن سے لیکر آخر تک کسی کو ایک روپیہ بھی دینے کی نوبت پیش نہیں آئی،تحقیقاتی ٹیمیں ان سے مسلسل رابطے میں رہیں انھیں اپنا بیٹا تو نہیں مل سکا لیکن ڈی آئی جی نے انھیں یقین دھانی کروائی ہے کہ آپ مجھے اپنا فیملی ممبر سمجھیں اور اس مقد مے سمیت زندگی میں دیگرکوئی بھی پر یشانی لاحق ہووہ ان سے بلا جھجک رابطہ کر سکتے ہیں ۔علاوہ ازیں ڈی آئی جی نے مزید بتایا کہ اسی طرح سی آئی اے سول لائن پولیس نے مغلپورہ میں آصف خان بیوٹی اینڈ کاسمیٹکس کی دوکان میں ڈکیتی کی واردات کے دوران ہارون خان کوفائر مار کر قتل کرنے والے بالو ڈکیت گینگ کے 2ملزمان محمد عاطف عرف بالو اور اس کے ساتھی شہر یار عرف کالا مون کو گرفتار کر لیا ہے ۔جبکہ ا یس پی انویسٹی گیشن صدر راشد ہدایت کی سربراہی میں 3کروڑ روپے تاوان کے لیے پراپرٹی ڈیلر محمد ندیم کو اغواء کرنے والے تین ملزمان صبغت اللہ، محمد عثمان اور میر محمد کو گرفتار کر کے مغوی محمد ندیم کو بحفاظت بازیاب کروا لیا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ واردات کا مرکزی ملزم صبغت اللہ حافظ قرآن اور امام مسجد ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ سی آئی اے صدر اور کاہنہ نے ڈکیتی اور نقب زنی کی وارداتوں میں ملوث 3گروہوں کے 8ملزمان کو گرفتار کر کے تقریباً 38لاکھ روپے مالیت کا مال مسروقہ اور ناجائز اسلحہ برآمد کیا۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ڈاکٹر انعام وحید نے بتایا کہ جرائم پیشہ افراد کی گرفتاری ہماری اولین ترجیح ہے اور آئندہ بھی ان کی سرکوبی کے لیے اسی طرح کام جاری رہے گا۔اسی طرح جوہر ٹاؤن سے آئی ٹی کے پروفیسر کے اغواء میں شاگرد سمیت لاہور ہائیکورٹ کے جج کا گارڈ اور دو پولیس اہلکاروں سمیت ڈی سی آفس کا سرکاری ملازم بھی ملوث پایا گیا، مرکزی ملزم فیصل یوسف مغوی شاہد نصیر کا شاگرد رہ چکا ہے جس نے پلان کر کے دیگر ملزمان کو واردات میں شامل کیا۔ ملزمان کو تاوان کے 25 لاکھ روپے ڈیجیٹل کرنسی میں ادا کیے گئے جو پاکستان کی تاریخ کا پہلا اور دنیا کی تاریخ کا تیسرا واقعہ ہے۔ ملزمان کے قبضہ سے گاڑی، موٹر سائیکل، تاوان کی رقم 25لاکھ روپے، لیپ ٹاپ،4پسٹل اور ایک رائفل برآمد کر لی گئی ۔قانون ہاتھ میں لینے کے کلچر نے ہماری معاشرتی اقدار کا جنازہ نکال دیا ہے ، ایک طرف اشرافیہ آئین و قانون کو موم کی ناک بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھے ہوئے ہے تو دوسری طرف عام شہری بھی قانون سے کھلواڑ میں قطعی پیچھے نہیں، ان حالات میں قانون کی بالادستی ایسا خواب بن چکی ہے جس کے شرمندہ تعبیر ہونے کی امیدیں بھی اب دم توڑ رہی ہیں جبکہ قانون ہاتھ میں لینے کے متواتر سامنے آنے والے واقعات ثابت کررہے ہیں کہ عام شہری بھی اسی سوچ کا شکار ہے کہ جس کا مظاہرہ با اثر افراد کی طرف سے کیا جاتا ہے حالانکہ قانون کی عملداری ایک ایسا عمل ہے جو کسی بھی معاشرے کی اساس اور انسانی حقوق کے تحفظ کی ضما نت ہے اورمہذب معاشرے قانون کی عملداری ہی سے معاشرتی مساوات اور برابری کانظریہ پروان چڑھاتے ہیں مگر ہمارے ہاں بدبختی فقط یہی نہیں کہ قانون کو بالادستی بار بار چیلنج ہوتی دکھائی دیتی ہے بلکہ انا پسندی اور غیرت کے نام پر ایسے ایسے شرمناک فعل انجام دیئے جارہے ہیں جن کا احوال رونگٹے کھڑے کردینے والا ہوتا ہے ، انسانی بے رحمی کی اور قانون ہاتھ میں لئے جانے کے عوامل جب کسی ایک واقعہ میں جمع ہوتے ہیں تو ایسی بھیانک تصویر بنتی ہے جو لاہور میں پیش آنے والے ایک واقعہ کی صورت میں سامنے آئی کہ 19سالہ طالبہ اپنے ہی بھائی کے ہاتھوں قتل ہو گئی۔جو کہ احمد نامی لڑکے نے اپنی بہن کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا۔ بھائی نے بہن کو قتل کرنے کے لیے اپنے دوست کی مدد لی اور دونوں نے مل کر 19 سالہ لڑکی کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ قتل ہو نیوالی مسکان کالج جانے والی طالبہ تھی اس کے بھائی کو بہن کے کردار پر شک تھا اور اسی شک کی بنا پر اسے قتل کیا۔ جب کہ بہن کو قتل کرنے والے بھائی کا کہنا تھا کہ میری بہن کے پیچھے لڑکے بھی آتے تھے جس پر میں نے اسے منع کیا اور کہا کہ تم نے کالج نہیں جانا لیکن اس نے میری بات نہیں سنی اور میرے ساتھ بدتمیزی کی۔ جبکہ قتل کے دوسرے ملزم کا کہنا ہے کہ جب میں لڑکی کو قتل کرنے لگا تو وہ اپنے بھائی کو بھی آوازیں لگاتی رہی اور اس کا نام پکارتی رہی۔ لیکن اس کو معلوم نہ تھا کہ اس کے اپنے بھائی نے ہی قاتل کو یہ راستہ دکھایا ہے۔ ڈی آئی جی نے بتایا کہ ہماری کوشش ہو گی لڑکی کو قتل کرنے والے دونوں ملزمان کو کڑی سے کڑی سزا دلوائی جائے اوردونوں ملزمان کو پولیس نے گرفتار بھی کر لیا ہے ۔ ڈی آئی جی کے مطابق آپریشنل اور انوسٹی گیشن پولیس کا کام شہر میں امن و امان کا قیام عمل میں لانا ہے اس لیے وہ مل جل کر کام کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں اس لیے انھوں نے وارداتوں کی روک تھام کے لیے اب ناکوں پر اینٹی وہیکل لفٹنگ سٹاف(AVLS)کی اضافی نفری تعینات کروا دی ہے۔عادی اور سنگین جرائم میں ملوث مجرمان ،اشتہاری ڈاکوؤں، موٹر سائیکل چوروں کو پکڑنے کے لئے20ہزار افراد پر مشتمل مفصل فہرستیں تشکیل دی گئیں ہیں جبکہ ٹاپ 700مجرمان کی گرفتاری کے لئے بھی مربوط انتظامات کئے گئے ہیں۔لاہورانوسٹی گیشن پولیس کے جدید اصلاحات پر مبنی اقدامات کی بدولت عمومی کرائم45فیصد جبکہ پراپرٹی کے خلاف ہونے والا کرائم کا گراف 23فیصد نیچے آیا ہے۔گذشتہ سال اکتوبر سے دسمبر 2018تک ڈکیتی کی وارداتوں میں 27فیصد کمی واقع ہوئی۔اگست 2018میں ڈکیتی کی 06وارداتوں کے مقابلے میں فروری 2019میں ڈکیتی کی صرف03وارداتیں ہوئیں۔جبکہ اسی دورانیہ میں موٹر سائیکل چوری کی وارداتوں میں 20فیصد کمی واقع ہوئی جو کہ 670فی مہینہ سے کم ہو کر فروری 2019میں 559رہ گئیں۔اگست 2018میں موٹر سائیکل چھیننے کی 58وارداتوں کے مقابلے میں فروری 2019میں موٹر سائیکل چھیننے کی 23وارداتیں ہوئیں۔ یعنی اس جرم کی شرح میں بھی تقریبا 48فیصد کمی ہوئی۔راہزنی کی وارداتوں میں اگست 2018کی نسبت فروری 2019میں کم و بیش 16فیصد کمی اور جنوری2019 کے دوران ڈکیتی کی وارداتوں میں21فیصد جبکہ موٹر سائیکل چوری کی وارداتوں میں16فیصد کمی واقع ہوئی۔تجزیاتی رپورٹ کے مطابق شہر کے زیادہ کرائم والے 35تھانوں میں نومبر اور دسمبر 2018 میں جرائم کی شرح میں مجموعی طور پر 43فیصد کمی واقع ہوئی۔سٹی ڈویڑن میں نومبر دسمبر میں جرائم کی شرح میں 29فیصد، سول لائنز ڈویڑن میں 32فیصد، ماڈل ٹاؤن ڈویڑن میں 59فیصد، کینٹ ڈویڑن میں50فیصد، اقبال ٹاؤن ڈویڑن میں 23فیصد جبکہ صدر ڈویڑن میں 54فیصد کمی واقع ہوئی۔یہ تما م اعداد شمار پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے شعبہ آئی سی تھری میں موصولہ 15کی کالز پر مبنی ہے، جس کی رپورٹ کے مطابق لاہور شہر میں جرائم کے وقوع پذیر ہونے کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔انوسٹی گیشن پولیس کارکردگی میں بہتری لانے کے لئے مختلف یونٹس کا انتظامی ڈھانچہ بھی مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔سنگین جرائم میں مطلوب اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کے لئے سی آئی اے اور انچارج تھانوں کی سطح پر خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ سٹریٹ کرائم روکنے کے لئے انوسٹی گیشن فورس کی کارکردگی میں بھی مزید بہتر ی لائی جا رہی ہے۔ان اقدامات کے نتیجے میں گذشتہ سال ماہ نومبر اور دسمبر میں سٹریٹ کرائم میں 10فیصد کمی جبکہ ٹاپ 30کرائم ایریا ز کے سٹریٹ کرائم میں 12فیصد کمی ہوئی۔انوسٹی گیشن پولیس انتظامی سطح پر اصلاحات کے عمل سے بہتر کارکردگی کے ذریعے جان و مال کے تحفظ کے حوالہ سے عوامی توقعات پر پوراترنے کی حتی الاامکان کوشش کر رہی ہے۔ جرائم پیشہ افراد کی سرکوبی کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔جن میں انوسٹی گیشن ٹیموں کی تشکیل، عادی جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن اور ان کی گرفتاری شامل ہے۔ تمام مہم کی نگرانی ڈی آئی جی انوسٹی گیشن ڈاکٹر انعام وحید ذاتی طور پر کر رہے ہیں۔ ہر ماہ ڈویژن کی سطح پر ملزمان کی گرفتاری بارے باقاعدگی سے میٹنگ منعقد کر کے انچارج صاحبان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے اور کارکردگی کی بنیاد پر جزا و سزا کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔ ہر 15دن کے بعدتمام ایس پیز کی نگرانی میں جرائم میں ملوث ملزمان کی گرفتاری بارے حکمت عملی کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے۔ سی سی پی او لاہور بی اے ناصر بھی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے باقاعدگی سے اہم ملزمان کی گرفتاری بارے میٹنگز منعقد کرتے ہیں۔انوسٹی گیشن پولیس کے امن و امان کے قیام اور جرائم کنٹرول کرنے کے لئے اقدامات سے لاہور پولیس کی کارکردگی میں واضح بہتری آئی ہے۔شخصی کارکردگی کی بجائے ادارہ جاتیSystematicطریقے سے جرائم کی بیخ کنی کے لئے مربوط حکمت عملی پر عمل کیا جا رہا ہے۔تجربہ کار اور تفتیشی ماہرین کو انچارج انوسٹی گیشن تعینات کیا گیاہے۔مختلف ونگز کو خود مختار بنایا جا رہا ہے تا کہ وہ ایک دوسرے پر انحصار کرنے کی بجائے آزادانہ زیادہ موثر انداز میں کارکردگی دکھائیں۔عوام کو انصاف کی بروقت فراہمی اور عدالتوں کے ساتھ بھرپور تعاون کو یقینی بنانے کے لیے تفتیشی عمل میں پائی جانے والی خامیوں کے مکمل خاتمے کے لیے سپیشل ایس او پیز تیار کے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی کوتاہی اور نا اہلی کو برداشت نہیں کیا جاتااور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت ترین محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے ۔ڈی آئی جی انوسٹی گیشن ڈاکٹر انعام وحید کا کہنا ہے کہ وہ کرپٹ اہلکاروں کو پسند تو کیا ہر گزبرداشت بھی نہیں کرتے ،حرام کی کمائی ،اگرچہ شکلیں نہیں بگاڑتی لیکن نسلیں ضرور بگاڑ دیتی ہے ، جو ریاست مجرموں پر رحم کرتی ہے وہاں کے بے گناہ لوگ بڑی بے رحمی سے مرتے ہیں ۔اگر آپ قانون کی بالادستی قائم کرنا چاہیں تو ہر طرف سے مخالفت ہوتی ہے۔ خطرناک اور مطلوب مجرموں کی رہائی کی سفارشیں ’اچھے‘ لوگ لے کر آتے ہیں جن میں حکومتی اہلکار، سیا ست دان اور فوجی افسران بھی شامل ہوتے ہیں۔سفارش پر زیادہ توجہ نہ دیں تو یہ سفارشات دھمکیاں بن جاتی ہیں۔اور دھمکیاں صرف ’اعلی اہلکاروں‘ سے نہیں ملتیں بلکہ لاک آپ میں کسی انتہا پسند تنظیم کاوہ دہشت گرد بھی سپاہیوں کو سمجھاتا ہے ’مجھے تو عدالت رہا کر دے گی لیکن یاد رکھو مجھے معلوم ہے تم کہاں رہتے ہو اور تمھارے بیوی بچے کہاں ہوتے ہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں کی کامیابی کے پیچھے سب سے بڑا ہاتھ وہاں کے نظام انصاف کا ہے، وہاں کی پولیس کا نظام اتنا مضبوط ہو گیا ہے کہ ہر شہری کے لئے قانون پر عمل کرنا ضرروی ہوتا ہے۔ مجرم کو پولیس بنا کسی روک ٹوک پکڑ لیتی ہے، ایسا کرنے سے ہی عام شہری قانون کا احترام بہتر انداز میں کرتے ہیں۔ ہمارے ملک کا المیہ ہے کہ یہاں جو جتنا صاحب حیثیت ہوتا جاتا ہے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو وہ اتنا ہی اپنا غلام سمجھنے لگ جاتا ہے، ہماری پولیس ان کی قانون شکنی پر انہیں گرفت میں لینے کی بجائے انہیں سلام کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔ ہماری حکومت اگر واقعی معاشرے کو سدھارنا چاہتی ہے تو اسے محکمہ پولیس کو جدید انداز میں سدھارنا ہو گا۔ جب تک محکمہ پولیس میں بہترین تربیت یافتہ اور فرض شناس لوگ نہیں لائے جاتے اس محکمے میں سے بہتر نتائج حاصل کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی لگتا ہے۔ کوئی بھی قانون اس معاشرے کو جرائم سے پاک نہیں کر سکتا ہے جب تک قانون پر عمل کرانے والے ادارے ایمانداری اور فرض شناسی کے ساتھ اپنے کام کو سرانجام نہ دیں

مزید :

ایڈیشن 2 -