ہے کوئی مسیحا جوآئے اور عوام کی جان ومال کا تحفظ کرے

ہے کوئی مسیحا جوآئے اور عوام کی جان ومال کا تحفظ کرے

  

بد قسمتی سے آج کل پاکستان کے حالات کچھ ایسے ہیں کہ ہر طرف دہشت گردی، مہنگائی، بے روزگاری اور امن و امان نہ ہونے کی وجہ سے عوام کا جینا دو بھر ہو چکا ہے. اور اس کی سب سے بڑی وجہ ہمارا قانون ہے جو ایک جال کی مانند ہے اور جس میں ہمیشہ غریب ہی پھنستا ہے، امیر اپنی دولت کے بل بوتے پر بڑی آسانی سے قانون کے رکھوالوں کو خرید کر اڑ جاتا ہے ملک میں امن و امان قائم رکھنا، جرائم کو ختم کرنا اور عوام کے جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کرنا ہر قانون کے محافظ کا اولین فریضہ ہے. حکمرانوں کی امن و امان کی ناقص کارکردگی اور پولیس مظالم کے خلاف عوام نے آواز بلند کی مگر حکمران، پولیس کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں اور پولیس خود ان کے ہاتھوں کھلونا بننے کے لئے تیار نظر آتی ہے. اس سے پولیس اپنی من مانیاں اور کارروائیاں کرنے میں فخر محسوس کرنے لگی ہے.انتہائی دکھ کی بات ہے کہ ملک میں بد امنی اور دہشت گردی کی فضا کو ختم کرنے کی ذمہ داری جس محکمہ پر عائد ہوتی ہے، وہ پولیس ہے.مگر بد قسمتی سے ہمارا پولیس کا نظام ہمیں انگریزوں سے وراثت میں ملا ہے اور انہوں نے یہ نظام عوام کے مفاد پر نہیں بلکہ سامراج کو عوام پہ مسلط کرنے کی غرض سے وضع کیا تھا. نہ ہی کبھی ہماری سیاسی حکومتوں کو یہ توفیق ہوئی کہ اس محکمہ کو حکام کی چاکری کی بجائے عوام کی خدمت اور تحفظ پہ مامور کیا جائے یہی وجہ ہے کہ پولیس کا موجودہ نظام مجرموں کے تحفظ اور عوام کے لئے خوف کا باعث بنا ہوا ہے عوام دہشت گردی سے اتنا ہراساں نہیں ہیں جتنا کہ پولیس کی ناقص کارکردگی سے نالاں ہیں.ضلع شیخوپورہ جو کہ صنعتی لحاظ سے بہت زیادہ زرخیز ضلع ہے، جس میں ہر طرح کی فیکٹریاں اورکارخانے عام ہیں ضلع شیخوپورہ کو یہ مقام حاصل ہے کہ یہاں دوسرے اضلاع سے لوگ آ کرمحنت مزدوری کرتے ہیں پچھلے کئی سالوں سے جو یہ ضلع شیخوپورہ امن و سکون اور محبت و آشتی کا گڑھ ہوتا تھا، اب یہاں ا سٹریٹ کرائم عروج پر ہیں جہاں لوگ رات کو چین کی نیند سوتے تھے، اب وہاں دن دیہاڑے موٹر سائیکل، موبائل فون اور نقدی چھین لی جاتی ہے زیادہ تر وارداتوں میں نقدی و سامان چھیننے کے لیے موجود ڈکیت سامنے والے کی زندگی تک چھیننے سے گریز نہیں کرتے.

اگر یہ وارداتیں سنسان اور بیابان علاقوں میں ہوتیں تو کہا جا سکتا تھا کہ علاقہ غیر ہونے کی وجہ سے ایسی وارداتیں ہوتی ہیں ،لیکن یہاں تو شہر کے بیچوں بیچ انتہائی گنجان آباد علاقوں میں اب اس طرح کی وارداتیں ہوتی ہیں اور قانون بے بس نظر آتا ہے

اس کے علاوہ شہر بھر میں منشیات، سود خوری، منی لانڈرنگ، جواء، قحبہ خانے کے اڈے کھلے عام منتھلیاں مقرر کر کے چل رہے ہیں. پولیس صرف مال جمع کرنے کے کام میں مصروفِ عمل ہے کئی خاندان برباد ہوچکے ہیں لیکن پولیس کواس سے کیا غرض ہے. یہاں جو بھی آیا اس نے ضلع شیخوپورہ کو سونے کی چڑیا سمجھ کر بس لوٹا.یہاں وردی میں ملبوس ملازمین ہی شہریوں کو ڈاکو بن کر لوٹ رہے ہیں.پکڑے جانے پر ان کو آزاد کر دیا جاتا ہے کیونکہ بھینس، بھینس کی بہن ہوتی ہے.عوام کو ہر معاملے میں دبایا جاتا ہے کیونکہ یہاں سب کے سب صاحبِ اختیار ہیں اور عوام ان کی رعایا ہے.

بحر حال بگڑے نظام کو درست سمت پر لے جانا راقم الحروف کے بس کی بات نہیں ہے یہاں کوئی مسیحا ہی ہے جو آئے اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لئے کوئی احسن قدم اٹھائے تاکہ لوگوں کی راتوں کی نیندیں حال ہو سکیں

ضلع شیخوپورہ کے تھانہ بھکھی کی حدود میں ہونے والے ایک واقعہ کو قارئین کی نظر کرنے جا رہا ہوں ہو سکتا ہے کہ کوئی فرض شناس اور ذمہ دار قانون کا محافظ آفیسر محکمہ پولیس میں چھپی کالی بھیڑوں کا محاسبہ کرنے کے لئے کوئی قدم اٹھانے کو تیار ہو جائے واقعات کے مطابق مورخہ 11/12 مارچ کی درمیانی شب ملزمان شاہد علی باجوہ ، قربان علی بھٹی، فیصل اور ایک کس نا معلو م شخص جو کہ شیخوپورہ شہر کے رہائشی ہیں رات گئے ایک کالے رنگ کی کرولہ کار جس پر سرکاری نیلی لائٹ بھی لگی ہوئی تھی پر سوار ہو کرفیصل آباد روڈ کی آبادی نواں کوٹ میں گئے ملزمان نے جعلی پولیس وردیاں زیب تن کر رکھی تھیں پرائیویٹ کار پر سرکاری نیلی لائٹ لگا کر ملزمان نے تاوان کی خاطر ایک نوجوان کو اغواء کرنے کے بعد بھاری رقم کی ڈیمانڈ کرتے رہے انکار پر ایک نوجوان کو اغواء کر کے اپنے ساتھ لے گئے راستے میں چونگی پھاٹک شیخوپورہ کے قریب تھانہ اے ڈویثرن پولیس نے ناکہ لگا رکھا تھا جہاں ملزمان اصلی پولیس کے ہتھے چڑھ گئے مگر جعلی وردیوں اور نیلی سرکاری لائٹ والی کار سمیت ملزمان کو گرفتار کرتے ہوئے تھانہ اے ڈویثرن پولیس کے جوانوں نے ملزمان کو حوالات میں بند کرنے کے بعد مبینہ طور پر بھاری رقم کے عوض تمام ملزمان کوگاڑی سمیت چھوڑ دیا گیااور الٹا مغوی کو چھترول کر کے بھاری رقم بٹور نے کے ساتھ ساتھ اشٹام پیپر بھی لکھوا لیا گیا جس کی بابت ڈی پی او عمران کشور کو برائے اندراج مقدمہ تحریری درخواست دی گئی جنہوں نے ڈی ایس پی صدر سرکل شیخوپورہ کو انکوائری آفیسر مقرر کیا جنہوں نے بعد از انکوائری ایس ایچ او تھانہ بھکھی کو مقدمہ کا اندراج کرنے کے لئے حکم دیا جس پر ایس ایچ او تھانہ بھکھی رانامحمد اعظم نے ملزمان کے خلاف ایک مقدمہ نمبری280/19 بجرم 170.171/342 ت پ کا اندراج تو کر لیا مگر افسوس ایف آئی آر میں واقع کو بری طرح توڑ مروڈ کر مقدمہ کا اندراج کیا گیا اور وقوعہ کے مطابق ایف آئی آر میں جرم بھی نا لگائے گئے پولیس نے سرے سے ہی تمام ملزمان کو تحفظ دے دیا واقعات کے مطابق روز نامہ پاکستان کے کرائم رپورٹر شیخوپورہ، و چیئرمین پریس کلب بھکھی سینئر صحافی سجاد اختر سندھو نے مقامی افراد الطاف حسین ، اور محمد شفیق سے مل کر آئل کا کام شروع کر رکھا ہے ملزمان وقوعہ کی رات آئل والی حویلی جو کہ نواں کوٹ میں واقع ہے میں گئے اور وہاں پر موجود ملازم محمد شفیق کو دبوچ لیا گیا اور تشدد کرنے کے بعد صحافی سجاد اختر سندھو سے بذریعہ ٹیلی فون رابطہ کروایا گیا اس دوران ملزمان نے شفیق کو گاڑی میں آنکھیں باندھ کر بٹھانے کے بعد صحافی سجاد اختر سندھو سے شفیق کو چھوڑنے کے عوض بھاری رقم برائے تاوان کی ڈیمانڈ کی بصورت دیگر ساتھ لے جانے کو کہا گیا اور جانی نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دی گئیں رقم کی ادائیگی سے انکار پر ملزمان شفیق نامی ملازم کو اپنے ساتھ گاڑی میں ڈال کر لے گئے اور جاتے ہوئے حویلی میں موجود دورکشے جو آئل سپلائی کے لئے رکھے گئے تھے میں سے ایک رکشے کو قریبی جوہڑ میں پھینک دیا گیا اور دوسرے رکشے کے ٹائروں سے ہوائیں نکال دی گئیں رات بارہ بجے کے بعد تمام ملزمان سمیت مغوی شفیق کا موبائل فون بھی بند ہو گیا مسلسل چار روز کی جدوجہد کے بعد معلو م ہوا کہ شفیق کو پکڑ کر لے جانے والے ملزمان پولیس ملازم نہیں بلکہ جعلی پولیس وردیوں میں اغواء کار گینگ کے ارکان تھے جو اسی رات ہی پولیس کی جعلی وردیوں میں اور کار پر لگی جعلی نیلی پولیس لائٹ والی کار سمیت چونگی پھاٹک کے قریب تھانہ سٹی اے ڈویثرن پولیس کے جوان جو کہ راستے میں ناکہ لگا کر کھڑے تھے کے ہتھے چڑھ گئے تھے اور تھانہ اے ڈویثرن پولیس نے ان تمام اغواء کاروں کو جعلی پولیس وردیوں میں ملبوس تھانہ کی حوالات میں بند کئے رکھا اور بعد ازاں چار روز بعد تھانہ اے ڈویثرن پولیس نے تمام ملزمان سے مبینہ طور پر بھاری رقم میں ساز باز کر کے نیلی پولیس لائٹ والی کار سمیت تمام ملزمان کو رہا کر دیا اور الٹا مغوی محمد شفیق کی چھترول کر کے اس سے مبلغ بیس ہزار روپے وصول کرنے کے بعد محمد شفیق کے ساتھی ملازم محمد الطاف کو تھانہ میں بلا کر زبردستی ایک اشٹام پیپر لکھوا یا گیا اور انگوٹھے بھی لگوائے گئے جس کے بعد محنت کش محمد شفیق کو رہائی نصیب ہوئی واقع کا انکشاف ہونے پر آئل کے کاروبار میں حصے دار صحافی و چیئرمین پریس کلب بھکھی سجاد اختر سندھو نے اس بابت ایک تحریری درخواست برائے اندراج مقدمہ ڈی پی او شیخوپورہ کو گزاری جو انہوں نے برائے انکوائری ڈی ایس پی صدر سرکل کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ڈی ایس پی صدر سرکل نے انکوائری کے لئے ملزمان کو بار بار طلب کیا مگر ملزمان حاضر نا ہوئے جس کے بعد ڈی ایس پی صدر سرکل رانا ندیم طارق نے ایس ایچ او تھانہ بھکھی رانا اعظم کو ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے قانونی کاروائی عمل میں لانے کا حکم دیا گیاایس ایچ او تھانہ بھکھی رانا محمد اعظم نے بجائے فرض شناسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقدمہ کا اندراج کرنے کے بجائے صحافی سجاد اختر سندھو پر درخواست میں سے اغواء اور تھانہ اے ڈویثرن پولیس کی حراست میں ملزمان کے رہنے کے واقع کو درخواست سے نکالنے کے لئے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا گیا بصورت دیگر مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا گیا آخر کار درخواست کو تبدیل کرو الیا گیا اور تمام ملزمان کو تحفظ دیتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ نمبری 280/19 بجرم 170.171/342 ت پ کااندراج کر کے ملزمان کو فری ہینڈ دے دیا گیاہے افسوس تو اس بات کا ہے کہ تھانہ بھکھی پولیس نے تھانہ سٹی اے ڈویثرن میں تعینات پولیس ملازمین جنہوں نے بھاری رشوت لیتے ہوئے جعلی پولیس ٹیم کو چھوڑ دیا کو تحفظ دینے کی خاطرپورے وقوعہ کو ہی زبردستی تبدیل کروا دیا گیا جس سے نا صرف کرپٹ پولیس ملازمین کو تحفظ مل گیا بلکہ جعلی پولیس ٹیم جنہوں نے نواں کوٹ سے ایک محنت کش کو اغواء برائے تاوان کی خاطر اٹھایا انہیں بھی پورا تحفظ فراہم کر دیا گیا ہے تھانہ بھکھی میں تعینات ایس ایچ او رانا محمد اعظم جو اپنے آپ کو فرض شناس ہونے کا راگ الاپتے ہیں مگر اس وقوعہ میں انہوں نے اپنے فرائض سے چشم پوشی کرتے ہوئے وقوعہ کی بابت درج کی جانے والی ایف آئی آر میں جو جرم لگوائے ہیں وہ انتہائی فضول قسم کے لگا دیئے گئے ہیں جس سے ملزمان کو حد سے زیادہ ریلیف مل چکا ہے ڈی پی او شیخوپورہ سمیت تمام ذمہ دار پولیس افسران کو چایئے کہ وہ اس وقوعہ کی بابت درج ہونے والی ایف آئی آر کو وقوعہ کی بابت خود تصدیق کرتے ہوئے دوبارہ سے جرم لگوائیں تاکہ ایک طرف تو اغواء ہونے والے محنت کش کی داد رسی ہو سکے تو دوسری طرف ملزمان نشان عبرت بنیں تاکہ اس کے بعد کوئی بھی شہری ایسی حرکت کرنے سے پہلے ہزار بار سوچے ، یہاں پر حکومت وقت کے منشور انصاف عوام دہلیز پر ، کا بھی مکمل طور پر پول کھل کر سامنے آ چکا ہے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے نئے پاکستان میں ایسے لا تعداد واقعات اور سنگین نوعیت کی وارداتوں کے مقدمات ہی درج نہیں کئے جا رہے جس سے عوام اپنے آپ کو عدم تحفظ کا شکار محسوس کر رہے ہیں نواں کوٹ میں اغواء برائے تاوان کے اس واقعہ اور پولیس روایہ پر معززین و پریس کلب بھکھی کے ارکان سمیت ضلع بھر کی صحافتی تنظیموں کے ارکان میں غم و غصہ پایا جا رہا ہے تاہم پولیس اپنے موقف پر تا حال ڈتی ہوئی ہے اور ملزمان کو گرفتار کر نے سے مکمل گریزاں ہے اورناہی ایف آئی آر میں واقعہ کے مطابق جر م لگانے کو تیار ہے یہاں ایک بات انتہائی قابل ذکر ہے کہ ضلع میں ایسی کئی ایف آئی آر اور کئی واقعات ہونے کے باوجود آج تک ایک بھی مجرم ہاتھ نہ آیا اور نہ ہی کبھی کوئی مسروقہ سامان برآمد ہو سکا،ان حالات کو دیکھ کراس اغواء برائے تاوان کی واردات میں بھی یہی لگتا ہے کہ شاید اربابِ اختیار ان جعلی پولیس وردیوں میں ملبوس اغواء کار گینگ کے ارکان شاہد علی باجوہ ، قربان علی بھٹی، فیصل وغیرہ کے خلاف کاروائی ہرگز بھی نہیں ہو گی اور نا ہی انہیں قانون کے مطابق سخت سزا ملے گی جس کا بڑا نقصان یہ ہو گا کہ یہ ملزمان دوبارہ ایسی ہی وارداتیں کریں گے اور پولیس اپنا حصہ وصو کرتے ہوئے خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی رہے گی یہ تو ایک سینئر صحافی کی روداد ہے جس کے ساتھ پولیس نے اپنی روائتی بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے واقعہ کو مکمل طور پر توڑ مروڈ دیا گیا یہاں اگر کوئی ستم رسیدہ فریادی زنجیر عدل ہلانے کی جسارت کرتے ہوئے تھانے تک آ جائے تو آمد و رفت کے اخراجات اسی کی جیب سے وصول کیے جاتے ہیں پھر مدعی اور مدعا علیہ دونوں سے رقم بٹوری جاتی ہے اور بالآخر جیت اسی کی ہوتی ہے جو زیا دہ خرچ کرے. یہاں سے رشوت کا کلچر جنم لیتا ہے اور قانون کی وردیوں میں ملبوس اہلکار ہی قانون کی دھجیاں اڑا دیتے ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 2 -