نیا سندھی اخبار ’’ پہنجی اخبار ‘‘

نیا سندھی اخبار ’’ پہنجی اخبار ‘‘
نیا سندھی اخبار ’’ پہنجی اخبار ‘‘

  

سندھی زبان کا ایک نیا روزنامہ ’’ پہنجی اخبار ‘‘ شا ئع ہونا شروع ہو گیا ہے۔ یہ اخبار روزنامہ کاوش کے بانی مدیر علی قاضی نے اپنی ہی ادارت میں شائع کیا ہے۔ وہ سندھی زبان کے ٹی وی چینل کے معمار بھی ہیں۔ تین بھائی ایک ساتھ مل کر کاوش نکال رہے تھے کہ گزشتہ جولائی کے مہنیہ میں ہونے والے عام انتخابات میں امیدوار کی حیثیت سے حصہ لینے کی پاداش میں دیگر دو بھائیوں نے ان کی ناکامی کے بعد عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے علی قاضی کو اخبار اور چینل سے ہی عملًا علیحدہ کر دیا۔

علی نے کافی عرصہ قبل اپنی سیاسی جماعت ’’تبدیلی پسند پارٹی‘‘ بھی تشکیل دی تھی ۔ وہ عمومی طور پر پاکستان اور خصوصی طور پر صوبہ سندھ میں موجودہ سیاسی کلچر کے خلاف جدوجہد بھی کر رہے تھے ۔ وہ کاوش میں اپنے مضامین میں لوگوں کو بڑ ی سیاسی اور انتخابی تبدیلی لانے کی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ ویسے بھی سندھ میں سیاسی کلچر کو تبدیل کرنے کی اشد ضرورت اس لئے ہے کہ لوگ کب تک بڑے وڈیروں ، دولت مندوں اور نو دولتیوں کے اشاروں پر ووٹ ڈالتے رہیں گے ۔

سوائے اپنی تباہی کے عوام کو کچھ حاصل نہیں ہوا اور نہ حاصل ہوگا۔ منتخب نمائندوں کی اکثریت تو انتخابات میں کامیابی کے بعد اپنے عام ووٹروں سے ہاتھ بھی نہیں ملاتی۔ انفرادی اور اجتما عی مسائل حل کرنا تو دور کی بات ہے۔ تبدیلی پسند پارٹی کی اصطلا ح میں ’’ بھوتار ‘‘ ( وڈیرہ شاہی ) کلچر کے خاتمہ تک ممکن نہیں ہے۔

علی قاضی نے ایک بھی وہ امیدوار نامزد نہیں کیا جنہیں منتخب ہونے کی اہلیت والا امیدوار قرار دیا جاتا ہے۔ یہ لوگ سب ہی کے لئے مسائل کھڑے کرتے رہے ہیں۔ الیکٹ ایبلز کا رواج اور راج پاکستان سے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ تحریک انصاف ختم کرنے کا دعویٰ کرتی تھی، لیکن عین انتخابات سے قبل عمران خان بھی ’’ٹریپ ‘‘ ہو گئے اور الیکٹ ایبلز کے گھیرے میں آگئے۔

علی قاضی کو جب کاوش اور ٹی وی چینل کے ٹی این سے جبری علیحدگی اختیار کرنا پڑی تو انہوں نے اپنے کسی دوست سے کہا تھا کہ کوئی اور کام نہیں آتا ہے۔ سوائے اس کے کہ ذرائع ابلاغ میں ہی راستہ بنایا جائے۔ انہوں نے ’’ پہنجی اخبار ‘‘ کا آغاز ویب سے کیا ۔

جب وہ ویب پر پسند کی جانے لگی تو باقاعدہ پرنٹ کی طرف جانے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان بھر میں ذرائع ابلاغ غیر اطمینان بخش مالی صورت حال سے دوچار ہیں۔ مالی طور پر مستحکم اخبارات ملازم صحافیوں کو بے روز گار کر رہے ہیں ۔ مستحکم اخبارات نے بھی ملازمین کم کردیئے۔

پیپلز پارٹی نے حیدرآباد سے شائع ہونے والے اچھی اشاعت کے حامل اپنے سندھی زبان کے اخبار سوبھ کے ملازمین کی تعداد میں کمی کردی۔ احتجاج میں مدیر ظہیر شاہ مستعفی ہوگئے ۔ اسی پارٹی نے اپنے ٹی وی چینل دھرتی سے ملازمین کو نکال کر چینل کو محدود کردیا۔ ایک اور بڑے گروپ ایکسپریس نے اپنے سندھی زبان کے روزنامہ سندھ ایکسپریس کو محدود کردیا ، صفحات کم کردئے۔

حالانکہ سندھ ایکپریس اپنا مقام بنا چکا تھا اور کاوش کے بعد دوسرے نمبر کی اشاعت حاصل کر چکا تھا۔ دیگر اخبارت اور چینلوں نے بھی اپنے اخراجات میں کمی کرنے کا عذر پیش کرتے ہوئے صحافیوں کو بڑے پیمانے پر بے روز گار کر دیا۔

اخبارات کے صفحات کم کر دئیے گئے۔ قیمت میں اضافہ کر دیا گیا۔ ایسی افتاد کے دور میں علی قاضی نے اخبار شائع کر دیا ۔ علی قاضی نے اپنی رات دن کوششوں کے بعد کاوش کو ایک مقام پر پہنچایا تھا۔ سندھی زبان کی صحافت میں کاوش اور کے ٹی این کی اپنی سلطنت بنادی تھی۔

انہیں قدرت نے خبر کو سمجھنے اور اسے استعمال کرنے اور اخبار کے صفحات پر سجانے کا ملکہ عنایت کیا ہے۔’’ پہنجی اخبار‘‘ کے علاوہ وہ چینل بھی نکالنے کا منصوبہ رکھتے ہیں ۔ اخبار کی گنجائش اپنی جگہ موجود ہے ۔ علی قاضی کے ناقدین بھی ان میں موجود صلاحیتیوں پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے رہے ہیں ۔ اخبار کا نام اردو میں’’اپنا اخبار‘‘ ہوگا۔

مزید :

رائے -کالم -