کارکن کو عزت دو

کارکن کو عزت دو
کارکن کو عزت دو

  

یہ سیاسی کارکن کس چڑیا کا نام ہے؟ اس کا کام کیا ہے؟ اس کا معاوضہ کیا ہے؟ اس کی ترقی اور تنزلی کیسے ہوتی ہے؟ سیاسی کارکن کی معاشرے میں کیا ضرورت ہے؟ کیا کارکن سیاسی جماعتوں کے لیے ناگزیر ہیں؟ یہ سیاسی جماعتیں اپنے کارکنان کو کیا مقام دیتی ہیں؟ ۔۔۔ اس تحریر کی ضرورت اس لیے پیش آئی ہے کہ کچھ عرصہ پہلے پاکستان کے ایک بڑے لیڈر اور 3 بار کے سابق وزیراعظم نے پاکستان میں "ووٹ کو عزت دو" کا نعرہ لگایا اور ووٹروں نے دیوانہ وار ان کا ساتھ بھی دیا، چنانچہ آن کی آن میں جی ٹی روڈ سے لے کر شہروں تک عوام کا اک جم غفیر امڈ آیا، لیکن اب ووٹر اور سڑکوں پر نکلنے والے عوام پوچھتے ہیں کہ ووٹ کی عزت کا کیا ہوا؟ کیا ووٹ کو عزت مل گئی؟ اگر نہیں ملی تو پھر سابق وزیر اعظم اور ان کی جماعت کی خاموشی سے یہ نتیجہ اخذ کیا جائے کہ کیا اس نعرے کے پیچھے کچھ اور محرکات پوشیدہ تھے؟ اسی طرح ایک زمانہ پہلے روٹی کپڑے مکان کا نعرہ بھی بہت مقبول ہوا تھا، لیکن ابھی تک بہت بڑی تعداد کو پیٹ بھرنے کو مناسب روٹی، جسم ڈھانپنے کو مکمل کپڑا اور سر چھپانے کو مکان میسر نہیں ہیں۔ اس کے بعد پھر ایک نیا نعرہ اور نئی تحریک اسلامی شریعت کا علم اٹھائے سڑکوں پر نمودار ہوئی جو آخر کار مارشل لاء پر منتج ہوئی اور قوم 11 سال تک یرغمال بنی رہی۔ اگر واپس حال میں آئیں تو ابھی تبدیلی کا نعرہ لیے دو کی جگہ ایک پاکستان قائم کرنے کے لیے پرانے ہتھیاروں کے ساتھ نئی حکومت معرض وجود میں آگئی ہے اور لوگ ایک بار پھر امید کی ایڑیاں اٹھائے دیکھ رہے ہیں کہ تبدیلی کہاں تک پہنچی ہے۔

پاکستان کے ان نعروں کی وباء آزادکشمیر کے ضلع بھمبر کو بھی اپنی لپیٹ میں لے آئی ہے۔ پچھلے دنوں " کارکنوں کو عزت دو" کا نعرہ مستانہ بلند ہوا، گو کہ اس نعرے کو عوام کی طرف سے کچھ خاص پذیرائی نہ ملی، شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ عوام یہ بھی نہ جانتے ہوں کہ کارکن کیا ہوتا ہے ۔۔۔ ’’ ایک دفعہ ایک دیہاتی عورت بس میں سوار ہونے لگی تو کنڈکٹر نے نعرہ لگایا کہ لیڈیز فرسٹ(Ladies First) تو وہ دیہاتی خاتون بولی لیڈیز کو گولی مارو پہلے ہمیں چڑھنے دو‘‘ ۔۔۔ سو ہمیں بھی پتا نہیں کہ یہ کارکن کس چڑیا کو کہتے ہیں۔

تو یہ خاکسار اس تحقیق میں پڑ گیا کہ کارکن کی تعریف ڈھونڈنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کبھی ہم نے ماسٹر احمد دین صاحب مرحوم و مغفور سے شہد کی مکھیوں کا تھوڑا سا علم سیکھا تھا، جس میں ایک ملکہ ہوتی ہے۔ جو انڈے دیتی ہے، اور کچھ مکھیاں کارکن ہوتی ہیں، باقی سب نکھٹو کہلاتی ہیں جو کچھ بھی نہیں کرتیں، لیکن جو کارکن ہوتی ہیں۔

سارا بوجھ ان پر ہوتا ہے۔ وہ باہر جا کر مختلف پھولوں سے رس چوس کر اپنے چھتے میں لاتی ہیں، جس سے شہد بنتا ہے، وہی کارکن مکھیاں اپنے چھتے اور چھتے میں موجود ملکہ اور نکھٹو مکھیوں کے دفاع پر بھی مامور ہوتی ہیں اور ہر طرح کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہیں۔ شہد کی مکھیوں کا حساب لگایا جائے تو کارکنان سے بڑھ کر کسی کا کام ہے، نہ ان سے بڑھ کر کسی کی عزت ہو سکتی ہے۔ کسی بھی فیلڈ میں کارکنان کا کردار بہت اہم ہوتا ہے، لیکن سیاست اور جمہوریت میں تو کارکنان ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔

جن ممالک میں جمہوریت اپنی روح کے ساتھ رائج ہے اور سیاسی جماعتیں کسی نظریے اور جمہوری اصولوں پر معرض وجود میں آتی ہیں، وہاں تو کارکنان کی اہمیت اور ان کے کردار سے کوئی انحراف نہیں کر سکتا۔ کارکنان ہی میں سے جماعتی سربراہ بنتے ہیں اور کوئی کارکن ہی وزیراعظم کی مسند پر بھی بیٹھتا ہے۔

اس کے لیے نہ تو کسی خاص حسب و نسب کی ضرورت ہوتی ہے، نہ اس کی سماجی حیثیت کی۔ نہ وہ کسی مخصوص سیاسی خاندان کا وارث ہوتا ہے، نہ کسی جاگیردار کا بیٹا یا بیٹی۔ اس بات کا اندازہ حال ہی میں نیوزی لینڈ کی خاتون وزیراعظم کے اقدامات اور ان کے رویے سے لگا سکتے ہیں۔۔۔ یا کینیڈا کے جواں سال وزیراعظم کے منتخب ہونے کے بعد مسجد، مندر جانے اور پورا دن ریلوے سٹیشن پر کھڑے ہو کر ہر خاص و عام سے بغلگیر ہونے کے مظاہر سے، کیونکہ دونوں شخصیات سیاسی کارکن ہیں اور اپنی محنت کے بل بوتے پر موجودہ مقام تک پہنچی ہیں۔ اب میں پھر واپس بھمبر کے سیاسی کارکنوں کو عزت دینے کے بیانیہ کی طرف آتا ہوں۔

یہ نعرہ لگانے والے سے پوچھنے کی جسارت کرتا ہوں کہ آپ کس سے کارکنان کی عزت کا مطالبہ کر رہے ہیں؟ اگر آپ کا اشارہ حکومت کی طرف ہے تو حکومت تو خود آپ کی ہے۔ اگر آپ سیاسی جماعتوں کی بات کر رہے ہیں تو کیا آپ کی جماعت اس پر عمل کر رہی ہے، چھوڑیئے جماعت کو بھی، ذرا اپنا جائزہ لیں کہ آپ نے اپنے کارکنان کو کتنی عزت دے رکھی ہے؟ آپ کے کارکنان میں سے آج تک کوئی انتخابات میں حصہ لے سکا یا کسی حکومتی عہدے تک پہنچ سکا ہے؟ کیا آپ اگلا الیکشن اپنے کسی کارکن کو لڑائیں گے؟ کیا آپ نے وزارت کے دوران بھی کبھی اپنے کارکنان کی عزت کی بات کی ہے؟ آپ کی خاطر تو بعض کارکنوں نے اپنی جان کے نذرانے بھی پیش کیے تھے۔

کئی ایک نے اپنے جسم پر گولیاں بھی کھائی ہیں۔ ان کو آپ نے اور آپ کی حکومت نے کتنی عزت بخشی ہے؟ آپ کی انتخابی مہم کے دوران نوجوانوں نے آپ اور آپ کی جماعت کے لیے جو کردار ادا کیا تھا، حکومت میں آنے کے بعد آپ نے پلٹ کر ان کی خبر لی ہے؟

جناب گستاخی معاف کارکن وہ ہوتا ہے جو آپ کی جماعت کے نظریے سے ہم آہنگ ہوکر آپ کا پیغام گھر گھر لے کر جاتا ہے نچلی سطح پر جماعت کی مضبوطی کے لیے کام کرتا ہے۔ پھر آگے چل کر انہی کارکنان میں سے کوئی جماعت کی باگ ڈور سنبھالتا ہے تو کوئی حکومتی عہدوں پر فائز ہو کر ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتا ہے، لیکن اس کے لیے سیاسی جماعتوں کا نظریہ اور جمہوری رویہ شرط ہے۔

چہ جائیکہ جماعتیں راتوں رات مقتدر اداروں کی مدد سے معرض وجود میں آجائیں۔ سیاسی کارکنوں کی تربیت کے لیے باقاعدہ بندوبست ہوتا ہے اور بلدیاتی ادارے سیاسی کارکنوں کی نرسری اور سکول ہوتے ہیں، جن کے انتخابات سے جناب کی حکومت مسلسل انکار کر رہی ہے، حالانکہ عام انتخابات میں آپ کی جماعت کے انتخابی منشور کا تیسرا نکتہ دسمبر 2016ء تک بلدیاتی انتخابات کا انعقاد تھا۔ جب تک آپ جماعت کی باقاعدہ ممبر سازی اور جمہوری اصولوں کے مطابق انتخابات کروا کر جماعتی عہدوں پر کارکنان کو موقع نہیں دیتے اور بلدیاتی انتخابات کا انعقاد نہیں کرتے اس وقت تک ’’ کارکن کو عزت دو‘‘ کا نعرہ گونگلوؤں سے مٹی اتارنے اور حکومت میں اپنی حیثیت بحال کرنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔

مزید :

رائے -کالم -