خواتین پر تشدد کے دلخراش واقعات میں بے پناہ اضافہ

خواتین پر تشدد کے دلخراش واقعات میں بے پناہ اضافہ

  

پنجاب بھر میں ان دنوں پر خواتین پر تشدد کے دلخراش واقعات منظر عام پر آ رہے ہیں کہیں خاوند اپنی بیوی کے سر کے بال مونڈ دیتا ہے کہیں گھریلو لڑائی جھگڑے کی وجہ سے ساس اور بہو کی لڑائی اور کہیں کمسن بچوں پر تشد دکے واقعات سن کر انسانی روح کانپ جاتی ہے خواتین پر ہونیوالے ہر قسم کے تشدد کے واقعات میں ان کے اہلخانہ ہی شریک ہوتے ہیں کہیں کوئی ملزم بھاگ گیا تو کہیں کوئی پکڑا گیا کسی کو سزا ملی تو کسی کو معاف کر دیا گیا حکومت ان دنوں قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو خواتین پر تشدد کرنے سے روکنے کیلئے ہدایات دے چکی ہے اور کسی بھی واقعہ کے رونما ہونے پر قانون نافذ کرنیوالے ادارے متحرک ہو جاتے ہیں مگر یہ امر مصدقہ ہے کہ اس تشد دکو روکنے کیلئے کوئی مناسب قانون سازی نہیں کی گئیخواتین کو معاشرے میں تحفظ دینے کیلئے پولیس ‘ دار الامان اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اپنی استطاعت کے مطابق کام کر رہی ہیں ملک بھر میں دار الامان جیسے اداروں میں کمسن لڑکیوں سے لیکر ضعیف العمر خواتین تک بھی معاشرے میں ہونیوالے ظلم و ستم کی داستانیاں بیان کرتی ہیں اسی طرح کا ایک دلخراش واقعہ تھانہ کنجاہ کے نواحی گاؤں ماجرہ میں چند یوم قبل پیش آیا جس میں وحشت اور بربریت کا ایک ایسا ہی کھیل کھیلا گیا کہ ہر آنکھ اشکبار ہو گئی 4بچوں کی ماں 36سالہ رضوانہ بی بی کو گھریلو جھگڑے کی بنا پر تیل چھڑک کر آگ لگا دی گئی جس سے وہ بری طرح جھلس گئی اور ہسپتال میں آخری سانسیں گن رہی ہے اس وحشت ناک کھیل میں خاتون کا شوہر غلام مصطفی ‘ جیٹھ غلام غوث اور بیٹا حسن مصطفی شامل تھے پولیس نے تینوں ملزمان کو چند ہی گھنٹوں میں ٹریس کر کے گرفتار کر لیا متاثرہ خاتون کی نند ملزمہ خالدہ بی بی کی تلاش جاری ہے تھانہ کنجاہ پولیس کواطلاع موصول ہوئی کہ گاؤں ماجرہ میں گھریلو لڑائی جھگڑے کے دوران 36سالہ رضوانہ بی بی کو اس خاوند نے دیگر گھروالوں کے ساتھ مل کر تیل چھڑک کر آگ لگا دی جس سے متاثرہ خاتون بری طرح جھلس گئی پولیس نے بروقت موقع پر پہنچ کر متاثرہ خاتون کو علاج معالجہ کے قریبی ہسپتال پہنچایا جہاں وہ موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا ہے جسم کا زیادہ تر حصہ جل چکاہے ڈاکٹر اسکی جان بچانے کی سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں سید علی محسن ڈی پی او گجرات کے نوٹس میں جب یہ واقع لایا گیاتو انہوں نے ڈی ایس پی صدر سرکل سعید احمد کو فوری طور پر ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیا جس پر ڈی ایس پی صدر سرکل کی زیر نگرانی ایس ایچ او کنجاہ عرفان صفدر اور انکی ٹیم نے متاثرہ خاتون کے بھائی ظہیر احمد کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے نامزد ملزمان جن میں خاتون کا خاوند ملزم غلام مصطفی ،جیٹھ غلام غوث اور بیٹا حسن مصطفی شامل ہیں کو چند گھنٹوں میں ہی تلاش کر کے حراست میں لے لیا متاثرہ خاتون چار بچوں کی ماں ہے اور سسرالیوں کا اکثر اس سے جھگڑا رہتا اسکے ساتھ ناروا سلوک معمول تھا سید علی محسن ڈی پی او گجرات نے خاتون کیساتھ بربریت کے اس المناک واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسے سفاک ملزمان کسی رعایت کے مستحق نہیں انہیں سخت سے سخت سزادلوائیں گے تاکہ آئندہ صنف نازک کے ساتھ کوئی ایسی گھناؤنی واردات کرنے کی جرات نہ کر سکے اس گھناؤنے جرم میں کون کتنا ذمہ دار ہے اسکا تعین کرنے کیلئے ماہر تفتیشی افسران پر مشتمل خصوصی ٹیم تحقیقات کر رہی ہے کسی بیگناہ کے ساتھ زیادتی ہوگی نہ کسی گنہگار کو معافی ملے گی اشتہاریوں کیخلاف جاری مہم کے دوران گجرات پولیس کو بیس 20سال سے مطلوب انتہائی خطرناک ملزمان کی گرفتاری میں بھی لازوال کامیابی نصیب ہوئی تھانہ سٹی جلالپو رجٹاں نے قتل کی واردات میں مطلوب ایک ایسے اشتہاری ملزم محمد ارشد کو گرفتار کیا ہے جو محلہ دھودودھاری کا رہائشی اور 2010سے پولیس کو مطلوب تھا ملزم واردات کے بعد 9سال سے مفروری کی زندگی بسر کرتا رہا ڈی پی او سید محسن علی کاظمی کے گجرات چارج سنبھالنے کے بعد اشتہاریوں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شرو ع ہوا تو دس 10اور بیس 20سال سے مطلوب اشتہاری بھی گرفتار ہوئے جو گجرات پولیس کی بڑی کامیابی تصور کی جاتی ہے گجرات میں اجتماعی طور پر پولیس کی کارکردگی ڈویژن بھر میں سرفہرست ہے تھانہ صدر جلالپور جٹاں کے انچارج مہندی خاں رانجھا ‘ تھانہ سٹی کے ایس ایچ او محمد ارشد ‘ تھانہ کڑیانوالہ کے ملک نذیر ‘تھانہ شاہین کے رائے فیاض ‘ سرفراز انجم سیکھو ایس ایچ او تھانہ صدر کھاریاں‘فراست حسین چٹھہ ایس ایچ اوگلیانہ‘ متعدد بار آر پی او اور ڈی پی او سے اعلی کارکردگی کی بدولت تعریفی اسناد اور نقد انعامات حاصل کر چکے ہیں تھانہ شاہین نے بدنام زمانہ منشیات فروشوں کے ایک گروہ کو گرفتارکر کے ان کے خلاف مختلف نوعیت کے 9مقدمات درج کیے جبکہ شفاقت علی عرف شقو گینگ کے 3ارکان کو گرفتار کر کے لاکھوں روپے مالیت کا قیمتی سامان ‘ زیورات ‘ نقدی وغیرہ برآمد کیے جو پولیس کیلئے ایک چیلنج بن چکے تھے اب ضلع بھر کی پولیس کی کارکردگی بہتری کی طرف گامزن ہے اور پہلے کی نسبت موجودہ حالات میں زمین اور آسمان کا فرق ہے گجرات پولیس کے سربراہ محافظ گجرات پروفیسر سید علی محسن کاظمی چھوٹے سے چھوٹے جرم کے بارے میں بھی معلومات رکھتے ہیں اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھتے جب تک کسی بھی مقدمہ کے ملزمان گرفتار نہیں ہو جاتے اپنی ہی والدہ کو آگ لگانے والے نوجوان کو اپنے کیے پر قطعا کوئی شرمندگی نہیں کاش اسے اس بات کا علم ہوتا کہ ماں کے قدموں تلے جنت ہے ۔

مزید :

ایڈیشن 2 -