بھارتی حملے کا خطرہ؟

بھارتی حملے کا خطرہ؟
بھارتی حملے کا خطرہ؟

  

آج وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک نیوز بریک میں یہ انکشاف کرکے چونکا دیا ہے کہ انڈیا، پاکستان پر حملے کی پلاننگ کررہا ہے۔ انہوں نے باقاعدہ اس مبینہ حملے کی ممکنہ تاریخیں دی ہیں اور کہا ہے کہ یہ حملہ 16تا20اپریل 2019ء کے درمیان کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے۔۔۔ انڈین الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کا جو شیڈول جاری کیا ہوا ہے، اس کے مطابق یہ الیکشن 39دنوں میں مکمل ہوں گے۔۔۔11اپریل کو شروع ہوں گے اور 19مئی کو ختم ہوں گے۔۔۔23مئی کو گنتی کی جائے گی اور اسی روز نتائج کا اعلان کر دیا جائے گا۔

ہماری طرح انڈیا میں بھی ہر پانچ سال بعد جنرل الیکشنوں کا انعقاد ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے الیکشن ایک ہی دن شروع ہوتے ہیں اور اسی دن ختم ہو جاتے ہیں اور اسی شب نتائج آنے شروع ہو جاتے ہیں جبکہ انڈیا میں ایسا نہیں ہے۔

وہاں یہ عمل 5،6ہفتوں میں مکمل کیا جاتا ہے۔ ہندوستان کی آبادی ایک ارب 35لاکھ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کروڑوں لوگ ان ایام میں الیکشن کے منتظر ہوتے ہیں۔ اگر کوئی حکومت ان ایام میں اپنے جوہری اہلیت کے حامل حریف پر حملہ کرنے کا پلان بنائے تو خواہ وہ سرجیکل سٹرائیک ہی کیوں نہ ہو، بھارت کا انتخابی شیڈول تو درہم برہم ہو سکتا ہے۔

کیا بھارت یہ خطرہ مول لے گا کہ اس کی جنتا جو پانچ برسوں سے کسی نئی حکومت کی منتظر ہو، اس کو جنگ میں الجھا دے؟۔۔۔ اگر بھارتی وزیراعظم یا ان کی حکومت یہ سوچ، دل و دماغ میں پال رہی ہے تو کیا انڈین پبلک اپنی سرکار کی حمائت کرے گی؟۔۔۔ یہ ایک بڑا اہم اور مشکل سوال ہے۔ اس کا جواب اثبات میں دیا جا سکتا تھا اگر پاکستان، انڈیا پر حملہ کرنے کا پروگرام بنا رہا ہوتا۔

یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انڈین حکومت پلوامہ سٹائل کا کوئی ڈرامہ رچا کر الزام پاکستان کے سرتھوپ دے گی اور اس کو جواز بنا کر پاکستان پر حملہ کر دے گی۔ پاکستان نے تو پہلے بھی 27فروری کو جواب دے دیا تھا کہ اگر انڈیا کوئی ایسی ویسی حرکت کرے گا تو پاکستان خاموش نہیں بیٹھا رہے گا۔

بفرضِ محال اگر انڈیا، اپنے ہاں کوئی ڈرامہ کروا کر پاکستان پر حملہ کرتا ہے تو انڈین پبلک اتنی سادہ نہیں کہ وہ یہ حکومتی جواز تسلیم کرلے گی۔ اور ویسے بھی جب ایک بار طبلِ جنگ بج جاتا ہے تو مست قلندر ہونے / کرنے میں کوئی دیر نہیں لگتی۔ دوسرے لفظوں میں اگر جنگ کا بازار گرم ہوتا ہے تو الیکشنوں کا بازار ٹھنڈا پڑ جائے گا۔ میرا خیال نہیں کہ انڈیا اپنے ہاں کوئی ایسا بڑا حادثہ کروا کر اس حملے کا جواز پیدا کرے گا۔ اس نے 26فروری کو حملہ کرکے دیکھ لیا ہے کہ اس کے بعد پاکستان کا ردعمل کیا ہوا تھا اور عالمی قوتوں کا ردعمل کیا تھا۔

وزیرخارجہ نے اس پریس کانفرنس میں یہ کہہ کر اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کی کوشش کی کہ جب انڈیا نے 26فروری کو بین الاقوامی روائت کی نفی کرتے ہوئے بالاکوٹ پر حملہ کیا تھا تو دنیا کی بعض بڑی طاقتیں خاموش رہی تھیں۔ ان کا اشارہ صاف امریکہ کی طرف تھا۔ خود راقم السطور نے بھی 27فروری کو جو کالم لکھا تھا اس میں استدلال کیا تھا کہ جب تک انڈیا کو امریکہ کی اشیرباد اور تائید حاصل نہ ہو، وہ اتنا بڑا اقدام نہیں اٹھا سکتا تھا۔26اور 27فروری 2019ء کی درمیانی شب انڈیا نے جو فضائی حملہ کیا اس پر امریکی ردعمل ایک ’’پُراسرار‘‘ خاموشی تھی جس کا مطلب یہ تھا کہ امریکہ، بھارت سے پاکستان کے خلاف اگلا اقدام بھی کروانا چاہتا تھا۔

یہ اگلا اقدام جو 27فروری کو اٹھایا گیا وہ بھی فضائی حملہ تھا۔ عصرِ حاضر کی تمام جنگیں فضائی حملوں سے آغاز ہوتی ہیں، اس لئے نہیں کہا جا سکتا کہ اگر 27فروری کو انڈین ائر اٹیک کامیاب ہو جاتا اور پاک فضائیہ کا نقصان ہوتا یا پاکستان کی گراؤنڈ فورسز، بھارتی حملے کی زد میں آجاتیں تو دونوں ملکوں کے اگلے اقدامات کیا ہوتے۔ دونوں کے میزائل تیار تھے، دونوں نے اپنے ٹارگٹ منتخب کر رکھے تھے اور ’’بزن‘‘ کا حکم ملتے ہی نہ صرف فضا بلکہ زمین اور سمندر میں بھی ایک ہمہ گیر (اوورآل) جنگ شروع ہو سکتی تھی۔

یہ تو جب 27فروری کا انڈین منصوبہ ناکام ہو گیا تو امریکہ کو بھی ہوش آیا کہ ان تِلوں میں تیل نہیں رہا۔ چنانچہ اس نے ’’پلان بی‘‘ لانچ کیا اور دونوں ممالک کو صلح صفائی کی طرف ’’مائل‘‘ کیا۔

اگر اب انڈیا 16اور 20اپریل کے درمیان کوئی حملہ کرتا ہے تو پاکستان کی وہ آمادگی ء جنگ (War Preparedness) جو اس نے قبل ازیں ڈکلیئر کر رکھی ہے اس میں کوئی ڈھیل نہیں آئے گی۔ آپ نے یہ خبریں بھی دیکھی ہوں گی کہ پاکستان نے اپنے بحری جنگی جہازوں کو بھی مختلف ممالک سے واپس بلا لیا ہے۔ یہ جہاز ان ممالک میں معمول کی ایکسرسائزوں یا دوسری تقریبات میں حصہ لینے کے لئے گئے ہوئے تھے۔ اس موو (Move) کا یہ مطلب بھی لیا جا سکتا ہے کہ پاکستان کو اس مبینہ / ممکنہ حملے کا علم بہت پہلے سے تھا اور اس خدشے کے پیش نظر پاک بحریہ کے جہازوں کو واپس بلا لیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ گزشتہ دنوں ایک دو باتیں اور بھی ایسی رونما ہوئیں جو ہمارے وزیرخارجہ کے بیان کو سپورٹ کرتی تھیں۔ مثلاً آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا وزیراعظم سے ملنا اور پھر اسی ماہ کور کمانڈرز کانفرنس کے ایجنڈے پر ملک کی سلامتی کا سرفہرست ہونا۔۔۔ عین ممکن ہے وزیرخارجہ کی اس پریس کانفرنس کے بعد، کورکمانڈرز کی ایک اور خصوصی کانفرنس چند دن بعدبھی ہو اس میں اس خطرے (Threat) پر بحث کی جائے ۔ ویسے تو یہ مسئلہ قومی اسمبلی کے کسی سپیشل (اور ہنگامی) اجلاس میں بھی زیرِ بحث لایا جا سکتا تھا لیکن مقامِ افسوس ہے کہ اپوزیشن اور حکومت ایک ہی صفحے پر نہیں۔ اپریل کا یہ مہینہ اپوزیشن کے لئے ویسے بھی بھاری معلوم ہوتا ہے۔

اس کی گونج ہم ہر روز ٹی وی چینلوں پر سن رہے ہیں۔ اس لئے اگر صرف کابینہ، فوج اور وزیراعظم اس تھریٹ کو ڈسکس کرتے ہیں(اور اپوزیشن اس میں شریک نہیں ہوتی) تو یہ ملک کی بدقسمتی کے سوا کچھ اور نہیں۔

وزیرخارجہ کی یہ پریس کانفرنس سن کر آپ کے ذہن میں یہ سوال بھی اٹھ سکتا ہے کہ انہوں نے جو یہ 16سے 20اپریل کے پانچ دنوں میں ہندوستانی حملے کا خدشہ ظاہر کیا ہے، تو یہ خبر کہاں تک قابلِ اعتماد کہی جا سکتی ہے؟۔۔۔ دوسرا سوال یہ ہو گا کہ کیا انٹیلی جنس ذرائع سے حاصل ہونے والی خبریں اور معلومات مصدقہ ہوتی ہیں؟۔۔۔ اور اگر مصدقہ یا قابلِ اعتبار ہوتی ہیں تو ان کے اعتبار کا لیول کیا ہوتا ہے۔۔۔ آپ کے یہ سارے سوالات بجا ہوں گے لیکن یہ بھی دیکھئے کہ جب یہ انٹیلی جنس اتنے اونچے لیول پر ڈسکس ہو رہی ہے تو اس کا ماخذ بھی اتنے ہی اونچے لیول پر استوار ہو گا۔ رہا یہ سوال کہ اس انٹیلی جنس کا منبع کیا ہے تو اس بارے میں دنیا کی کوئی بھی حکومت 100% یہ نہیں کہہ سکتی کہ انٹیلی جنس ذرائع سے آنے والی ساری (یا بیشتر) خبریں قابلِ اعتبار ہوتی ہیں۔

اس سوال اور اس موضوع کو سمجھنے کے لئے آپ کو انٹیلی جنس کی تاریخ کا مطالعہ کرنا پڑے گا اور آئی ایس آئی اور را (Raw) کی تاریخ پڑھنی پڑے گی کہ ان اداروں سے ملنے والی خبریں (انٹیلی جنس) اعتبار و اعتماد کے کس درجے کی ہوتی ہیں۔ علاوہ ازیں دونوں ملکوں کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا ماضی کا ریکارڈ چیک کرنا پڑے گا۔ حصولِ انٹیلی جنس کے ذرائع اور منابع (Sources) تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔

ان ذرائع کی گوناگونی اور بوقلمونی کا عالم، ناگفتنی بھی ہوتا ہے اور گفتنی بھی۔آپ کے چوٹی کے کسی انٹیلی جنس ادارے کے رابطے دشمن اور دوست ملکوں سے یکساں اہم اور وقیع ہوتے ہیں۔

یہ ایک نہائت دلچسپ موضوع ہے اور اس پر اتنا تحریری مواد میسر ہے کہ آپ ساری عمر مطالعہ کرتے رہیں تو ختم نہیں ہوگا۔ جاسوسی ایک خطرناک اور مہم جویانہ موضوع ہے۔ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ آپ کے کس جاسوس نے آپ کو کس وقت دھوکا دینا ہے اور کس وقت کامیابی سے ہمکنار کرنا ہے۔۔۔

اب آپ یہی 16سے 20اپریل والی انٹیلی جنس کو ہی دیکھ لیں۔ کہا گیا ہے کہ ’’ہمیں بڑے قابلِ اعتماد اور باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ انڈیا ان 5دنوں میں پاکستان پر کسی نہ کسی طرح کا حملہ کرنا چاہتا ہے۔ جس جاسوس نے بھی یہ خبر آپ کو پہنچائی ہو گی اس کی صیانت و دیانت کا سارا گزشتہ ریکارڈ آپ کو دیکھنا پڑے گا۔ بعض اوقات یہ جاسوس (سورس) دشمن کے حکومتی عملے کا حصہ ہوتا ہے۔

مثلاً جب شاہ محمود صاحب نے یہ نیوز بریک کی ہے کہ 16سے 20اپریل تک کے ایام وہ ہیں جن میں انڈیا کی طرف سے ایک پلان شدہ حملے کا خطرہ ہے تو انڈیا بھی یہ سب کچھ دیکھ اور سن رہا ہے۔ اگر یہ اطلاع درست ہو تو دشمن کو سوچنا پڑے گا کہ اس کو پاکستان کے حوالے کرنے والا ’’غدار‘‘ کون ہے۔۔۔ بالعموم اس قسم کے حملوں اور جارحانہ اقدامات کا اصل سورس دشمن کے فوجی ہیڈکوارٹر کے ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ سے منسلک ہوتا ہے۔ انڈین آرمی میں اسی ڈائریکٹوریٹ سے جب کوئی خبر ’’پھوٹتی‘‘ ہے تو اس کے آفیسر اعلیٰ (DGMO) کو سوچنا پڑتا ہے کہ اس کے سٹاف میں وہ کون سا بھیدی ہے جس نے یہ لنکا ڈھایا اور یہ خبر لیک (Leak)کی ہے۔ دوسرے لفظوں میں شاہ محمود نے یہ انٹیلی جنس برسر عام کرکے انڈین ایم او ڈائریکٹوریٹ (M.O Dte) میں اگر تھرتھلی نہیں تو ہلچل ضرور مچا دی ہو گی کہ پاکستانیوں کو یہ ’’اطلاع‘‘ کس نے دی ہے۔

بعض اوقات اس طرح کی خبر لیک کرنے والا اپنے آدرش پر ایمان رکھتا ہے۔ مثلاً اگر انڈین ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ میں تعینات کوئی آفیسر جس کو حملے کی ان تاریخوں کا علم ہو گا وہ یہ بھی دیکھے گا کہ اگر اس کی فوج نے پاکستان پر حملہ کیا اور پاکستان نے بھی اس کا ترکی بہ ترکی جواب دیا تو باہمی تباہی کا سکیل کتنا ہولناک ہو گا؟۔۔۔ کیا یہ سکیل اس کے اپنے ملک اور اس کے عوام کے لئے تباہ کن نہیں ہو گا؟۔۔۔ کیا اس کو روکنا چاہیے؟۔۔۔ یہی وہ سوالات ہیں کہ جو کسی بھی صاحبِ دل انڈین آرمی آفیسر کے دل میں اٹھ سکتے ہیں جو اس حملے کی تاریخوں کا امین ہو۔۔۔ دنیا بھر کی جنگوں میں اس قسم کی لاتعداد مثالیں موجود ہیں کہ انہوں نے اپنی ہی جاسوسی کی اور دشمن کو ایسی اہم انٹیلی جنس بہم پہنچائی جس پر کوئی شبہ نہیں کیا جا سکتا تھا۔

آپ کو یاد ہو گا ابھی چند روز پہلے ہمارے ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک پریس کانفرنس میں اس خبر کی برملا توثیق کر دی تھی کہ پاک آرمی کے دو سینئر آفیسرز (ایک میجر جنرل اور ایک بریگیڈیئر) بھارت (یا کسی اور ملک کو) خفیہ معلومات پہنچاتے پکڑے گئے ہیں اور ان پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ (یہ آفیسرز حال ہی میں ریٹائر ہوئے تھے لیکن دونوں کے پاس جو معلومات تھیں وہ ریٹائر نہیں ہوئی تھیں۔۔۔ بعض انٹیلی جنس معلومات بڑی دیر کے بعد بھی ریٹائر نہیں ہوتیں!)

اس طرح کے مقدمات (Cases) کوئی انہونی بات نہیں ہوتے۔ ملک کا سائز کتنا بھی بڑا یا چھوٹا ہو، انٹیلی جنس اور کاؤنٹر انٹیلی جنس کے محکمے کے لوگ ان ممالک کی اہم ترین اور حساس ترین برانچوں، شعبوں اور اداروں میں موجود ہوتے ہیں اور جب تک ’’پکڑے‘‘ نہیں جاتے، اپنی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔

ممکن ہے انڈیا ہمارے وزیرخارجہ کی اس پریس کانفرنس کے بعد اس پلان کو ختم، معطل یا ملتوی کر دے جس کی تاریخوں تک کا ذکر ببانگِ دہل کر دیا گیا ہے۔ القصہ ہمیں خبردار رہنا پڑے گا کہ اگر دشمن 26فروری کے حملے کے لئے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرکے بالا کوٹ پر بمباری کر سکتا ہے تو 16سے 20اپریل کے درمیان بھی کوئی ایسی ہی بلنڈر ایک بار پھر دہرا سکتا ہے!

[اتوار 7اپریل 2019ء]

مزید :

رائے -کالم -