مذہب کے نام پر قتلِ انسانی

مذہب کے نام پر قتلِ انسانی
مذہب کے نام پر قتلِ انسانی

  

دنیا میں دو عالمی جنگوں کے بعد انسانی جانوں کا سب سے بڑا نقصان مذہب کے نام پر کیا گیا۔ صلیبی جنگوں سے لے کر 1947ء کی تقسیم ہند تک کہا جاتا ہے تقریباً 22لاکھ انسان بے دردی سے مارے گئے۔ یہ ظلم مذہب نے نہیں کیا، بلکہ مذہب کے نام پر انسان نما حیوانوں نے کیا فلسطین اور کشمیر میں مذہب کے نام پر لاکھوں جانیں لے لی گئیں اور لی جا رہی ہیں۔

قتل و غارت کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ دنیا کے وہ انسان جو انسانی خون ہونے سے رنجیدہ ہیں، پریشان ہیں وہ سوچتے رہتے ہیں کہ مذاہب کو انسانوں کا دشمن بنا کر نفرتوں کی آبیاری میں کیا وہ مذاہب کو انسان دوستی ،امن و محبت اور بھائی چارے کے لئے استعمال نہیں کر سکتے۔1947ء میں جب انسان ایک دوسرے کا خون بہا رہے تھے۔ حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کر کے بچوں کو نکال کر قتل کیا گیا۔ حیوانیت کے اس دور میں ادیبوں، شاعروں، دانشوروں نے لکھا تو ان حیوان نما انسانوں میں آگ ٹھنڈی ہوئی۔

آج کشمیر اور فلسطین میں یہ آگ جل رہی ہے اور بے گناہ انسان اس میں جل رہے ہیں اور دنیا بھر میں جنگوں کی آگ بھڑکانے والے وہ شیطان ہیں جو انسانوں کی تقسیم چاہتے ہیں جو اپنا اسلحہ غریبوں اور پسماندہ ملکوں کو فروخت کرکے اربوں ڈالر کمانا چاہتے ہیں،ان انسان دشمنوں کی ایک ہی خواہش ہے کہ کسی طرح ان کا اسلحہ فروخت ہوتا رہے، ان کا اسلحہ کشمیر میں استعمال ہو رہا ہے۔ فلسطین میں استعمال ہو رہا ہے۔ ایک انسان کسی نہ کسی طرح دوسرے انسان کا خون بہا رہا ہے۔

پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کشمیر کا ایشو ہے جب تک کشمیریوں کو ہندوستان آزادی نہیں دیتا، پُرامن طریقے سے کشمیریوں کو حق رائے دہی نہیں دیتا۔ اس خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا ،چونکہ ہندوستان نے اسلحہ کے زور پر کشمیریوں کو محکوم بنا رکھا ہے اور پاکستان نے پہلے دن سے کشمیریوں کی آزادی کے لئے جدوجہد شروع کر رکھی ہے۔

اس جدوجہد کے نتیجے میں ہندوستان کی سابق وزیراعظم اندرا گاندھی نے پاکستان کے دوٹکڑے کروائے۔ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

حالانکہ ہندوستان میں بے شمار علیحدگی پسند تحریکیں چل رہی ہیں، جن میں سکھوں کے علیحدہ وطن کا مطالبہ شامل ہے۔ ہندوستان اپنے اندر کے فساد کو دبانے کے لئے پاکستان کے ساتھ گاہے بگاہے چھیڑ چھاڑجاری رکھتا ہے اور دنیا میں چند ملک اپنے ملکوں کی اسلحہ انڈسٹریز کوچلانے کے لئے مختلف ملکوں کے درمیان جنگیں شروع رکھتے ہیں اور یہ تمام جنگیں خصوصاً مسلمان ملکوں کے درمیان جاری ہیں،اگر ہندوستان کشمیری مسلمانوں کو حقِ خود ارادیت دے دیتا ہے تو پھر خطے میں امن قائم ہو سکتا ہے۔

پاکستان کے ساتھ افغانستان ہمسایہ ملک ہے۔ اس کے ساتھ پاکستان کا کوئی سرحدی تنازعہ نہیں ہے۔ افغانستان پر امریکی حملے کی وجہ سے لاکھوں افغان مہاجرین کئی سالوں سے پاکستان میں رہ رہے ہیں، بلکہ انہوں نے قانونی اور غیر قانونی طریقوں سے پاکستان کے مختلف شہروں میں بڑی بڑی جائیدادیں بنا لی ہیں اور بڑے بڑے کاروبار کے مالک ہیں، بے شک ان مہاجرین کی وجہ سے پاکستان میں امن و امان کے بہت مسائل پیدا ہو چکے ہیں۔ بہرحال یہ آہستہ آہستہ ٹھیک ہوتے رہیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -