حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت قبل از گرفتار ی منظور۔ جعلی اکاؤنٹس ریفرنس کی پہلی سماعت ، دوملزم خوارتین کی وعدوہ معاف گواہ بننے کی درخواسدت، کیس کی سماعت 16 اپریل تک ملتوی

حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت قبل از گرفتار ی منظور۔ جعلی اکاؤنٹس ریفرنس کی پہلی ...

  

لاہور (نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس ملک شہزاد احمد خان اورمسٹر جسٹس مرزا وقاص رؤف پر مشتمل ڈویژن بنچ نے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز شریف کی عبوری ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرتے ہوئے نیب کو ان کی گرفتاری سے تاحکم ثانی روک دیا ہے،عدالت نے حمزہ شہباز شریف کی درخواست پر نیب سے 17اپریل تک تفصیلی جواب بھی طلب کر لیا ہے جبکہ حمزہ شہباز کو ایک کروڑ روپے مالیت کے مچلکے داخل کرنے کی ہدائت کی ہے،عدالت نے نیب سے استفسار کیا ہے کس مواد اور شواہد کی بنیاد پر حمزہ شہباز کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے گئے ہیں، فاضل بنچ نے اپنے عبوری حکم میں قرار دیاکہ حمزہ شہباز کی پہلی درخواست پر عدالت نے حکم دیا تھا کہ وارنٹ جاری ہونے کے بعد حمزہ شہباز کوگرفتاری سے کم ازکم10روز قبل آگاہ کیا جائے تاکہ وہ داد رسی کے لئے متعلقہ عدالت سے رجوع کر سکیں، درخواست گزار کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ اس عدالتی حکم کے باوجود نیب نے 5اور6اپریل کو انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی ،فاضل بنچ نے مزید قرار دیا کہ اب درخواست گزار حمزہ شہباز نے ضمانت کے لئے دوبارہ عدالت سے رجوع کیا ہے اور ان کی اس دوسری درخواست پر نیب کو نوٹس جاری کئے جاتے ہیں جو نیب کے وکیل نے وصول کر لئے ہیں،درخواست گزار کی ایک کروڑ روپے مالیت کے مچلکوں کے عوض عبوری ضمانت قبل از گرفتاری بھی منظور کی جاتی ہے۔اس سے قبل فاضل بنچ نے کیس کی سماعت شروع کی تو کمرہ عدالت لیگی کارکنوں اور راہنماؤں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا، فاضل بنچ نے مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کے شور پر ناراضی کا اظہار کیا اور قرار دیا کہ یہ مناسب نہیں ہے. حمزہ شہباز نے وضاحت کی کہ کارکنوں کوہم نے نہیں بلایا ،جس پرفاضل بنچ نے عدالت کا غیر متعلقہ افراد کو کمرہ عدالت سے باہر نکالنے کا حکم دیا،عدالتی استفسار پر نیب نے بتایا کہ اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کیخلاف تین کیسز ہیں. ان میں غیر قانونی اثاثے بنانے، صاف پانی کمپنی اور رمضان شوگر ملز میں قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے الزامات ہیں جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے نیب کے وکیل سے پوچھا کہ آپ نے کس کس کیس مین حمزہ شہباز کو گرفتار کرنا ہے، نیب کے وکیل نے جواب دیا کہ ابھی غیرقانونی اثاثے بنانے کے الزام میں وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے ہیں،حمزہ شہباز کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے حکم دیا تھا کہ حمزہ شہباز کو گرفتاری سے دس دن پہلے گرفتاری کی وجوہات سے آگاہ کیا جائے گا. وکیل نے افسوس کا اظہار کیا کہ نیب نے عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی کی اور متواتر دو دن گرفتاری کیلئے چھاپے مارے ،حمزہ شہباز کو گرفتاری کا خدشہ ہے اس لیے ان کی ضمانت منظور کی جائے ۔نیب کے وکیل جہانزیب بھروانہ نے حمزہ شہباز کی درخواست کی مخالفت کی اور سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت ملزم کو گرفتاری سے پہلے اسے آگاہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں،حمزہ شہباز کی پہلی درخواست ضمانت پر عدالتی حکم غیر موثر ہو چکا ہے،اسی معاملے پر سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا، عدالت نے کہا کہ دونون معاملے الگ ہیں، وہ مرحلہ گزر چکا ہے اور اب درخواست گزار نے ضمانت کے لئے نئی درخواست دائر کی ہے. اس پر نیب اپنا موقف دے ، فاضل بنچ نے ہدایت کی کہ حمزہ شہباز کی عبوری درخواست ضمانت کا شق وار اور جامع جواب دیا جائے،نیب کے وکیل نے کہا کہ حمزہ شہباز کو تین بلین کی رقم منتقل ہوئی ہے ، نیب کی طرف سے خدشہ ظاہر کیا گیاکہ حمزہ شہباز ریکارڈ میں ہیرا پھیری کریں گے اس لیے ان کی گرفتاری ضروری ہے،نیب کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ حمزہ شہباز کے خلاف اربوں روپے کی ٹرانزیکشنز کے ثبوت ملے ہیں، حمزہ شہباز نے نیب کے ثبوتوں کا کوئی جواب نہیں دیا، حمزہ شہباز کے وکیل نے کہا کہ نیب ہمارے خلاف شواہد ہمیں دے، ہم جواب دے دیں گے، حمزہ شہباز کے وکیل نے مزید کہا کہ درخواست گزار کونیب کی جانب سے انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور انہیں مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے۔وہ بے گناہ ہیں،نیب کے ساتھ مکمل تعاون کے باوجود وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں، حمزہ شہباز کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کی جائے۔ عدات نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے نیب سے تفصیلی جواب طلب کر لیا، اس کیس پر مزید کارروائی 17 اپریل کو ہوگی۔ آیندہ تاریخ سماعت پر حمزہ شہباز دوبارہ عدالت میں پیش ہوں گے۔یاد رہے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے 6اپریل کو حمزہ شہباز کی متفرق درخواست پر ان کی 8اپریل تک حفاظتی ضمانت منظور کی تھی،حمزہ شہباز شریف کی پیشی کی وجہ سے لاہور ہائی کورٹ میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کے تحت پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی تھی جبکہ نیب اہلکار بھی عدالت عالیہ کے تمام داخلی اورخارجی دروازوں پر موجود تھے۔ عدالت عالیہ کے باہر اور احاطہ میں مسلم لیگ (ن) کے راہنمااورکارکن بڑی تعداد میں موجود تھے،کارکنون نے اس موقع پر شدید نعرے بازی کی جس پر ان کی سیکیورٹی اہلکاروں سے تکرار بھی ہوئی،ہائی کورٹ پہنچنے والے لیگی راہنماؤں میں سابق وزیر پرویز ملک،رانا مشہود احمد خان،خواجہ احمد حسان،ایم پی اے رابعہ فاروقی، ملک احمد خان اور ایم این اے ریاض الحق شامل تھیدریں اثناقومی احتساب بیورو نے پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف و مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما حمزہ شہباز کو کل بدھ طلب کرلیاجبکہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو بھی آج بروز منگل کو طلب کیا گیا ہے ۔ حمزہ شہباز کو 10 اپریل کو آمدن سے زائد اثاثے رکھنے پر طلب کیا ہے۔اس سے قبل نیب نے 2 بار حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے ان کے ماڈل ٹاؤن والے گھرمیں چھاپہ مارا لیکن دونوں بار نیب اہلکاروں کو گرفتاری کے بغیر ہی واپس جانا پڑا۔ نیب نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف و مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو بھی آج بروز منگل 9 اپریل کو رمضان شوگر ملز کیس میں طلب کیا گیا ہے۔سپریم کورٹ ،شہباز شریف اور فواد حسن کی رہائی کیخلاف نیب اپیلوں کی سماعت (آج) ہوگی سپریم کورٹ آف پاکستان میں مسلم لیگ (ن)کے صدر شہباز شریف اور فواد حسن کی رہائی کیخلاف نیب اپیلوں کی سماعت آج ہوگی ۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی سمیت بیرون ملک دیگر قیدیوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوگی ۔ سابق ایم پی اے ثمینہ خاور کی جعلی ڈگری معاملے کی بھی سماعت ہوگی،ایل ڈی اے کی جانب سے پٹرول پمپس کی غیر قانونی الاٹمنٹ کیس ،لاہور میں بل بورڈز ہٹانے کے معاملے اور نجی ہسپتالوں کی خستہ حالی سے متعلق کیس کی سماعت ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق پاک ترک سکولز سے متعلق معاملہ ،معذور افراد کے حقوق سے متعلق کیس بھی (آج)منگل کو سنا جائیگا ،جسٹس عظمت سعید شیخ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ سماعت کرے گا۔نجی سکول فیس کیس کی سماعت ہوگی،چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بنچ سماعت کرے گا۔

حمزہ شہباز

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ،آئی این پی)احتساب عدالت نے سابق صدر آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سمیت 30ملزمان کے خلاف جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں دائر ریفرنس کی پہلی باضابطہ سماعت کی،نیب کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا کہ اس کیس میں ضمنی ریفرنس دائر کیا جائے گا جس پر سابق صدر کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے اعتراض اٹھایا کہ نیب آرڈیننس کے تحت ضمنی ریفرنس دائر نہیں کیا جا سکتا،فاروق ایچ نائیک نے عدالت سے سابق صدر اور ان کی ہمشیرہ کو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر حاضری سے استثنیٰ دینے کی استدعا بھی کی،ریفرنس میں ملزم نامزد کردہ دو خواتین نے عدالت کو بتایا کہ ہم وکیل کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتیں،ہمیں وعدہ معاف گواہ بنایا جائے، عدالت نے ان خواتین کو وعدہ معاف گواہ بننے کیلئے الگ الگ درخواستیں جمع کرانے کی ہدایت کر دی،عدالت نے غیر حاضر ملزمان کو 12 اپریل کو طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 16اپریل تک ملتوی کر دی۔پیر کو جعلی بینک اکانٹس کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے کی۔سابق صدرآصف علی زرداری ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سمیت دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔ پہلی سماعت پر ہی دو خواتین ملزمان کرن امین اورنورین سلطان نے موقف اختیار کیا کہ وہ وکیل کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتیں لہذا انہیں وعدہ معاف گواہ بنایا جائے۔ اس ضمن میں انہوں نے چیئرمین نیب کو بھی درخواست دے رکھی ہے۔وکیل صفائی کی جانب سے مخالفت پر جج ارشد ملک کا کہناتھا کہ وعدہ معاف گواہ بنانے کا اختیارچیئرمین نیب کا ہے۔سیکیورٹی انتظامات کو جواز بناتے ہوئے سابق صدر کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے آصف زرداری اور فریال تالپور کو حاضری سے استثنی دینے کی تجویز دی۔ سابق صدر کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سیکیورٹی کا سارا ماحول صرف آصف زرداری کیلئے ہے۔ استثنیٰ دیںے کی صورت میں یہ صورتحال نہیں ہو گی۔فریال تالپور کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ عدالت کسی محاصرے میں ہے۔ وکلا کو عدالت آنے سے روکا گیا۔ ایسی صورتحال میں ہم عدالت کی کیا معاونت کریں گے؟نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر نے کہا کہ جعلی اکانٹس ایف آئی اے کا کیس تھا جس میں نیب کی تفتیش ابھی جاری ہے۔ تفتیش مکمل ہونے پر ضمنی ریفرنس دائر کریں گے۔ ضمنی ریفرنس کی مخالفت کرتے ہوئے فاروق نائیک نے عدالت سے استدعا کی کہ استغاثے کو ضمنی ریفرنس دائر کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ کیس میں موجود خلا کو نیب ضمنی ریفرنس کے ذریعے دورکرناچاہتا ہے جس کی نیب آرڈیننس میں کوئی گنجائش نہیں۔نیب کی جانب سے ایف آئی اے کے تفتیشی افسر محمد علی ابڑو کو ریفرنس کا تفتیشی افسر مقرر کرنے پرعدالت نے ریفرنس کی فائل تفتیشی افسر کے حوالے کر دی۔تفتیشی افسرنے بتایا کہ جعلی اکاؤنٹس کیس میں ملزمان کی تعداد 30 ہو گئی ہے، سماعت میں 8 ملزمان خود پیش ہوئے جبکہ 6زیر حراست ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، 16 ملزمان عدالت میں پیش نہیں ہوئے جن میں سے 3ضمانت پر ہیں۔ غیر حاضر ملزمان کی جانب سے حاضری سے عارضی استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی۔دوران سماعت آصف علی زرداری نے ابتدا میں اپنی نشست پر بیٹھ کر دستخط اور انگوٹھے کے نشان ثبت کئے تاہم عدالت کے طلب کئے جانے پر وہ روسٹرم تک اٹھ کر گئے۔ عدالت نے کیس کی سماعت 16 اپریل تک ملتوی کردی گئی۔دوسری جانب احتساب عدالت نے غیر حاضر ملزمان کو 12 اپریل کو طلب کر لیا۔ آئندہ سماعت پرصرف غیر حاضر ملزمان کی حاضری کیلئے سماعت کی جائے گی۔دوسری طرف نیب نے پنک ریذیڈنسی سے متعلق جعلی اکا ؤ نٹس کیس کا ایک اور ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کر دیا ۔ نیب ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے گلستان جوہر کراچی میں دو پلاٹ غیرقانونی طور پر ریگولرائز کراکے قومی خزانے کو تقریبا 4 ارب روپے کا نقصان پہنچایا ۔ ۔ پنک ریذیڈنسی سے متعلق اس نیب ریفرنس میں آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی ،،سیکرٹری لینڈ سندھ آفتاب میمن اور اومنی گروپ کے عبدالغنی مجید سمیت دیگر سات افراد کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ نیب ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزمان نے گلستان جوہر کراچی میں دو پلاٹ غیرقانونی طور پر ریگوکرائزکرائے جس سے قومی خزانے کو تقریبا 4 ارب روپے کا نقصان پہنچا ۔ ایک پلاٹ 23 ایکڑ اور دوسرا 7 ایکڑ کا ہے۔ نیب ریفرنس کے مطابق دونوں پلاٹس کے لیے ادائیگیاں جعلی بینک اکانٹس کے ذریعے کی گئی ۔رجسٹرار آفس میں اس نیب ریفرنس کی سکروٹنی کا عمل جاری ہے۔ ریفرنس کی جانچ پڑتال کے بعد اسے احتساب عدالت کے انچارج جج محمد بشیر کو بھجوایا جائے گا اوروہ اس ریفرنس کو سماعت کے لیے اپنے پاس رکھنے یا کورٹ ٹو منتقل کرنے کا فیصلہ کریں گے۔دوسری طرف اسلام آبادہائیکورٹ نے جعلی اکا ؤ نٹس کیس میں نمر مجید کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کر کرتے ہوئے 10 لاکھ کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیدیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جعلی اکا ؤ نٹس کیس میں نمر مجید کی ضمانت قبل ازگرفتاری درخواست کی سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے 2 رکنی بنچ نے سماعت کی ۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ نیب کی طرف سے ریفرنس دائرہو چکا، احتساب عدالت نے سماعت 16 اپریل کومقررکی ہے،ریفرنس کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں،عدالت نے نمرمجید کی درخواست پرفریقین کونوٹسز جاری کر دیئے اور نمرمجید کی عبوری ضمانت ایک ہفتے کیلئے منظور کر لی ،عدالت نے نمرمجیدکی 10 لاکھ کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرلی۔

جعلی اکاؤنٹس کیس

مزید :

صفحہ اول -