فرحانہ بی بی کی عدم بازیابی کیس ،مردہ خانے تمام نعشوں کے ڈی این اے کا حکم

فرحانہ بی بی کی عدم بازیابی کیس ،مردہ خانے تمام نعشوں کے ڈی این اے کا حکم

  

لاہور (نامہ نگار خصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس سردارمحمد شمیم خان نے تین سال قبل اغوا ء ہونے والی21 سالہ لڑکی فرحانہ بی بی کی بازیابی کے کیس میں ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کو تمام ڈیڈ ہاؤسز میں پڑی خواتین کی لاشوں کا ڈی این اے کرانے کا حکم دیدیا ،عدالت نے پولیس کو ڈی این اے کراکے 15 جولائی کو رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیاہے،چیف جسٹس نے یہ حکم سی سی پی او لاہور کی درخواست پر جاری کیا۔ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب عبدالصمدنے عدالت کو بتایا کہ لاپتہ لڑکی فرحانہ کا خودکشی سے متعلق اپنے والد کو لکھا گیا خط سامنے آیا ہے، تفتیش کو آگے بڑھانے کے لیے ڈی این اے کرانے کی اجازت درکار ہے، چیف جسٹس نے مقامی شہری حبیب الرحمن کی لاپتہ بیٹی کی بازیابی کی درخواست پر نوٹس لے رکھا ہے،فاضل جج نے بلال گنج کے عثمان شاہ نامی جعلی پیر کو شامل تفتیش کرنے کا حکم بھی دے رکھا ہے ۔درخواست گزار کا موقف ہے کہ اس کی بیٹی فرحانہ بی بی کو پولیس تین سال گزرنے کے باوجود بیٹی کو بازیاب نہیں کراسکی جبکہ نامزد ملزمان ہاجرہ بی بی،ناصر ،عابد ودیگر کی ضمانت منظور ہوچکی،بیٹی کو بازیاب کروانے کا حکم دیا جائے۔

ڈی این اے

مزید :

علاقائی -