علاقے میں دہشت کی علامت ڈکیٹ گینگ پولیس کی حکمت عملی سے اپنے انجام کو پہنچ گیا

علاقے میں دہشت کی علامت ڈکیٹ گینگ پولیس کی حکمت عملی سے اپنے انجام کو پہنچ ...

  

کرائم ایڈیشن

رپورٹ سیّد طہماسپ علی نقوی

(نامہ نگار شرقپور شریف )

شرقپور شریف ضلع شیخوپورہ کی تحصیل ہے اور مین لاہور جڑانوالہ روڈ پر واقع ہے شرقپور بین الاقوامی ملکی سطح پر مشہور قصبہ ہیشرقپور کی شناخت حضرت میاں شیر محمد ؒ شرقپوری ہے اور ان کے عقیدت مند موجود ہیں ۔ ہزاروں عقیدت مند دربار حضرت میاں شیر محمد ؒ صاحب پر حاضری کیلئے تشریف لاتے ہیں شرقپور اور اس کے گردونواح میں تقریبا پانچ ماہ سے جرائم کی شرح میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے خصوصا ڈکیتی کی وارداتیں بڑھی ہیں اور مین جڑانوالہ روڈ پر شام ہوتے ہی ڈکیتی کی وارداتیں ہوتی ہیں ڈکیتی کی واردات کے دوران منڈیانوالہ کے قریب ایک وکیل جو جڑانوالہ کا رہائشی تھا بھی ڈاکوؤں کی فائرنگ سے جاں بحق ہو چکا ہے ڈکیتی کی وارداتیں تھم نہ سکیں ۔ ڈی پی او شیخوپورہ نے ان وارداتوں کو روکنے کیلئے مختلف قابل پولیس افسران کی ٹیمیں تشکیل بھی دیں۔ رانا اقبال ایس ایچ او نے اپنے دور میں کچھ ڈاکو گرفتار بھی کیے جو مختلف اضلاع میں پولیس کو مطلوب تھے چند روز تک علاقے میں وارداتیں کنٹرول ہوئیں لیکن تھانہ شرقپور میں کوئی بھی ایس ایچ او دو تین ماہ سے زیادہ عرصہ نہیں نکالتا اسے تبدیل کر دیا جاتا ہے چند ماہ سے مسلسل یہ ہی صورت حال ہے کہ دس پندرہ روز کے اندر ہی تعینات ہونے والے ایس ایچ او کو تبدیل کر دیا جاتا ہے سیاسی مداخلت کا بھی عنصر پایا جاتا ہے جو ہر مسئلے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتا ہے اور تھانہ شرقپور جو ضلع شیخوپورہ کا ایک بڑا تھانہ ہے جہا ں پر پولیس کی نفری انتہائی کم ہے نفری کی کمی کے باوجود پولیس کے اہلکار علاقے میں جرائم کو کنٹرول کرنے کیلئے محنت اور لگن کے ساتھ کام کرتے ہیں اپنی جان بھی دینے سے دریغ نہیں کرتے ۔ مین جڑانوالہ روڈ پر ڈکیتی کی وارداتیں مسلسل جاری رہیں تو پولیس نے ان وارداتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے جڑانوالہ روڈ پر گشت کو بڑھایا اس دوران 22اور 23مارچ کی درمیانی شب تریڈیوالی کے قریب ڈاکو روڈ پر درختوں؂ کو کاٹ کر رکاوٹیں کھڑی کر کے مسافروں کو لوٹ رہے تھے کہ تھانہ شرقپور اور ڈھامکے چوکی کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے ڈاکوؤں نے ڈھامکے چوکی کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی لیکن پولیس کے اہلکار محفوظ رہے پولیس نے گشت بڑھا دیا تو چند گھنٹے بعد دوبارہ ڈاکوؤں نے منڈیانوالہ کے قریب رکاوٹیں کھڑی کر کے لو ٹ مار شروع کر د ی تو تھانہ شرقپور کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے ڈاکوؤں نے پولیس کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس سے پولیس کانسٹیبل ظہیر عباس زخمی ہو گیا ۔ لیکن زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ظہیر عباس جاں بحق ہو گیا کانسٹیبل ظہیر عباس کے واقع کے بعد شرقپور شہر میں سو گ کی فضا قائم ہو گئی شہریوں نے ڈکیتی کی واردات روکتے ہوئے کانسٹیبل کی شہادت پر خراج تحسین پیش کیا ڈی پی او شیخوپورہ عمران کشور نے تھانہ شرقپور کے علاقے میں بڑھتی ہوئی ڈکیتی کی وارداتیں اور کانسٹیبل کی شہادت کے واقع کے بعد پانچ ٹیمیں تشکیل دیں جس میں ایس ایچ او تھانہ شرقپور عبداللہ پاشا ،انسپکٹر نوید انجم اعوان ، انسپکٹر عامر محبوب ،ملک شبیر حسین ، اور دیگر پولیس افسران پر ٹیمیں تشکیل دیں جنہوں نے تھانہ شرقپور کے علاقے میں ڈکیتی کی وارداتیں روکنے کیلئے فیصلہ کیا اور دیگر اضلاع کے پولیس سے بھی مدد لی مشتبہ ملزمان کی گرفتاریوں کا فیصلہ کیا اور 30 مارچ کو صبح سات بجے کے قریب جڑانوالہ روڈ منڈیانوالہ کے قریب ڈاکو ناکہ لگا کر مسافروں کو لو ٹ رہے تھے کہ تھانہ شرقپور پولیس کے ایس ایچ او عبداللہ پاشا ،انسپکٹر نوید انجم اعوان پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے جس پر چھ کس مسلح ڈاکوؤں نے پولیس پر فائرنگ کر دی اور قریبی امرود کے باغات میں پنا ہ لے لی جب فائرنگ کا سلسلہ تھما تو امرود کے با غ میں ایک ڈاکو زخمی حالت میں پڑا تھا جسے پولیس طبی امداد کیلئے لے گئی اس دوران ملزم نے اپنا نام نواز عرف ریاض بتایا کہ وہ اس وقت واربرٹن کے علاقہ جسلانی موڑ میں رہائش پذیر تھا وہ اپنے دیگر ساتھیوں پرویز ، غضنفر ،اللہ دتہ وغیرہ کے ساتھ مل کر علاقے میں وارداتیں کرتے ہیں اور ہماری ہی فائرنگ سے پولیس کانسٹیبل جاں بحق ہوا تھا زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ڈاکو نواز عرف ریاض جاں بحق ہو گیا ۔

علاقے میں دہشت کی علامت بنا ہوا ڈکیٹ گینگ پولیس افسران کی حکمت عملی او ر ڈی پی او شیخوپورہ کی ہدایت کے مطابق پولیس کے جوانوں نے کام کیا تو یہ گینگ منظر عام پر آیا ان ایک ساتھی اپنے کیفر کردار کو پہنچ گیا ایس ایچ او تھانہ شرقپور عبداللہ پاشا نے بتایا کہ ڈی پی او شیخوپورہ عمران کشور نے تھانہ شرقپور کے علاقے میں ڈکیتی کی وارداتیں کنٹرول کرنے کیلئے خصوصی ٹاسک دیا ہے ہمارے ایک جوان ظہیر عباس نے جام شہادت بھی نوش کیا اور پولیس کے اہلکار اپنے فرائض دن رات لگن کے ساتھ نبھا رہے ہیں جرائم کو کنٹرول کرنا ہمارا اوّلین فرض ہے علاقے سے قبضہ گروپ ،رسہ گیروں اور ڈکیٹوں کا خاتمہ کیا جائے گا انصاف کے دائرے میں رہتے ہوئے میرٹ پر کام کیا جائے گا کسی کے ساتھ بے انصافی نہیں ہو گی ۔

مزید :

ایڈیشن 2 -