سخا کوٹ ، گرینڈ اصلاحی جرگہ کا مہنگائی اور ٹیکسوں کیخلاف14اپریل کو دھرنے کا اعلان

سخا کوٹ ، گرینڈ اصلاحی جرگہ کا مہنگائی اور ٹیکسوں کیخلاف14اپریل کو دھرنے کا ...

  

سخاکوٹ( نمائندہ پاکستان)گرینڈا صلاحی جرگہ تحصیل درگئی نے سوئی گیس ، بجلی کی لوڈ شیڈنگ،درگئی ٹمبر مارکیٹ کو لکڑی کی سپلائی کی بندش،مہنگائی، ملاکنڈ تھری رائیلٹی کو عوام کی بلوں میں ایڈجسٹ کرنے، ہری چند روڈ پر کام مکمل کرنے اور درگئی کی بجائے بٹ خیلہ میں یونیورسٹی کیمپس کے قیام کے فیصلے کے خلاف 14اپریل بروز اتوار سے درگئی بازار کے مین چوک میں پرامن دھرنا دینے کااعلان کردیا۔تفصیلات کے مطابق گرینڈ اصلاحی جرگہ تحصیل درگئی کے مشران جن میں صدر حاجی اکرم خان، جنر ل سیکرٹری مکرم خان صباء، ٹمبر مرچنٹس ایسوسی ایشن کے صدر حاجی مستان شاہ، حاجی امیراعظم خان، حاجی امیرزمان خان، نیازمحمد خان، عظیم اللہ بابو، محمدحسن ماما، سبحان شیرین خان، انجینئرگل فراز خان، اورنگزیب خٹک، ہمایون خان، حاجی فرید خان، امین اللہ خان، اسرار خان، پرویز خان، زیارت گل خان، حاجی خانزادہ خان و دیگر نے بمقام ٹمبر ایسوسی ایشن دفتر ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ تحصیل درگئی کے عوام سوئی گیس کے لوڈ شیڈنگ سے تنگ آگئے ہیں اگر ہمیں گیس نہیں دے سکتے تو اپنا سامان اٹھا لے ، کئی سالوں سے یہ مسئلہ حل نہیں کیا جارہا،پرمٹوں کے نام واپڈانے بجلی لوڈ شیڈنگ شروع کررکھی ہے اور ہرماہ کئی کئی دن پرمٹ لے کر بجلی بند کردی جاتی ہے ۔ ساتھ ہی دوپہر کو بجلی چالو کرنے کے بعد بھی معمول کی لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے جو نہ صرف ظلم ہے بلکہ عوام کی زندگی اجیرن بنانے کی مترادف ہے،ملاکنڈ ٹیکس فری زون ہے لیکن ہر قسم کی بلوں سے لے کرہر ایک چیز پر ٹیکس کی کئی کئی اقسام لاگو ہیں،مہنگائی نے عوام کا جینا حرام کردیاہے،ہری چند روڈ پر کئی سال گزرنے کے باوجود کام مکمل نہیں کیا جاتا،مین چوک درگئی بازار کے قریب کوٹ اڈہ میں عوام کو آنے جانے میں سخت مشکلات کا سامناہے ، سڑک کے اوپر سبزی اور فروٹ فروشوں نے اودھم مچایاہوتا ہے ۔ملاکنڈ تھری کی رائیلٹی جو یہاں کے عوام کا حق ہے کسی ایم پی اے اور ایم این اے کا نہیں کہ وہ جہاں چاہے کسی کی راستہ پختہ کرے اور کسی کو ڈنگہ یا سڑک بنا لے اسی رائیلٹی کو تحصیل درگئی کے عوام کے بجلی بلوں میں ایڈجسٹ کر لیاجائے تاکہ سب کو یکساں فائدہ پہنچ سکے،ایشیاء کی سب سے بڑی ٹمبر مارکیٹ کو ایک منظم ساز ش کے تحت ویراں کیاجارہاہے اور یہاں کے ہزاروں لوگوں کو بے روزگار کیا جارہاہے اوپر سے یہاں جو سرکاری ڈپو ہے اس کی اور اس کے چوکیداروں سمیت دیگر اخراجات بھی ٹمبر ایسوسی ایشن اپنی جیب سے دیتے ہیں جو صوبائی حکومت اور محکمہ فارسٹ فوری طور پر اپنے ذمہ لے لیں۔ساتھ ہی اس مارکیٹ کو ٹمبر کی سپلائی کی بندش ظلم ہے یہاں کے عوام کے منہ سے نوالہ چھینناہے فوری طور پر ٹمبر کی سپلائی بحال کی جائے،درگئی کیلئے منظورشدہ یونیورسٹی کو بٹ خیلہ میں لے جانے کی مذمت کرتے ہیں ، یہاں کے طلباء اور طالبات کے مشکلات کو دیکھتے ہوئے تحصیل درگئی میں یونیورسٹی یا یونیورسٹی کیمپس قائم کیاجائے۔ انہوں نے کہاکہ ان مسائل کے حل کیلئے ہم نے ہر در پر دستک دی لیکن کہیں سے بھی شنوائی نہ ہوسکی لہٰذا تحصیل درگئی کے تمام یونیون کونسلوں کے مشران نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیاہے کہ ان مسائل کے حل تک درگئی بازار کے مین چوک میں 14اپریل بروز اتوار سے احتجاجی دھرنا دینگے اور جب تک ان مسائل کو حل نہیں کیا جاتا اس وقت تک یہ احتجاجی دھرنا جاری رہے گا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -