15اپریل سے نئی ایمنسٹی سکیم ، جس نے فائدہ اٹھاناہے اٹھا لے بعد میں چھپنے کیلئے جگہ نہیں ملے گی ، جیلوں میں ڈالنے کا کوئی فائد ہ نہیں: اسد عمر

15اپریل سے نئی ایمنسٹی سکیم ، جس نے فائدہ اٹھاناہے اٹھا لے بعد میں چھپنے کیلئے ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں) حکومت نے کالا دھن سفید کرنے کا آخری موقع فراہم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ 15 اپریل سے نئی ایمنسٹی سکیم متعارف کرائی جائے گی جس کا مقصد ملک میں صنعتی شعبے کو ترقی دینا ہے۔وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے وزیر اعظم کو ایمنسٹی سکیم پر بریفنگ دی جس کے بعد وزیراعظم نے اس کی منظوری دے دی ہے۔ منگل کو وفاقی کابینہ کو ٹیکس ایمنسٹی سکیم پر اعتماد میں لیا جائے گا جس کے بعد 15 اپریل کو صدرتی آرڈیننس کے ذریعے اس کا نفاذ ہوجائے گا۔وزیر خزانہ اسد عمرنے ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم لانے کا حتمی فیصلہ ہوگیا ہے ، اپنے تمام دوستوں کو برادرانہ مشورہ ہوگا کہ اس کو استعمال کرلیں پھر بعد میں شکوہ نہ کریں،وزیر خزانہ نے بتایا کہ لوگوں کو جیلوں میں ڈالنے کا کوئی فائدہ نہیں، اثاثے ظاہر کرنے کی ایمنسٹی سکیم ا لانے کا فیصلہ ہوگیا ہے لیکن یہ اسکیم اس وقت کامیاب ہوگی جب لوگوں کو یہ پتا ہوگا کہ سکیم جب ختم ہوگی تو اس کے بعد ان کے پاس چھپنے کی جگہ نہیں ہوگی لہٰذا اسکیم سے فائدہ اٹھائیں بعد میں جب چھپنے کیلئے جگہ نہیں ملے گی تو گلہ نہ کریں پاکستان میں کوئی بھی ٹیکس نہیں دینا چاہتا، ہم نے آئی سی یو میں لیٹے ہوئے مریض کا علاج کیا اور اسے وارڈ میں لے کر آگئے ہیں۔ پاکستانی معیشت کا بحرانی دور ختم ہوگیا ہے لیکن استحکام ابھی بھی نہیں آیا ، اگلا ڈیڑھ سال معیشت کو مستحکم ہونے میں لگے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت اثاثوں کی ڈیکلیریشن کیلئے ایمنسٹی سکیم متعارف کرا رہی ہے جس کا مقصد اثاثے ظاہرنہ کرنے والے لوگوں کو ایک موقع فراہم کرنا ہے، جو لوگ اس سکیم سے استفادہ نہیں کریں گے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ اپنے اثاثے ظاہر نہ کرے والے لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اثاثے ظاہر نہ کرنے والوں کے خلاف ایف بی آر اور معاون اداروں کے پاس موجود ڈیٹا کو بروئے کار لاتے ہوئے کارروائی کی جائے گی۔اس سے قبل اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو تین بڑے چیلنجز درپیش ہیں، بجٹ خسارہ، تجارتی خسارہ اور سرمایہ کاری کم ہونا، پاکستان اتنی برآمدات نہیں کرتا جتنی ضرورت ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ معیشت آئی سی یو سے نکل آئی ہے، ملکی معیشت کی بحرانی کیفیت ختم ہوگئی ہے اور اب ہم استحکام کے مرحلے میں ہیں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اتنی برآمدات نہیں کرتا کہ زرمبادلہ حاصل کرے، ہمارے پاس جو زرمبادلہ بچا تھا وہ اتنی تیزی سے نکل رہا تھا کہ اسے روکنے کے لیے مجھے مٹھی سختی سے بند کرنا پڑی۔۔انہوں نے کہا کہ 70 سال میں کئی ملک ہم سے آگے نکل گئے جن میں بنگلا دیش بھی شامل ہے، آج افریقا کے آدھے ممالک کی معیشت کی ترقی کی رفتار ہم سے بہتر ہے۔اسد عمر نے مزید کہا کہ اس وقت ہم صرف پرانے قرضے واپس کرنے کے لیے نہیں لے رہے بلکہ اس پر سود ادا کرنے کے لیے بھی لے رہے ہیں، سود کی ادائیگی کے لیے 800 ارب سے زیادہ قرض لیا گیا، ہم خطرناک حد سے بھی آگے چلے گئے۔ان کا کہنا تھاکہ 2003 میں ہماری برآمدات معیشت کے حجم کے ساڑھے 13 فیصد تھیں جو پچھلے سال 8 فیصد ہوگئی یعنی ہم ترقی کے بجائے تنزلی پر چلے گئے، ہمیں پچھلے سال 1900 ارب روپے کا خسارہ ہوا، یہی وجہ ہے کہ ہم دوست ممالک اور آئی ایم ایف کے پاس جاتے ہیں اور ہر ایک سے مدد مانگتے ہیں۔اسد عمر نے کہا کہ اگر صرف بلوچستان کے وسائل کا ٹھیک سے استعمال کرتے تو آئی ایم ایف کے سامنے نہ کھڑے ہوتے، آج بنگلا دیش ہم سے دو گنا، بھارت ڈھائی اور ترکی تین گنا زیادہ ترقی کر رہا ہے، ہمیں بھی وہاں پہنچنے کی ضرورت ہے۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ایف بی آر ٹھیک نہیں ہوگا تو پاکستان ٹھیک نہیں ہوگا، پاکستان میں سیونگز ریٹ دنیا کے کم ترین ممالک میں سے ہے، گزشتہ سال پاکستان کا سیونگ ریٹ 10 فیصد تھا، اگر پیسہ بچائیں گے اور سرمایہ کاری کریں گے تو آگے بڑھیں گے، چین اور بھارت کی ترقی کی وجہ سیونگ ریٹ کا زیادہ ہونا ہے۔انہوں نے کہا کہ معذرت کے ساتھ کوئی ٹیکس نہیں دینا چاہتا، اتنے سوال آپ بیٹی کا رشتہ دیتے ہوئے نہیں پوچھتے جتنے سوال ایف بی آر ٹیکس ریٹرن میں پوچھتا ہے اس لیے ٹیکس کی ادائیگی کے لیے آسانی پیدا کی جائے۔۔اسد عمر کا کہنا تھاکہ ہمارے بیرونی انفارمیشن کے ذریعے بہت بہتر ہوگئے ہیں، اب بے نامی اکاؤنٹس کے حوالے سے قانون کا نوٹی فکیشن کردیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے مصنوعی طور پر روپے کو طاقتور رکھ کر معیشت کا بہت نقصان کیا، روپے کی قدر بڑھاکر رکھنا مزدور، کسان اور سرمایہ کار پر ٹیکس ہے، ہم نے یہ نظام ختم کرنا ہے، ہمیں ایکسچینج ریٹ اسٹیبلٹی چاہیے۔ اسد عمر نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ حتمی مراحل میں ہے،صرف الیکشن کیلئے معیشت کے فیصلے کریں گے کوئی فائدہ نہیں ہو گا،ہمیں کہا گیا کہ فوری آئی ایم ایف کے پاس نہ گئے تو نقصان ہو گا،اب معیشت میں کرائسزکا دور ختم ہو گیا ہے اور معیشت استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے،جمہوریت سے متعلق بڑی باتیں کی جاتی ہیں لیکن عمل نہیں کیا جاتا،میثاق معیشت کی باتیں کی گئیں،پاکستان کی معیشت کے 3بنیادی چیلنجز ہیں،صرف الیکشن کیلئے معیشت کے فیصلے کریں گے کوئی فائدہ نہیں ہو گا،حکومت کے آغاز سے پہلے ہمیں اہم فیصلے کرنے کی ضرورت تھی،ہمیں آئی سی یو میں لیٹا ہوا مریض ملا تھا جس کا فوراً آپریشن کیا۔وزیر خزانہ نے بعد ازاں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی اور ایمنسٹی سکیم پر انہین بریفنگ دی ، ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے اصولی طور پر سکیم کی منظوری دیدی تاہم اس کا اعلان کابینہ کی منظوری کے بعد کیا جائے گا جبکہ ذرائع کا کہنا ہے حکومت اس سکیم کو صدارتی

مزید :

صفحہ اول -