فوڈ سیفٹی کا گھر میں قائم فیکٹری پر چھاپہ ،مضر صحت اشیاء خوردنی برآمد

فوڈ سیفٹی کا گھر میں قائم فیکٹری پر چھاپہ ،مضر صحت اشیاء خوردنی برآمد

  

پشاور(سٹی رپورٹر)خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے عوامی شکایات پر کاروائی کرتے ہوئے چمکنی کے علاقے ناصر پور میں گھر کے اندر واقع ملاوٹی مصالحے بنانی والی فیکٹری سیل کرکے آٹھ ہزار کلوگرام مضر صحت مصالحہ جات، سولہ سولیٹر مضر صحت، باسی و بدبودار تیل اور اسی کلو نان فوڈ گریڈ کلر برآمد کر لیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل کے پی فوڈ اتھارٹی ریاض خان محسود نے یہاں سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ جعلی و ملاوٹی مصالحوں کیخلاف کاروائیاں تیز کی گئی ہیں جبکہ صوبہ بھر ملاوٹی گروہ کی جڑیں کھوکھلے کردی گئی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ملاوٹ کا روزگار صوبے میں آخری سانسیں لے رہا ہے اور مصالحہ کریک ڈاون ملاوٹی روزگار کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔ ڈائریکٹر آپریشنز خالد خان خٹک کا کہنا ہے کہ عوامی شکایات سیل پر رات گئے معلومات موصول ہوئیں کہ چمکنی کے علاقے ناصر پور میں گھر کے اندر واقع فیکٹری کے اندر ملوٹی مصالحوں کی تیاری جاری ہے جبکہ مضر صحت رنگوں کا استعمال بھی کیا جاتاہے۔ اس پر ڈائریکٹر آپریشنز نے فوڈ سیفٹی افسران عدیل احمد اور شکیل احمد کو پولیس کے ہمراہ صبح چار بجے متعلقہ جگہ پر پہنچنے کے احکامات دی۔ دونوں افسران نے چاربجے ناصر پورمیں متعلقہ پولیس کی مدد سے کاروائی کا آغازکیاجہاں گھر کے اندر واقع مصالحہ فیکٹری سے آٹھ ہزار کلوگرام مضر صحت مصالحوں سمیت، سولہ سو کلوگرام باسی و بدبودار آئل اور اسی کلو نان فوڈ گریڈڈ کلر برآمد کرلیا گیا۔ فوڈ سیفٹی افسران کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی اسی مالک کے دو فیکٹریاں دو مختلف جگہوں پر سیل کردی گئی ہیں جبکہ اس دفعہ مشین اور دیگر آلات بھی قبضے میں لئے گئے ہیں۔ عدیل احمد کا تجزیہ ہے کہ مصالحہ روزگار میں ملوث ملاوٹی جگہ بدلتے رہتے ہیں اور اس کی اصل وجہ ان کا گندہ اور گناونا کاروبار ہے جس سے اکثر آس پاس کے لوگ تنگ آکر شکایات کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ لوگ نہ کاروبار رجسٹر کرتے ہیں اور نہ ہی پیکنگ کرتے ہیں کیونکہ یہ جگہ اور کاروبار بدلتے رہتے ہیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -